آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
میرے زیادہ تر کالم ملکی اور بین الاقوامی معاشی امور پر ہوتے ہیں لیکن حالیہ کچھ دنوں میں یکے بعد دیگرے پاکستان میں دہشت گردی کے 11 حملوں میں 150سے زائد جانوں کے ضیاع پر آج کسی اور موضوع پر کالم لکھنے کیلئے قلم ساتھ نہیں دے رہا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول پشاور کے بعد تمام سیاسی جماعتوں اور سول و عسکری قیادت نے دہشت گردوں سے نمٹنے کیلئے ’’آپریشن ضرب عضب‘‘ اور ’’کراچی آپریشن‘‘ پر اتفاق کیا تھا جس کے بعد ہماری مسلح افواج نے قبائلی علاقوں اور کراچی میں دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی مگر حکومت نے وہ انتظامی اقدامات نہیں کئے جو آپریشن کے بعد ضروری تھے جبکہ مختلف سیاسی وجوہات کی بناء پر نیشنل ایکشن پلان پر بھی مکمل طور پر عملدرآمد نہیں کیا گیا جس کے نتیجے میں آج ہمیں موجودہ حالات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
گزشتہ دنوں پاکستان میں دو بڑے واقعات پیش آئے جن میں لاہور میں ہونے والے حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان سے علیحدہ ہونے والے عسکریت پسند گروپ جماعت الاحرار نے قبول کی جبکہ سہون میں لعل شہباز قلندرؒ کے مزار پر خود کش حملے کی ذمہ داری داعش نے قبول کی جس کے تانے بانے افغانستان سے جاملتے ہیں۔ ان حملوں میں تقریباً 120 سے زائد افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھوبیٹھے جبکہ سینکڑوں زخمی ہوئے۔ دہشت گردی کے حالیہ حملوں

کے بعد فوج نے ملک بھر میں کومبنگ آپریشن کا آغاز کیا جس میں پہلے روز 100 سے زائد دہشت گرد ہلاک کردیئے گئے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے پاک افغان سرحد پر دہشت گرد تنظیم جماعت الاحرار کے ٹھکانوں پر بمباری کرکے تنظیم کے ڈپٹی کمانڈر عادل بادشاہ کے تربیتی کیمپ سمیت متعدد کیمپس تباہ کردیئے جبکہ پاک افغان سرحد کو ہر طرح کی نقل و حمل کیلئے بند کردیا گیا۔ اسی طرح آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے افغانستان میں متعین امریکی فوج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن سے افغانستان میں چھپے دہشت گرد گروپوں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ افغان سفارتخانے کے اعلیٰ حکام کو جی ایچ کیو طلب کرکے پاکستان کو مطلوب افغانستان میں چھپے 76 دہشت گردوں کی فہرست دے کر ان کی پاکستان حوالگی کا مطالبہ کیا گیا۔ سانحہ مال روڈ کے سہولت کار انوار الحق کے اعترافی بیان کہ وہ افغان تنظیم جماعت الاحرار کیلئے کام کرتا ہے، کی بنیاد پر مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے افغان قومی سلامتی کے مشیر حنیف اطمر سے جماعت الاحرار کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ کیا ہے جبکہ جماعت الاحرار کے 160 دہشت گردوں کی فہرست بھی افغان حکام کے حوالے کی گئی۔ ان اقدامات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت دہشت گرد حملوں کو افغانستان سے روکنے کیلئے کسی حد تک بھی جاسکتی ہے۔
یہ بات قابل ذکر ہے کہ پاکستان میں آپریشن ضرب عضب اور آپریشن آہنی ضرب عضب کے باعث زیادہ تر دہشت گرد، پاکستان سے افغانستان کے محفوظ علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں جہاں سے وہ پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کررہے ہیں۔پاکستان اور افغانستان کی سرحد 2430 کلومیٹر طویل ہے اور پہاڑی راستے ہونے کی وجہ سے اس کا کنٹرول نہایت مشکل ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق افغان حکومت کا افغانستان کے 47 فیصد حصے پر کوئی کنٹرول نہیں ہے۔ یہ علاقے افغان طالبان اور دیگر دہشت گرد تنظیموں کے قبضے میں ہیں۔ یہ اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں کہ داعش نے افغانستان میں اپنے تربیتی کیمپس قائم کئے ہوئے ہیں جہاں سے وہ مختلف جگہ دہشت گرد بھیجتی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ انٹرویو میں واضح کہا ہے کہ وہ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو محدود کرنے کیلئے بھارت کو استعمال کریں گے۔ بھارت نے پاکستان میں دخل اندازی کیلئے افغانستان میں 29 سفارتخانے کھولے ہیں جن کے ذریعے وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں سرگرم ہے۔ ان حالات میں پاکستان کو چاہئے کہ وہ امریکہ مخالف قوتیں روس، چین، ترکی اور ایران کے ساتھ اپنے تعلقات مزید مضبوط کرے۔ واضح ہو کہ افغانستان میں کوئی بحری بندرگاہ نہیں ہے۔ بین الاقوامی قوانین کی رو سے پاکستان نے افغانستان کو 2010ء میں زمینی راستے افغان ٹرانزٹ معاہدے (APTTA) کے تحت تجارت کی اجازت دی ہے جو بڑھ کر 2.5 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہے لیکن موثر انتظامی کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے افغان ٹرانزٹ ٹریڈ پاکستان میں اسمگلنگ کا ایک بڑا ذریعہ بن گئی ہے۔ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کی امپورٹ کی جانے والی 50 فیصد سے زیادہ اشیاء پاکستان اسمگل کی جاتی ہیں جس سے حکومت کو کسٹم ڈیوٹی کی مد میں اربوں روپے کا نقصان ہوا ہے۔حکومت کے کچھ اقدامات جس میں ٹریکنگ سسٹم شامل ہے، کے ذریعے اب افغان ٹرانزٹ ٹریڈ سے پاکستان اسمگلنگ میں کمی آئی ہے۔ افغانستان میں خانہ جنگی کی وجہ سے افغان مہاجرین کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان منتقل ہوئی اور اس وقت تقریباً 30لاکھ افغان مہاجرین پاکستان میں مقیم ہیں جو قومی خزانے پر ایک بوجھ ہیں لیکن پاکستان نے ہمسایہ مسلم ملک کے ناطے ہر مشکل وقت میں افغانستان کا ساتھ دیا مگر افسوس کہ افغانستان نے پاکستان کے احسانات کے بدلے بھارت سے دوستی نبھائی جس کا ایجنڈا بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی اور سی پیک منصوبوں کو روکنا ہے۔ اس تناظر میں مستقبل میں افغانستان اور پاکستان کے مابین امن معاشی ترقی کیلئے ایک اہم عنصر ہوگا۔
انسداد دہشت گردی کیلئے قائم کی گئی اتھارٹی نیکٹا (NACTA) کی ویب سائٹ پر جاری کئے گئے 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان میں پنجاب سمیت ملک بھر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن جاری رکھنا، دہشت گردوں کی سزائے موت پر عملدرآمد کو یقینی بنانا، دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے فوج کی نگرانی میں خصوصی عدالتوں کا قیام، اخبارات اور لٹریچر کے ذریعے اشتعال انگیزی پھیلانے پر پابندی، کالعدم تنظیموں کی سرگرمیوں اور ان کی مالی معاونت پر پابندی، کائونٹر ٹیررازم فورس کی تشکیل، مذہبی انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے مدارس کی رجسٹریشن، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے دہشت گردی روکنے کیلئے اقدامات کرنا، پنجاب میں کالعدم تنظیموں کی عسکریت پسندی پر مکمل پابندی، کراچی آپریشن کو حتمی انجام تک پہنچانا، بلوچستان حکومت کو سیاسی مفاہمت کے تحت اختیارات کی منتقلی، فرقہ وارانہ دہشت گردی کی روک تھام، افغان مہاجرین کی رجسٹریشن اور ان کی واپسی کی حکومتی پالیسی کا اعلان اور انسداد دہشت گردی کے عدالتی نظام میں اصلاحات جیسے اقدامات شامل تھے لیکن مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑرہا ہے کہ ایپکس کمیٹی کے ہر اجلاس میں نیشنل ایکشن پلان پر مکمل عملدرآمد کا اعادہ کئے جانے کے باوجود سیاسی مصلحتوں کے پیش نظر NAP پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد نہیں ہوا۔
گزشتہ دو سالوں میں حکومت اور فوج کی کاوشوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے حملوں میں نہایت کمی آئی تھی جس سے ملکی معیشت میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی مگر اب دوبارہ یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے حملوں نے عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کردیا کہ ان حملوں کے پیچھے دشمنوں کے کیا مقاصد ہیں اور دہشت گردی کو جڑ سے ختم کرنا حکومت کیلئے کتنا ضروری ہوگیا ہے۔ سی پیک منصوبوں کی کامیابی سے تکمیل کیلئے پاکستان میں امن و امان نہایت ضروری ہے جس کیلئے ملک بھر میں 20 نکاتی نیشنل ایکشن پلان پر دیانت داری سے عملدرآمد کرنا ہوگا۔ وزیراعظم نواز شریف سے درخواست ہے کہ وہ اپنے اعلان کردہ اہم ایجنڈے توانائی کے بحران اور دہشت گردی کے خاتمے کو اپنے موجودہ دور میں ہی پایہ تکمیل تک پہنچائیںتاکہ آپ کی جماعت آئندہ انتخابات میں ’’لوڈشیڈنگ اور دہشت گردی سے پاک پاکستان‘‘ کا نعرہ لگاکر عوام سے ووٹ مانگ سکے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں