• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اگر ہم کسی چھپکلی کی دم کاٹ دیں تو کچھ دنوں بعد وہ دوبارہ بن جاتی ہے لیکن اگر ہم کسی انسان کا ہاتھ کاٹ دیں تو وہ واپس نہیں بنتا۔ ایسا کیوں ہے؟اس ایک سوال نے سائنسدانوں کو ایک طویل مدت تک شش و پنج میں رکھا۔ حال ہی میں امریکہ کی ایریزونااسٹیٹ یونیورسٹی میں ٹرانسلیشنل جینومکس ریسرچ انسٹیٹیوٹ کے سائنسدانوں نے تین ننھے RNA سوئچ دریافت کئے ہیں(جنہیں مائیکرو RNAs کہا جاتا ہے) جو کہ چھپکلیوں میں اعضاء کی تخلیق نو کے عمل کو جاری کرنے اور بند کرنے کے ذمہ دار ہوتے ہیں۔ اس دلچسپ اور کارآمد دریافت کے بعد محققین اس تگ و دو میں ہیں کہ جینیات اور کمپیوٹر تجزئیے کی مدد سے ا نسانوں میں بھی اسی قسم (مائیکرو RNA) کے تخلیق نو کے جینز کو دریافت کر سکیں۔ مائیکرو RNA بیک وقت بہت سے جینز کو کنٹرول کرتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے ایک سازندہ موسیقاروں کے جھرمٹ کو اپنی ہدایات کے ذریعے کنٹرول کرتا ہے۔ سینکڑوں جینز ( جو زندگی کا ترانہ بکھیرتے ہوئے ’موسیقار‘ تصور کئے جاسکتے ہیں) کی نشاندہی کی گئی ہے جو کہ تخلیق نو کے عمل میں کارفرما ہیں۔ یہ چند مائیکروRNA سوئچ کے ذریعے ہمیںکنٹرول کرتے ہیں۔بلاشبہ یہ دریافت ایک نئے دور کا آغاز کرے گی جب کٹے ہوئے اعضاء کی تخلیق نو ہوسکے گی۔اس طرح مثال کے طور پر گھٹنے کی ہڈی دوبارہ بنائی جاسکے گی، ریڑھ کی ہڈی قابل مرمت ہوگی۔ اسٹیم سیل کے میدان میں بھی حیرت انگیز ترقی ہو رہی ہے اورtissue regenerationکے عمل کو سمجھنے کیلئے آجکل سائنسی دنیا میں کافی دلچسپی لی جارہی ہے۔ اسٹیم سیل دراصل بلاتفریق شدہ حیاتیاتی خلئیے ہوتے ہیں جو کہ ایک عمل ’’ تفرقـ‘‘ کے ذریعے مختلف عضو کے خلیات میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔یہ خلیات پھر مزید اسٹیم سیل میں تقسیم ہو سکتے ہیں۔اس طرح زخمی اور ٹوٹے پھوٹے خلیات کی مرمت کا ایک مؤثر طریقہ کار فراہم کر سکتےہیں۔ تیزی سے بڑھتے ہوئے جدیدطریقہ علاج میں اسٹیم سیل کا استعمال اب کثرت سے کیا جائے گا۔مثال کے طور پر لیوکیمیا خون کے سفید خلیوں کا سرطان ہے، اس موذی مرض کے علاج کیلئے ایک طریقہ یہ ہے کہ بیمار سفیدخلیوں کو تندرست خلیوں سے تبدیل کر دیا جائے۔ اس کیلئے مریض کی ہڈی کے گودے سے تندرست اسٹیم سیل کو ٹرانسپلانٹ کے ذریعے خون میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ اگر اس تبدیلی کا عمل کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ تندرست اسٹیم سیل مریض کی ہڈی کے گودے میں پہنچ کر غیر تندرست خون کے سفید خلیوں کی جگہ لے لیتے ہیں۔ اسٹیم سیل کی اب مصنو عی طریقے سے بھی افزائش کرنا ممکن ہے جنھیں بعد میں متفرق دل، جگر، گردے اور دیگر اقسام کے خلئیوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
’’ تجدیدی طبّ‘‘ کا شعبہ بھی کافی تیزی سے ترقی کر رہا ہے۔ اس شعبے میںtissuesاور اعضاء کی تبدیلی، انجنیئرنگ اور تخلیق نو شامل ہے تاکہ اعضاء اپنی صحت مند اور کام کرنے کی حالت میں واپس آسکیں۔ یہی نہیں بلکہ اگر ان نسیج یا اعضاء کے خلیے مریض ہی کے جسم سے حاصل کئے جائیں تو اعضاء کی منتقلی میں جسم کے مسترد کرنے کے امکانات انتہائی کم ہوجاتے ہیں۔ اسٹیم سیل کو اعضاء کی تشکیل نو کیلئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حال میں مصنوعی طریقے سے اعضاکی افزائش میں 3D حیاتی چھپائی (bioprinting) کی بدولت کافی تیزی آئی ہے۔ اس طریقہ کار میں 3Dچھپائی کی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے انسانی اعضاء بنائے جاتے ہیں۔ مثلاً انسانی جگر اور گردے اس نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے خلیئوں کی تہ در تہ چھپائی کے ذریعے تشکیل پاتے ہیں۔ یہ چھپائی اس وقت ممکن ہوئی جب پتہ چلا کہ انک جیٹ پرنٹر سے خلیوں کو کسی قسم کا نقصان پہنچائے بغیرچھڑکاؤ کیا جا سکتا ہے۔لہٰذا اس چھپائی کے ذریعے حاصل کردہ انسانی اعضاء اور نسیج انسانوں میں ٹرانسپلانٹ کے ذریعے منتقل کئے جا سکتے ہیں۔ نہ صرف اعضاء بلکہ ہڈیوں کے جوڑ، جبڑے کی ہڈی، اور رباط (ligament) بھی اب اسی طریقے سے حاصل کئے جاسکتے ہیں۔ ابتداء میں یہ چھپائی صرف جانوروں میں کامیابی کے ساتھ کی جا رہی تھی جس میں جانوروںکے کان، ہڈیاں اور پٹھوں کی حیاتی چھپائی کی جاتی تھی اور پھر ٹرانسپلانٹ کے ذریعے جانورں میں منتقل کیا جاتا تھا۔ حتی کہ مادہ چوہوں کے اندر (womb) بھی ٹرانسپلانٹ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد وہ حاملہ ہوئی اور بچے کو جنم دینے کے قابل بھی ہو سکی۔ بعض اعضاءحیاتی چھپائی کے ذریعے اب تک نہیں چھاپے جاسکے ہیں لیکن خون کی نالیاں تیار کی جاچکی ہیںاور ان کا ٹرنسپلانٹ بندروں میں کامیابی کے ساتھ کیا جا چکا ہے۔ اسی طرح انسانی جگر کےtissue کو حیاتی چھپائی کے ذریعے چھاپا جا چکا ہے اور اس کا کامیاب تجربہ مادہ چوہوں پر کیا جا چکا ہے۔ حیاتی چھپائی کےذریعے انسانی گھٹنوں کے گولے بنانے کیلئے بھی کافی کام کیا جا چکا ہے۔۔ حیاتی چھپائی کے ذریعے ان ہڈیو ں کی تبدیلی ایک انمول عطیہ سے کم نہیں ہوگی۔ انتہائی متحرک تحقیق کا ایک اور شعبہ انسانی جِلدکی چھپائی ہے جس کے ذریعے جلی ہو ئی اور زخمی جلد کی تبدیلی ہو سکے گی۔ اسکے علاوہ ایسی ٹیکنالوجی بھی دریافت کی گئی ہے کہ مریض کے اسٹیم سیل براہ راست جسم کے متاثرہ حصوں پر چھڑکے جا سکتے ہیں جہاں جلد کی ضرورت ہے اور پھر یہ اسٹیم سیل موافق حالات میں جلدی خلئے پیدا کرتے ہیں۔ اسی قسم کی تحقیق جگر، گردے اور دل کے نسیجوں کیلئے کی جارہی ہے تاکہ عطیہ دینے والوں کے طویل انتظار سے چھٹکارا حاصل کیا جا سکے۔
سوال یہ ہے کہ اتنی متحرک تحقیق کے بعد ہم کب تک ایک مکمل کا م کرتے ہوئے انسانی اعضا تیار کرنے کے قابل ہو سکیں گے جو کہ تجارتی بنیادوں پر دستیاب ہوں۔ تو جواب یہ ہے کہ حیاتی چھپائی کے ذریعے اگلے پانچ سے سات سالوں میں یہ ممکن ہو جائے گا۔
’’تجدیدی طبّ‘‘کے شعبے میں اسٹیم سیل کی شاندار تحقیق کی بدولت ایک بڑا انقلاب برپا ہو رہاہے۔ سب سے پہلے تواسٹیم سیل کی تحقیق کیلئے اول درجے کی سہولت، ڈاکٹر پنجوانی مرکز برائے سالمیاتی طب اور ادویاتی تحقیق PCMD جامعہ کراچی میں قائم کی گئی۔ یہ ادارہ بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی سائنسز کے زیر سایہ کام کرتا ہے جو کہ مشہور ایچ ای جے تحقیقی ادارہ برائے کیمیاسے منسلک ہے۔ یہ ادارہ پہلے ہی اپنی شاندار سائنسی مطبوعات کی وجہ سے بین لاقوامی شہرت کا حامل ہے۔ اب دوسر اہم ترقی کا منصوبہ جس پر کام ہو رہا ہے وہ یہ ہے کہ ٹرانسلیشنل تجدیدی طب کا ایک ادارہ PCMD میں قائم کیا جائے تاکہ پاکستان اس تیزی سے ابھرتے ہوئے جدید شعبے میں پیش پیش ہو سکے۔
اس قسم کے اقدامات صرف اسی وقت سماجی و اقتصادی ترقی کا سبب بن سکتے ہیں جب ایسا تحقیق کا ماحول تشکیل دیا جائے جو کہ مضبوط علمی معیشت کے قیام کو فروغ دے۔ مگر افسوس کہ پاکستان اپنی GDP کا صرف 0.3% حصہ سائنس اور صرف 2% حصہ تعلیم پر خرچ کرتا ہے۔ جس نے ہمارے ملک کو دنیا کے ان دس ممالک کی صف میں لاکھڑا کیا ہے جو تعلیم پر سب سے کم خرچ کرتے ہیں۔ یہ سب محض اس جاگیر دارانہ نظام کے مضبوط شکنجے کی وجہ سے ہے جو ہماری قومی جمہوریت پر ہاوی ہے۔ ہم صرف اور صرف اپنی اصل دولت،یعنی اپنی نوجوان نسل پر سرمایہ کاری کرکے ناخواندگی اور غربت کے دلدل سے باہرنکل سکتے ہیں اور دنیا میں اقوام عالم کی صف میں پروقار انداز سے کھڑے ہو سکتے ہیں۔

.
تازہ ترین