آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
برج الخلیفہ پاکستانی جھنڈے کے رنگ میں رنگ گیا۔ دوستوں میں سے کچھ دوست ممالک کی افواج پاکستان ڈے پریڈ میں شامل ہو ئیں۔ دہشت گردی کا عفریت منہ کھولے ضرور کھڑا ہے،اپنی موجودگی کا احساس بھی دلاتا رہتا ہے۔ مگر پارلیمنٹ میں قومی نمائندوں کا اس بارے میںیک زبان ہونا ایک سنگ میل ہے۔ لیکن یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جن مسائل کے حل کرنے کا ذکر کیا گیا یہ مسائل تو قیام پاکستان کے بعد وجود میں آئے۔ خارجہ سطح پر تنہائی کے احساس کو داخل دفتر کرنا ہو یا دہشت گردی کے خلاف عزم کا اظہار۔ پاکستان کا قیام ان مسائل کو حل کرنے کے لئے نہیں بلکہ کچھ دیگر مسائل کو باہر کی راہ دکھانے کےلئے عمل میں آیا تھا۔ وہ مسائل کیا تھے؟ برطانوی ہندوستان میں مسلمان بجا طور پر یہ محسوس کر رہے تھے کہ اگر کسی مئوثر آئینی انتظام کے بغیر اکثریت کو استبدادی طاقت بننے سےروک نہ سکے اوراگر انگریز چلے گئے تو نتائج پورے برطانوی ہندوستان میں بھیانک ہونگے جس سے مستقل تصادم اور خوف کی فضا قائم ہوگی۔ لہٰذا آئینی انتظام مسلمانوں کے ساتھ بیٹھ کر طے کر لیا جائے ورنہ جتنی تعداد کو اس سے محفوظ رکھا جا سکتا ہے محفوظ کر لیا جائے۔ ویسے تو اعلان آزادی کے بعد کے واقعات ہی اس نظریے کی تصدیق کرتے تھے کہ اگر معاملات کی چابی صرف اکثریت کے ہاتھ میں رہ جاتی تو

جہاں کہیں بھی اختلاف کیا جاتا نتائج بھگتنے پڑتے۔ یوگی ادیتیا ناتھ کا یوپی کے اقتدار کی مسند پر آ جانا ممکن ہے کچھ لوگوں کے لئے اچھنبہ کی بات ہو مگر جب کانگریس کی اندرا گاندھی کو گولڈن ٹیمپل کا صحن سکھوں کی لاشوں سے پاٹتا ہوتا دیکھتا ہوں تو واضح محسوس کرتا ہوں کہ مودی کی سرکار ہو یا کانگریس کی سب ایک ہی ہیں۔ ہندوستان میں آزادی کے وقت سے موجودہ قیادت تک درحقیقت ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ جو سکہ چلتا ایک ہی طرح ہے۔ لیکن اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ بھارت میں جو ہوا یا ہو رہا ہے اپنی جگہ اہم مگر پاکستان کے غیر مسلم شہریوں سے کیا ویسا ہی معاملہ رکھا جا رہا ہے کہ جیسا معاملہ رکھا جانا چاہئے۔ جو حقوق برطانوی ہندوستان میں مسلمان تعداد میں کم ہونے کے خوف سے مانگتے تھے کیا وہ حقوق پاکستان میں وطن عزیز کے غیر مسلم شہریوں کو ریاست کی جانب سے دیئے گئے۔ اس معاملے کی اہمیت اس بناپر مزید واضح ہو جاتی ہے کہ 3 جون 1947ء کو اعلان قیام پاکستان کے بعد قائد اعظم ؒ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ جو حقوق ہم مسلمانوں کے لئےمانگتے تھے وہ پاکستان میںغیر مسلم شہریوں کو دینگے۔ لیکن از حد افسوس کہ ان حقوق کا تو گمان بھی نہیں عمومی پسماندگی سے دو چار ان طبقات کو قومی ترقی میں اس طرح بھی شامل نہیں کیا گیا کہ جس طرح مسلم شہری شامل ہوئے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ معاملات اس حد تک دگرگوں ہوتے چلے گئے کہ اگر وزیر اعظم پاکستان ہندوئوں کی ہولی کی تقریب میں شرکت کرتے ہیں تو اس پر بھی ناک بھوںچڑھائی جاتی ہے۔ کھیل داس کی جانب سے منعقدہ تقریب میں جن خیالات کا اظہار وزیر اعظم نے کیا وہ ان سلگتے ہوئے مسائل کی جانب لگی لپٹی رکھے بغیر حقیقت حال کا درست ادراک کرنا تھا۔ گزستہ برس بھی وزیر اعظم اسی نوعیت کی تقریب میں آئے تھے اور اس دفعہ پھر ان کی آمد اس امر کی غمازی کر رہی تھی کہ ان معاملات پر قدم پیچھے ہٹانا مملکت کے مفاد میں نہیں ہوگا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ غیر مسلم پاکستانیوں کو مسائل سے نجات کیسے دلائی جائے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے پہلے غیر مسلم پاکستانیوں کی حالت زار کی حقیقی کیفیت کو جاننے کے لئے ایک پارلیمانی کمیشن فی الفور تشکیل دیا جائے۔ اس کمیشن کو وسائل مہیا کر کے پابند کیا جائے کہ یہ حالات کا ایک مقررہ مدت میں تعین کریں۔ بعض احباب اس تجویز کی اس بنا پر مخالفت کرتے ہیں کہ جیسے ہندوستان میں سچر رپورٹ آنے کے بعد ہندوستان میں اقلیتوں کی بدترین حالت منظر عام پر آ گئی اور ہندوستان کی سبکی ہوئی کہیں ویسا ہی پاکستان میں نہ ہو جائے۔ اول تو کبوتر کی مانند آنکھیں بند کرنے سے بچائو نہیں ہوا کرتا۔ جو حقیقت ہے وہ سب کے سامنے آنی چاہئے اور ہندوستان کی سبکی صرف اس سبب سے نہیں ہوئی تھی کہ یہ رپورٹ منظر عام پر آ گئی بلکہ اس بات پر ہوئی تھی کہ اس رپورٹ کے بعد ہندوستان میں مذہبی اقلتیں مزید مسائل اور پسماندگی کا شکار ہوئیں۔ پاکستانی کمیشن حالات کا جائزہ لے کر آئینی اور قانونی تجاویز تیار کرے اور یہ تو بہت ہی مناسب ہو گا کہ اگر اس پارلیمانی کمیشن کے تمام اراکین غیر مسلم ہوں۔ مردم شماری جاری ہے ۔ اس سے اس معاملے میں مزید فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے ۔ پارلیمانی کمیشن کو اس کا جائزہ لینا چاہئے کہ کیا سرکاری ملازمتوں میں غیر مسلموں کو ان کی تعداد کے مطابق حصہ مل رہا ہے۔ کیا ملکی دفاع اور قانون نافذ کرنے والے اداروں میں غیر مسلموں کی مئوثر نمائندگی موجود ہے۔ مالی اداروں میں کیا صورتحال ہے۔ جس تعداد میں پاکستان کے مسلمان شہریوں کو بنکوں نے قرضے جاری کئے ہیں کیا اس ہی تعداد میں غیر مسلموں کو بھی قرضے جاری کئے گئے۔ اگر ان میں سے کچھ سوالات کا جواب نفی میں آتا ہے تو آخر نفی میں کیوں آتا ہے۔ اس نفی کو مثبت میں بدلنےکے لئےپارلیمنٹ میں غیر مسلموں کی نمائندگی ضرور ہے مگر مشرف دور میں ان سے یہ حق چھین لیا گیا کہ وہ اپنے نمائندے خود منتخب کریں۔ ان کے نمائندے خود چننے کے حق کو بحال کیاجائے اور مسلم شہریوں کےساتھ عام حلقہ ہائے انتخاب میں رائے دہندہ اور منتخب ہونے کے حق کو برقرار رکھا جائے۔ اس حکومت اور پارلیمنٹ کا بینظیر کارنامہ ہو گا۔ اگر اپنی مدت کے خاتمے سے قبل وہ غیر مسلموں کی ترقی میں حائل رکاوٹوں کو آئینی اور قانونی اصلاحات کے ذریعے دور کر دے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو گوجرہ میں انسان جلتے رہیں گے۔ جوزف کالونی کے مکین دربدر ہوتے رہیں گے۔ اور کسی دہشت گرد ی کے حملے کے بعد کسی بیگناہ مسلمان کو بھی زندہ جلایا جاتا رہے گا کہ جس کے دھوئیں میں برج الخلیفہ پر پاکستانی پرچم مدھم دکھائی دے گا۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں