آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل17؍شعبان المعظم 1440ھ 23؍ اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پشاور(جنرل رپورٹر)خیبرپختونخوا حکومت نے گزشتہ تین سال کے دوران محکمہ تعلیم کے 704 ملازمین کو سروسز سےبرطرف جبکہ 79کو برخاست کیا ، اس دوران غیرحاضری پر مردوخواتین اساتذہ سمیت صوبہ بھر کے افسران سے ساڑھے 19 کروڑ روپے سے زائد جرمانہ وصول کیا  گیا، اس ضمن میں محکمہ ابتدائی و ثانوی تعلیم خیبر پختونخواکے جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق یکم جولائی 2013سے 28فروری 2017تک 167ملازمین کو جبری طورپر ریٹائر،77کو ڈی موٹ اور 458کی ترقیاں روکی گئیں، محکمہ نے تین سال کے دوران ڈیوٹی میں غفلت برتنے پر 11ہزار سے زائد افسران واساتذہ کی تنخواہوں سے 19کروڑ84لاکھ سے زائد روپےکی کٹوتی کی  ۔رپورٹ کے مطابق صوبہ بھر کے تمام اضلاع میں مرد اساتذہ کو غیر حاضری پر 8کروڑ 28لاکھ 88ہزار915روپے جبکہ خواتین اساتذہ کو 11کروڑ 55لاکھ91ہزار648 روپے جرمانہ کیا گیا ہے ۔ایبٹ آباد میں سب سے زیادہ اساتذہ غیرحاضر پائے گئے جن پر 5کروڑ 50لاکھ روپےسے زائد جرمانہ عائد کیا گیا جبکہ پشاور میں مرد و خواتین اساتذہ کو 2کروڑ 54لاکھ روپے جرمانہ کیا گیا، محکمہ کی جانب سے 3ہزار 21اساتذہ کو وارننگ دی گئی،برطرف ہونے والے اساتذہ میں 376مرد اور 354خواتین جبکہ برخاست ہونے والوں میں 56مرد اور 23خواتین اساتذہ شامل ہیں، جبری طور پر ریٹائرہونے والوں میں 108مرد اور 59خواتین، نیچے گریڈ میں

واپس بھیجنے والے اساتذہ میں 64مرد اور 13خواتین جبکہ 286مرد اور 172خواتین کی ترقیاں روکی گئیں۔ اسی طرح غیر حاضر اساتذہ میں 5ہزار213مرد اور 6ہزار333خواتین اساتذہ شامل ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں