آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ7؍ ربیع الاوّل 1440ھ 16؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہفتے کے دن 25مارچ 2017ء پاکستان بھر کے الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے ’’کرکٹ ورلڈ کپ‘‘ جیتنے کی خوشی میں، اس کی سلور جوبلی منائی جا رہی تھی۔ ورلڈ کپ جیتنے والے کھلاڑی اپنے کپتان کے ساتھ ’’جیو ٹی وی‘‘ پر رات دس بجے نمودار ہوئے، ان کے چہرے جوش و مسرت سے اس طرح دمک رہے تھے، جیسے فاتح ٹیم ورلڈ کپ اٹھائے ابھی اس کھیل کے میدان سے باہر آئی ہو، ورلڈ کپ کھیلنے والا سب سے کم عمر کھلاڑی بھی عمر عزیز کے پچاس برس گزار چکا ہے، لیکن ان کا جوش و خروش اور گفتگو ان کی یادوں میں بالکل تازہ تھیں۔ وہ بڑی بے تکلفی سے گزرے لمحوں کے پرجوش لمحات کو ایک دوسرے سے بانٹ کر خوش ہو رہے تھے۔ ایک سوال کے جواب میں فاتح ٹیم کے کھلاڑی عاقب جاوید نے کہا ’’میں کرکٹ کے تابناک ماضی پر خوش ہوں لیکن تشویشناک مستقبل مجھے پریشان کر دیتا ہے۔‘‘ باصلاحیت اور ذہین کھلاڑیوں کی موجودگی کے باوجود، ہمارا کھیل، عالمی منظرنامہ پر آج قابل ذکر بھی نہیں، ٹیم اسپرٹ، جیتنے کا عزم اور قیادت کا جوہر کہیں نظر نہیں آتا۔ ان سے پوچھا گیا کہ آپ کیلئے عالمی کپ کے یادگار لمحے کون سے تھے، وہ کون سا وقت تھا جب آپ میں ٹورنامنٹ کو جیت کا جوش اور ولولہ پیدا ہوا؟ تو اس نے عمران خان کی دس منٹ کی تقریر کو ٹرننگ پوائنٹ قرار دیا، جب انہوں نے اپنے اندر فتح کیلئے جذبہ اور یقین

پیدا ہوتے محسوس کیا، 25برس کے بعد بھی سب کھلاڑی خوش ہو رہے تھے، چہک رہے تھے، بہترین لمحوں کا ذکر کر کے خوش ہوئے مگر آج بھی اپنے کپتان کیلئے ان کا احترام دیکھ کے حیرت ہوئی تھی، وہ اب بھی اسے اپنے بڑے بھائیوں سے بڑھ کر احترام دیتے اور اس کے کردار اور خلوص کی تعریف کر رہے تھے۔ اجتماعی گفتگو کا خلاصہ یہ تھا کہ عمران خان کے غیرمعمولی احترام کی وجہ ان کا خلوص، کارکردگی، کھیل کی تکنیک پر عبور، پیش بندی اور پیش بینی کی غیرمعمولی حس، توانائی اور بے تحاشا محنت اس کی کرکٹ کی زندگی کے اجزائے ترکیبی قرار دیئے جا سکتے ہیں۔ جو انہیں اپنی ٹیم ہی نہیں مقابل کھلاڑیوں میں بھی ممتاز اور قابل احترام بنائے رکھتے، عام لوگوں کے خیال کے برعکس عمران خان خود رائے تھے نہ ڈکٹیٹر، نوجوان کھلاڑی غیرمعمولی احترام کی وجہ سے بات کرتے ہوئے جھجک محسوس کرتے لیکن اگر کوئی ہمت کر کے کوئی بات کہے یا مشورہ دے تو تھوڑا سوچنے کے بعد وہ اسے قبول کرتے یا پوری دلیل کے ساتھ متبادل رائے کا اظہار کرتے، کندھے میں تکلیف کی وجہ سے جب کپتان نے میچ سے دستبردار ہونا چاہا تو میاں داد انے کہا کہ اپنی تکلیف کی وجہ سے میچ نہ چھوڑیں، دوا لیں یا درد مٹانے والی کوئی چیز، بائولنگ نہ کریں بطور کپتان اور بیٹسمین ٹورنامنٹ میں شرکت کریں تاکہ کھلاڑیوں کا حوصلہ بندھا رہے اور وہ آپ کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں، تو عمران خان نے شدید تکلیف کے باوجود اس مشورے کو تسلیم کیا اور درد کش (Pain Killer) کھا کر میچ میں شرکت کی۔ حالانکہ ڈاکٹروں نے انہیں سختی سے منع کیا تھا، مستقل عارضے سے بھی ڈرایا لیکن نہ صرف اسی حالت میں ٹیم کا حصہ بنے بلکہ بہترین بیٹنگ کے ساتھ ساتھ حسب سابق بائولنگ بھی کرتے رہے۔ عاقب جاوید نے نے اپنا ذاتی تجربہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت جونیئر تھا، عمران بھائی سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی، کندھے کی وجہ سے وہ پوری کارکردگی شاید نہ دکھا پاتے، چنانچہ ہمت کر کے عمران بھائی سے کہا آپ بائولنگ نہ کریں، آپ کو مار پڑے گی، مجھے دس اوور پورے کرنے دیں۔ یہ بات کہہ دی، اب میں کسی ناخوشگوار ردعمل کا منتظر تھا کہ عمران بھائی نے کہا آپ کا مشورہ درست ہے، آپ ہی بائولنگ کریں۔ مشتاق نے بتایا کہ ایک میچ میں ناکام رہا تو کہا صرف بدقسمت رہے، ورنہ تم نے پانچ وکٹیں لینی تھیں۔ انہوں نے مجھے الزام دینے کی بجائے مدعا قسمت پر ڈال دیا۔ انضمام الحق نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا میں بالکل نیا تھا، اتنے بڑا ٹورنامنٹ کھیلا نہ ہی آسٹریلیا کی وکٹ کا کوئی تجربہ تھا، میں ون ڈائون کھیلتا تھا، لیکن مشکل ٹورنامنٹ میں عمران بھائی میری جگہ ون ڈائون کھیلنے کیلئے آئے اور اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ دراصل وہ مجھے تیز وکٹوں پر نئی گیند سے بچانا چاہتے تھا، عمران خان آئوٹ ہو کر باہر جا رہے تھے اور میں (انضمام الحق) گرائونڈ میں آ رہا تھا، قریب سے گزرتے ہوئے عمران بھائی نے کہا گھبرانا نہیں، اپنا نیچرل گیم کھیلو۔ میدان میں جاتے ہی میں نے ایک چوکا لگایا، ایک سنگل رن لے کر آئوٹ ہو گیا، میں بہت پریشان تھا، واپس آیا تو سینئر کھلاڑیوں کے تبصرے اور رویے سے میں باتھ روم میں جا کر رو پڑا، اب عمران بھائی کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں تھی اور بڑا نروس ہو رہا تھا، اچانک عمران بھائی سے سامنا ہوا تو انہوں نے کہا انضمام تم نے وہ کس قدر مشکل گیند کھیل کر شاندار چوکا لگایا، میرا خیال ہے تمہاری فارم واپس آگئی ہے، یہ کہہ کر وہ آگے بڑھ گئے، کم اسکور کا ذکر نہ جلد آئوٹ ہونے پر تبصرہ، کپتان کی اس بات نے مجھے بڑا حوصلہ دیا اور میرا اعتماد لوٹ آیا اور واقعی میری فارم بحال ہو چکی تھی۔ عمران بھائی میں وجاہت اور توانائی تو تھی ہی لیکن جو چیز سب کھلاڑیوں اور کپتانوں میں انہیں ممتاز کرتی ہے وہ یہ بات تھی کہ ’’وہ کبھی ہارنے پر مایوس اور فتح پر مغرور نہ ہوتے‘‘۔
نہ میں شاد شادی میں نہ غمگیں غم میں ہوں
میرا عالم اور ہے میں اور ہی عالم میں ہوں
عمران خان میں خلوص، توانائی، محنت کی عادت، قائل کرنے کی اہلیت تو بدرجہ اتم موجود تھی، اس کی شخصی وجاہت اور پروقار شخصیت ہر کس و ناکس کو اپنی طرف متوجہ کرتی، اس نے اپنی ان خوبیوں کو اپنی ذات کیلئے فائدہ اٹھانے کی بجائے، فلاحی کاموں کی طرف موڑ دیا۔ والدہ کی کینسر ایسے موذی مرض کے ہاتھوں وفات نے اس کی توجہ کینسر سے موذی مرض کی طرف مبذول کر دی اور اس نے اس خطرناک بیماری کے خلاف لڑنے کا فیصلہ کیا، شکست نہ ماننے کی فطرت اور مقابلے میں ڈٹے رہنے کا حوصلہ، حد سے بڑھی ہوئی خود اعتمادی نے اسے اس راہ پر لگا دیا، جس پر کوئی بھی چلنے کو تیار نہیں تھا، حتیٰ کہ پاکستان کی حکومت بھی، ماہر ڈاکٹروں نے بھی اس کے منصوبے سے اتفاق نہیں کیا لیکن وہ اپنے ارادے میں اٹل تھا، آخر اس نے کینسر اسپتال کے قیام کے ارادے کو پورا کر کے چھوڑا۔ ایک کے بعد دو، آج تیسرا کینسر اسپتال کراچی میں زیر تعمیر ہے، عمران خان کی طرف سے’’شوکت خانم اسپتال‘‘ قوم کیلئے نایاب تحفہ ہے، اس فلاحی اسپتال نے پاکستان کو دنیا بھر میں یہ ممتاز مقام دلایا کہ یہاں پر ستر فیصد مریضوں کا مفت علاج کیا جاتا ہے، اس طرح کہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو۔ ایک کے بعد دوسرا میدان، جو کام پاکستان کے سیاستدان اور فوجی سربراہ دس دس برس کے عرصہ اقتدار میں نہ کر سکے، وہ ایک تنہا شخص نے اپنی قوم کے تعاون سے کر ڈالا، یہاں پر عوامی خدمت کا دعویٰ کرنے والے سیاستدان تین اور چار دہائیوں سے اقتدار کے مزے لیتے رہے لیکن اتنی توفیق میسر نہیں کہ ملک میں ایک ایسا اسپتال بنا لیتے جہاں پر وہ پورے اعتماد سے اپنا علاج کروا سکتے یا ایک ایسی یونیورسٹی بناتے جہاں ان کے اپنے بچے بھی تعلیم حاصل کرتے۔
بعض لوگوں کی رائے میں عمران خان کو اپنی توجہ سیاست کی بجائے فلاحی منصوبوں پر ہی رکھنی چاہئے لیکن سیاست ہی دنیا میں سب سے بڑا فلاحی ادارہ ہے، کسی ریاست کو سیاست اور اقتدار کے ذریعے ہی فلاحی مملکت بنایا جا سکتا ہے۔ قوم کپتان کے ہاتھوں اس میدان میں بھی کسی بڑے معجزے کیلئے پرامید ہے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں