آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر2؍ربیع الثانی 1440ھ 10؍دسمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
1965اور 1971کی جنگوں کے ہیرو اور سابق گورنر سندھ ایئر مارشل (ر) عظیم دائود پوتا مختصر علالت کے بعد کراچی میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر 84برس تھی۔ ایئر مارشل عظیم دائود پوتا صرف نام ہی کے نہیں بلکہ عظیم شخصیت کے بھی مالک تھے۔ انہیںپاک بھارت جنگوں میں کارہائے نمایاں سرانجام دینے پر ہلال امتیاز (ملٹری) اور ستارہ جرأت سے نوازا گیا۔ ایئر مارشل عظیم دائود پوتا 14ستمبر 1933کو ممبئی (برٹش انڈیا) کے ایک تعلیم یافتہ خاندان میں پیدا ہوئے۔1951میں ڈی جے سائنس کالج سے تعلیم مکمل کی جس کے بعد رائل پاکستان ایئرفورس اکیڈمی رسالپور میں شمولیت اختیار کی اور مزید فضائی تربیت کے لئے آسٹریلیا بھیج دیئے گئے چارسال کی تربیت کے بعد پاکستان ایئر فورس میں واپس آگئے۔ 1961کی پاک بھارت جنگ کے دوران انہوں نے 11براہ راست حملوں اور 15ایئر ڈیفنس مشنز میں حصہ لیا ۔1983میں زمبابوے کے صدر کی خصوصی درخواست پر وہ ایئر فورس آف زمبابوے کے پہلے غیر مقامی کمانڈر مقرر کئے گئے، شاندار خدمات کے باعث زمبابوے کے صدر رابرٹ موگابے نے انہیں ملک کے دوسرے بڑے اعزاز زمبابوے آف برٹ سے نوازا، 1986میں انہیں پی آئی اے کا منیجنگ ڈائریکٹر تعینات کیا گیا۔ اکتوبر 1999سے 24مئی 2000تک سندھ کے گورنر بھی رہے۔ عظیم انسان عظیم محمد دائود پوتا جہد مسلسل کا ایک استعارہ تھے۔ ایک

قابل تقلید شخصیت ہونے کے ساتھ ان کا شمار ان جانبازوں میں بھی ہوتا ہے جنہوں نے اپنی پوری زندگی ملک کی سلامتی اور استحکام کے لئے وقف کردی تھی۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں ہے کہ یہ ہماری مسلح افواج کے جانبازوں کی قربانیوں ہی کا ثمر ہے کہ آج تک ہمارا کوئی دشمن ہمارے خلاف اپنے مذموم عزائم میں کامیاب نہیں ہوسکا ۔ نہایت ضروری ہے کہ ہم اپنی نئی نسل کو قوم کے ان عظیم سپوتوں کے کارنامے بتائیں تاکہ وہ ان کی تقلید کرسکے۔

.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں