آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ18؍رمضان المبارک1440 ھ24؍مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
اسلام آباد(بلال عباسی) پاکستان میں تعلیم کو فروغ دینے کے حوالےسے دعوے تو بہت کیے جاتے ہیں مگرآج بھی پاکستان میں5 سے 16سال کی عمر کے 2 کروڑ 26لاکھ بچے اسکولوں سے باہر ہیں، اسکول سے باہر رہنے والے لڑکوں کی تعداد ایک کروڑ 5 لاکھ جبکہ لڑکیوں کی تعداد ایک کروڑ 21 لاکھ ہے پاکستان میں تعلیم کے تازہ ترین 2015،16کے اعداد و شمار کےمطابق  پنجاب میں سب سے زیادہ99 لاکھ ، سندھ میں 67 لاکھ، خیبر پختونخوا میں 25 لاکھ، بلوچستان میں 19 لاکھ، جبکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 41 ہزار بچے اسکولوں سے باہر ہیں، پرائمری اسکولوں سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد 50 لاکھ ہےجس میں 20 لاکھ لڑکے اور 30 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں، مڈل اسکولوں سے باہر رہنے والےبچوں کی تعداد 64 لاکھ ہے جس میں 31 لاکھ لڑکے اور 33 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں، ہائی اسکولوں سے باہر رہنے والےبچوں کی تعداد48 لاکھ ہے جس میں23 لاکھ لڑکے اور25 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں جبکہ ہائر سیکنڈری اسکولوں سے باہر رہنے والےبچوں کی تعداد63 لاکھ ہے جس میں 31 لاکھ لڑکے اور32 لاکھ لڑکیاں شامل ہیں، سال 2012،13 میں اسکول سے باہر رہنے والے بچوں کی تعداد دو کروڑ 59 لاکھ ، سال 2013-14 میں دو کروڑ 47 لاکھ ، سال 2104-15 میں دو کروڑ 40 لاکھ تھی جو کہ سال 2015،16 میں دو کروڑ 26 لاکھ تک نیچے آ گئی ہے، پنجاب کے اسکولوں سے باہر رہنے والے

لڑکوں کی تعداد49 لاکھ ، لڑکیوں کی تعداد50لاکھ ہے، سندھ کے اسکولوں سے باہر رہنے والے لڑکوں کی تعداد32 لاکھ، لڑکیوں کی تعداد35لاکھ ہے، خیبرپختونخوا کے اسکولوں سے باہر رہنے والے لڑکوں کی تعداد8 لاکھ، لڑکیوں کی تعداد17لاکھ ہے جبکہ  بلوچستان کے اسکولوں سے باہر رہنے والے لڑکوں کی تعداد9لاکھ جبکہ لڑکیوں کی تعداد10لاکھ ہے، وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکے اسکولوں سے باہر رہنے والے لڑکوں کی تعداد21 ہزار جبکہ لڑکیوں کی تعداد19ہزار ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں