آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار 11؍جماد ی الثانی 1440ھ 17؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Baby Birth In Train With The Help Of Whats App
بھارتی شہر احمد آباد میں میڈیکل کے طالب علم وپن کھادسے نے ٹرین میں سفر کے دوران زچگی میں مدد فراہم کی،اس دوران طالب علم نے سینئرڈاکٹرز کے واٹس اپ گروپ میں صورت حال کو شیئر کیا اور ان کی ہدایات کی مدد سے زچگی کو آسان بنایا،زچہ اور بچہ دونوں خیریت سے ہیں۔

بھارت میں پیش آنے والے اس انوکھے واقعے کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ ناگپور سے تعلق رکھنے والا 24سالہ وپن کھادسے جوگورنمنٹ میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس فا ئنل ایئر کا طا لب علم ہے ، تاہم کوالی فائیڈ ڈاکٹر نہیں ہے، ناگپور سے چھتیس گڑھ جا رہاتھا اس کا کہنا ہے کہ ہماری ٹرین ناگ پورسے 30کلو میٹر دور تھی کہ چترا لیکھا نامی زچہ کے اہل خانہ نے اس کی طبیعت زیادہ خراب ہونے کی وجہ سے ٹرین کی زنجیر کھینچ دی اورکسی ڈاکٹر کی تلاش میں ادھر ادھر تلاش شروع کر دی، ٹرین کا ٹکٹ چیکر اور گارڈبھی اس کے اہل خانہ کی ڈاکٹر کی تلاش کے کام میں مدد کر رہے تھے۔

ابتدائی طور پر میں نے اس معاملے کو نظر انداز کردیا اور سوچا کہ ابھی میرا کوئی تجربہ نہیں ہے اور میں خود ابھی کوالی فائیڈ ڈاکٹر بھی نہیں،میں نے انہیں کوئی جواب نہیں دیاتاہم جب زچہ کی درد کے باعث چیخیں سنیں اور خون زیادہ بہہ جانے کے باعث اس کی تشویش ناک صورت حال کا اندازہ کیا تو میں نے ان کی مدد کا فیصلہ کیا اور اپنی خدمات ان کو پیش کردیں۔

ٹرین میں موجود لوگوں نے بھی اس موقع پر زچہ ،اس کے شوہر اور دیگر اہل خانہ کے ساتھ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ان کے ساتھ تعاون کیا اوراپنی نشستیں چھوڑ دیں اور کمپارٹمنٹ خالی کردیا،یوں ٹرین کا کمپارٹمنٹ ڈلیوری روم یا لیبر روم میں تبدیل ہوگیا۔

بچے کے سر اور شولڈر کی وجہ سے کیس انتہائی پیچیدہ بن گیاتھا ،اس صورت حال کے پیش نظر میںنےاس کا ذکر سینئرز ڈاکٹرز کے ایک واٹس اپ گروپ کو مطلع کیا،انہوں نے اس موقع پر میری بھر پور مدد کی اور واٹس اپ پر مسلسل میری راہنمائی کرتے رہے۔

چترا لیکھا نامی زچہ اور اس کا شوہر احمد آبادسے سوار ہو ئے تھے، یہ لو گ مزدورطبقہ سے تعلق رکھتے اور انتہائی غریب لوگ تھے جو راجپور سے چھتیس گڑھ جا رہے تھے ،وپن کھادسے نے مزید بتایا کہ خاتون بچےکو جنم دینے ہی والی تھی،میں نے اس صورت حال میں زچہ کی تصویر کھینچ کر سینئر ڈاکٹروں کے واٹس اپ گر وپ میں بھیج دی ، جہاں ایک سینئر لیڈی ڈاکٹر شیکھا ملک نے خاتون کی مدد کرنے میں میری رہنمائی کی اور میں نے فون پر ڈاکٹر کی مدد سے اس بچے کی پیدائش کو آسان بنانے کی کوشش کی۔

سینئر ڈاکٹرز جانتے ہیں کہ ایسے مو قع پر کس طرح زچہ کی مدد کی جا تی ہے اور ڈاکٹرکی اسی مہارت کے سبب مجھے ان کی گائڈینس ملی اور میں ڈیلیوری کو کامیاب بنانے میں سرخرو ہوا۔

جوں ہی ٹرین نا گپور اسٹیشن پہنچی تو ڈاکٹر وں کی ایک ٹیم فوراً ہی اس خا تون کی مدد کو آپہنچی اور مریضہ کو ریلوے کےاسپتال پہنچا دیا گیا ، اور وہاں اس کی دیکھ بھال کی گئی ،ادویات کی فراہمی کے بعد اسے مزید سفر کی اجازت کے ساتھ روانہ کر دیا گیا۔
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں