• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
پاکستان کے انتہائی جنوب مغرب اور دنیا کے سب سے بڑے تجارتی راستے پر واقع صوبہ بلوچستان کا شہر گوادر اپنے محل وقوع اور زیر تعمیر بندرگاہ کے باعث آج کل دنیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ 60کلومیٹر طویل ساحلی پٹی رکھنے والے شہر گوادر میں21ویں صدی کی تمام تر ضروریات سے آراستہ جدید بندرگاہ کی تعمیر سے اس کی اہمیت روز بروز بڑھتی جارہی ہے۔ یہ شہر کسی دور میں مچھیروں کی بستی کہلاتا تھا مگر آہستہ آہستہ کس طرح بین الاقوامی حیثیت اختیار کرگیا، اِس کیلئے ہمیں تاریخ کا مختصر جائزہ لینا ضروری ہے۔
گوادر کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ روایت کے مطابق اللہ کے برگزیدہ پیغمبر حضرت دائود علیہ السلام کے زمانے میں جب قحط پڑا تو ہزاروں لوگ وادی سینا سے ہجرت کرکے وادی مکران آگئے۔ سینکڑوں سال گزرنے کے بعد جب خلیفہ دوئم امیر المومنین سیدنا حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں مسلمانوں کی فتوحات کا سلسلہ بڑھتا چلا گیا تو مکران بھی اسلامی خلافت کا حصہ بن گیا تاہم بعد میں یہ علاقہ ایران کے حصے میں چلا گیا جسے 711ء میں مسلمان فاتح محمد بن قاسمؒ نے فتح کیا اور اس طرح سینکڑوں سال تک مکران مغلیہ سلطنت کا حصہ رہا۔ 1775ء میں مسقط کے حکمرانوں نے مکران کو اپنی ملکیت میں لے کر گوادر بندرگاہ کو عرب علاقوں سے وسط ایشیائی ممالک کی تجارت کیلئے استعمال کرنا شروع کردیا۔ 1861ء میں مکران کا یہ علاقہ برطانوی راج کے زیر تسلط آگیا اور گوادر بندرگاہ کو تجارتی مقاصد کیلئے استعمال کیا جانے لگا۔ 1947ء میں تقسیم برصغیر کے بعد جب پاکستان اور بھارت کے نام سے دو بڑی ریاستیں وجود میں آئیں تو گوادر اور گرد و نواح کے علاقے عمان کے زیر کنٹرول تھے تاہم قیام پاکستان کے 11سال بعد 1958ء میں صدر جنرل ایوب خان کی حکومت نے 10ملین ڈالرز کے عوض گوادر اور گرد و نواح کے علاقے مسقط سے خریدلئے۔
یہ امر دلچسپ ہے کہ گوادر کو عمان سے خریدنے کا فیصلہ اُس وقت کیا گیا جب 1954ء میں حکومت پاکستان نے امریکی جیولوجیکل سروے سے اپنی کوسٹ لائن کا سروے کروایا جس کی رپورٹ میں گوادر کے سمندر کو بندرگاہ کیلئے آئیڈیل سائٹ قرار دیا گیا اور حکومت پاکستان نے عمان سے طویل مذاکرات کے بعد 8 ستمبر 1958ء کو 10 ملین ڈالر کی خطیر رقم کے عوض200 سال تک عمان کے زیر تسلط رہنے والے شہر گوادر کو خریدنے کا معاہدہ کیا حالانکہ اُس وقت پاکستان کے سرکاری خزانے میں اتنی بڑی رقم موجود نہ تھی اور رقم کی ادائیگی کیلئے ملک کی بڑی شخصیات سے مدد لی گئی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ امریکی جیولوجیکل سروے کی رپورٹ کو انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا کیونکہ پاکستان کو یہ ڈر تھا کہ اگر عمان کو گوادر کے ساحلی علاقے کی اہمیت کا اندازہ ہوگیا تو شاید وہ اِسے فروخت کرنے پر آمادہ نہ ہو۔
گزشتہ دنوں فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز (FPCCI) نے گوادر چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے تعاون سے گوادر کے مقامی ہوٹل میں ’’پاک چین اقتصادی راہداری‘‘ پر سیمینار کا انعقاد کیا جس میں شرکت کیلئے فیڈریشن کے عہدیداروں کا اعلیٰ سطح وفد FPCCI کے صدر زبیر طفیل کی قیادت میں گوادر پہنچا۔ وفد میں میرے علاوہ ملک بھر کی 100سے زائد معروف کاروباری شخصیات شامل تھیں جنہیں پی آئی اے کی گوادر کیلئے یومیہ صرف ایک پرواز ہونے اور اس روٹ پر مسافروں کے رش کی وجہ سے چارٹرڈ فلائٹ کے ذریعے گوادر جانا پڑا جہاں ہمارا قیام گوادر کے فائیو اسٹار ہوٹل میں رکھا گیا۔ کراچی سے گوادر کا فضائی سفر تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پر محیط ہے جس کیلئے پی آئی اے نے ATR طیارہ مختص کر رکھا ہے۔ کم بلندی پر طیارے کے پرواز کرنے کے سبب کھڑکی سے گوادر کی ساحلی پٹی انتہائی دلفریب منظر پیش کررہی تھی اور شہر تین اطراف سے سمندر سے گھرا ہوا لگ رہا تھا جبکہ ارد گرد بلند و بالا چٹانیں دکھائی دے رہی تھیں۔
گوادر پہنچنے پر وفد کے اراکین کو گوادر پورٹ کا وزٹ کروایا گیا۔ اس موقع پر میرے ساتھ موجود کوسٹ گارڈ کے سابق کمانڈنٹ اور FPCCI کی گوادر ڈویلپمنٹ اینڈ پروموشن کمیٹی کے چیئرمین کرنل (ر) مقبول آفریدی نے بتایا کہ گوادر پورٹ پاکستان کو دیا گیا اللہ کا بہترین تحفہ ہے۔ اس پورٹ کی قدرتی گہرائی 18 میٹر ہے جسے 22 میٹر تک گہرا کیا جاسکتا ہے جبکہ خطے کی دیگر مشہور بندرگاہوں جبل علی، بندر عباس، چا بہار اور دوہا پورٹ کی گہرائی گوادر پورٹ سے انتہائی کم ہے۔ مقبول آفریدی نے بتایا کہ گوادر پورٹ کی تکمیل کے بعد برتھ کی تعداد 13 ہوجائے گی اور پورٹ پر 120جہاز لنگر انداز ہو سکیں گے جبکہ خطے کی سب سے بڑی اور مشہور پورٹ جبل علی پر صرف 70جہاز لنگر انداز ہوسکتے ہیں۔ زیر تعمیر گوادر پورٹ پر 70ہزار ٹن وزنی جہاز پہلے ہی لنگر انداز ہوچکا ہے جبکہ پورٹ کی تکمیل کے بعد یہاں ایک لاکھ ٹن کے جہاز لنگر انداز ہوسکیں گے جو خطے میں ایک ریکارڈ ہوگا۔
گوادر پورٹ چینی کمپنی ’’چائنا اوورسیز پورٹ ہولڈنگ‘‘ کے زیر انتظام ہے جو یہاں تیزی سے ترقیاتی کام کروارہی ہے۔ پورٹ کے وزٹ کے دوران یہاں چینی انجینئرز کی بڑی تعداد نظر آئی جن میں کچھ خواتین بھی شامل تھیں۔ ان چینی انجینئرز میں سے کچھ انجینئرز شلوار قمیض میں ملبوس تھے اور اردو زبان سے بھی بخوبی واقف تھے۔ گوادر پورٹ پر انڈسٹریل زونز بھی قائم کئے گئے ہیں اور مستقبل میں یہاں بڑی صنعتوں کا قیام متوقع ہے۔ پورٹ کے دورے کے بعد وفد کے اراکین کو گوادر شہر کا دورہ کرایا گیا۔ گوادر کی آبادی تقریباً ایک لاکھ نفوس پر مشتمل ہے جن میں سے بیشتر افراد کا گزربسر ماہی گیری پر ہے۔ پینے کے صاف پانی کی کمی، ناقص سیوریج نظام اور عمارتی سامان کی عدم دستیابی کے باعث گوادر میں نہ صرف پرائیویٹ سیکٹر بلکہ سرکاری سیکٹر بھی کوئی خاص کام شروع نہیں کیا جاسکا ہے جبکہ فائیو اسٹارہوٹل سمیت دیگر بڑے منصوبوں کے اطراف سڑکیں بہتر ہونے کے سوا شہر کے بیشتر علاقوں میں گلیوں، سڑکوں اور بازاروں کی حالت انتہائی خستہ ہے۔

.
تازہ ترین