آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ23؍ صفرالمظفّر 1441ھ 23؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
پاناما کے فیصلے پر سیاستدانوں کا غوغا اپنی جگہ!زندہ مگر بے روح اختیار مندوں سے مشال کی روح کا یہ سوال۔
لائو تو قتل نامہ مرا میں بھی دیکھ لوں
کس کس کی مہر ہے سرِ محضر لگی ہوئی
تاحال تشنہ جواب ہے۔ عمران خان سے لے کر مولانا فضل الرحمٰن تک سب کہہ رہے ہیں، سازش ہے، مگر کسی میں یہ جرات اظہار نہیں کہ وہ بتائیں کہ یہ سازش کس نے کی! مشال کے معنی چراغ کے ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ کوچہ علم سے جہانِ بقا کے سفر پر روانہ ہوتے ہوئے مشال خان اپنے نام کا جو استعارہ راہ عمل کی خاطر چھوڑ گئے ہیں، اس کی روشنی میں دور دور تک سب کچھ واضح، بہت واضح ہے۔ یہاں تک کہ ظلمتِ شب کی سیاہی بھی اُجالے کو شرمسار کرنے کی خاطر بے قرار ہے۔
خاکِ رہ آج لئے ہے لبِ دلدار کا رنگ
کوئے جاناں میں کھلا میرے لہو کا پرچم
شہید کا گائوں’ زیدہ‘ فرنگی استعمار کے خلاف جدوجہد کی یادگار ہے۔ہری پور جیل (جو ابھی زیر تعمیر تھی)میں پہلی موت جس قیدی کی ہوئی، وہ حکیم عبدالمقتدر باچا خان کے ساتھی اور اس گائوں کے باسی تھے۔ کہا جاتا ہے کہ باچاخان کی تحریک کے دوران ضلع صوابی بالخصوص اس کا یہ گائوں زیدہ سیاسی بلوغت، مذہبی رواداری اور پختونولی کے عظیم اصولوں کے حوالے سے پورے پختونخوا میں سب سے آگے تھا،لیکن آج کا نوحہ یہ ہے کہ اس روز یہ اعلان عام تھا ’’ مشال

کی نماز جنازہ کوئی نہیں پڑھائے‘‘ وہ باپ جس نے شعر و ادب کے ذریعے تمام عمر اپنے بچوں سے زیادہ بے کس و لاچار عوام کی آسودگی کے آدرشوں کو سینے میں پالا، خود بوڑھا ہوا، نئی سحر کی امنگوں کو مگر خونِ جگر دے کر جوان رکھا، مجبور کیا جا رہا تھا کہ وہ اپنے لخت جگر کو راتوں رات نماز جنازہ پڑھائے بغیر کسی بیابان کے کونے کھانچے میں سپردخاک کر ڈالے، لیکن استقامت کا یہ پہاڑ ڈٹا رہا۔ دن کے اجالے میںمشال کے والد اقبال کاکا ،کا اقبال تو مزید بلند ہوچکا تھا ، مگر پھر بھی کسی کو مظلوم کا ساتھ دینے کی اپنی روایت یاد نہ آ سکی۔ نشانِ عبرت بن جانے کا خوف ہرسو رقصاں تھا۔
ایسا سناٹا کہ شمشانوں کی یاد آتی ہے
دل دھڑکنے کی بہت دور صدا جاتی ہے
ایسے میں حضرت اقبال کا ایک ’’اصل‘‘ مرد مومن اور خوشحال خان خٹک کا ’’پختون‘‘ آگے بڑھتا ہے۔
ہر لحظہ ہے مومن کی نئی شان نئی آن
گفتار میں کردار میں اللہ کی برہان
ببانگ دہل اعلان کرتا ہے۔ ’’ نماز جنازہ پر کسی کا اجارہ نہیں،میں مسلمان ہوں، نماز جنازہ پڑھا سکتا ہوں، کوئی نماز نہیں پڑھاتا تو نہ پڑھائے، کیا ہم خود نماز، نماز جنازہ یا نکاح نہیں پڑھا سکتے،کیا ہم اس کیلئے کسی کے مجبور محض پیدا کئے گئے ہیں‘‘ یوں نماز جنازہ کا اہتمام ہوتا ہےاور لوگ جوق در جوق اپنے گھروں سے باہر آتے ہیں، کیفیت مگر ابھی بھی یہی تھی کہ جیسے لوگ قبروں سے باہر آ گئے ہوں، زندہ لاشیں! اس دوران پشاور ہائی کورٹ بار کے سابق صدر اور اے این پی کے مرکزی رہنما عبداللطیف آفریدی عمرِ رسیدہ کی پروا کئے بغیر خیبر سے تعزیت کے لئے پہنچتے ہیں، اس طرح یہ سلسلہ بھی دراز ہوا۔ یکایک میڈیا نے اپنے تئیں آپ پر لگائی گئی پابندی بھی اٹھا لی۔ وطن عزیز سمیت پورا عالم جاگ اٹھا۔ حقائق سامنے آنے لگے۔ پوری قوم جسدِ واحد بن کر مظلوم کے ساتھ آ کھڑی ہوئی۔
یہاں سوال تاہم یہ ہے کہ اگر ایک مردہ جسم کو بے لباس کرنے والوں کو فلک برہنہ نہ کرتا، پے در پے آنے والے شواہد، ثبوت و گواہیاں ابرِ رحمت بن کر نہ برستیں اور جنونی اسی طرح کانوں کو سماعت سے محروم کر دینے والے چیختے چنگھاڑتے نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھتے؟ تو پھر اس سیلاب کے آگے کون بند باندھتا؟ اِس قحط الرجال کا کیا نتیجہ نکلتا، سوائے اس کے کہ بے گوروکفن لاش سے صرف یہی صدا آتی۔
گلیوں میں میری نعش کو کھینچے پھرو کہ میں
جاندادہ ہوائے سرِ رہ گزار تھا
گائوں زیدہ صوابی کی تاریخی شخصیت عبدالعزیز خان کاکا، جنہوں نے1936-37ء کے انتخابات میں خدائی خدمت گار تحریک کے پلیٹ فارم سے مسلم لیگ کے سرکردہ لیڈر سر صاحبزادہ عبدالقیوم خان کو شکست سے دوچار کیا تھا، ان کے پوتے عبدالرحمن خان ہمارے دوست ہیں ، پختون اسٹوڈنٹس فیڈریشن سندھ کے صدر تھے، فون کیا تو پھوٹ پھوٹ کر روتے رہے۔ اس موقع کا ہر لمحہ سوزوگداز اور مایوسی کا غماز ہے۔ یہ صرف اس گائوں کا نوحہ نہیں ہے پورا پاکستانی معاشرہ دلدل میں جا پہنچا ہے اور کسی کو اس کا احساس ہی نہیں ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مشال خان کا پورا گھرانہ جینئس ہے، ہر فرد قبل از وقت فکر و ادراک کے رتبے پر فائز ہو جاتا ہے۔مشال خان کا قصور بھی یہی تھا کہ وہ نوجوانی میں وہ باتیں کرتا تھا جو انسان کو بوڑھا بنا دیتی ہیں۔ یہی اس قوم کا المیہ ہے کہ یہاں جاہل، رسہ گیر ، لٹیرےاور دین فروش معتبر اور صاحبِ دانش راندہ درگاہ…
یہی تو وہ گائوں ہے جس کا ایک نوجوان اُستادنثار محمد خان سائنس و ٹیکنالوجی کے ذریعے ستاروں پر کمند ڈالنے کی تلقین کیا کرتا تھا، لوگ اس کا تمسخر اُڑاتے۔ بالآخر قدامت پرست سماج نے جو علم سے عاری اوراس کی جستجو سے بیزار ہے، نثار محمد خان کو پاگل ڈیکلئیر کر دیا۔کمیونزم کے اول اول ایام تھے، وہ سوویت یونین (روس) جا پہنچا۔ لینن سے ملاقات کی ۔اسے تعلیمی امور سونپے گئے۔ نثار محمد خان کو روسیوں نے پولٹ بیورو کا رکن اور اپنا ’’نثاروف‘‘ بنا لیا۔ روسی اُنہیں اپنے لہجے میں پکارتے اور وہ اپنے آپ کو نثار محمد خان ہی کہتا۔ یاد رہے روس کی جانب سے 1988 میں خلا میں بھیجے جانے والے خلائی جہاز’میر‘ کے کیپٹن عبدالاحد مومند فرزندِ پختونخوا ہی تو تھے، جہاز میں خرابی کے وقت جنہوں نے زمین سے رابطہ کرکے اپنی والدہ سےپشتو گفتگو میں دعائوں کی درخواست کی تھی۔آج اگر عبدالاحد مومند بھی یہاں ہوتے، اور سائنسی رازوں سے پردہ اُٹھاتے تو سنگ باری وسگاں کے نرغے سے بچ نہ پاتے۔...بنابریں ایسے سماج میں کیا رونا آنسو بہانا، کیا لکھنا کیا سنانا۔ہاں... جنونیوں سے مگر یہ ضرور کہنا ہے۔
جب شہر کھنڈر بن جائے گا
پھر کس پر سنگ اٹھائو گے!



.