آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر21؍ صفر المظفر 1441ھ 21؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
انگریز جب ہندوستان آئے تو انہوں نے پختونوں سے بلا واسطہ رابطہ پیدا کرنے کیلئے ان کی زبان سیکھنے کی ضرورت محسوس کی اور نصابی کتب کے علاوہ زبان و ادب میں بھی دلچسپی لی۔دراصل یہ ایک نہایت گہری سیاسی مہم تھی ۔بیرونی طاقتیں اس خطے میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے میں دلچسپی رکھتی تھیں، روس بھی اس سلسلے میں پیش پیش تھا لیکن ا نگریزشاطر اس دوڑ میں سب سے آگے نکل گئے، تاہم کچھ انگریز مستشرقین ایسے بھی ہیں جنہوں نے خالص علمی اور ادبی لگن سے پشتو زبان میں دلچسپی لی۔فارغ بخاری کہتے ہیں ’’ اس حوالے سے میجرایچ راو رٹی کا نام نمایاں ہے۔راورٹی پشتو زبان کے عالم اور نامور مصنف تھے۔ انہوں نے پشتو زبان کے نامور شعرا کے منتخب کلام کا انگریزی میں ترجمہ کیا۔گلشن روہ کے نام سے اس شاہکار تخلیق ہی کے ذریعے یورپ پشتون شعرا سے متعارف ہوا، علامہ اقبال بھی اس ترجمے کی وساطت سے پہلی دفعہ پشتون شعرا بالخصوص خوشحال خان کے کلام سے متا ثر ہوئے ،چنانچہ ان کی بعض اصطلاحات شاہین، خودی ، مرد مومن وغیرہ کا ماخذخو شحال خان کا کلام ہی بتایا جاتا ہے ‘‘علامہ کی شہرہ آفاق نظم’ خوشحال خان کی وصیت ‘ جس کا لافانی شعر ’’ محبت مجھے اُن جوانو ں سے ہے ، ستاروں پہ جو ڈالتے ہیں کمند‘‘ زبان ِزد عام ہے،دراصل یہ نظم خوشحال بابا کی ایک پشتو نظم کا

ترجمہ ہی ہے۔علامہ کے فکر و خیال سے مزین’بال جبریل‘ میں مزکورہ نظم کے حاشیہ میں ہے کہ 1862ءمیں خو شحال خان کی ایک سو نظموں کا انگریزی ترجمہ لندن میں شائع ہوا تھا‘‘یہ میجر راورٹی کی گلشن روہ کی طرف ہی اشارہ ہے ۔جاوید نامہ میں علامہ اقبال خوشحال بابا کی حق گوئی اورافغان شناسی کا یوں تذکرہ کرتے ہیں۔
خوش سرود آں شاعرِافغاں شناس
آنکہ بنید ، باز گو ید بے ہر اس
آںحکیم ملتِ افغانیاں
آں طبیب علتِ افغانیاں
رازِ قومے دید و بے باکانہ گفت
حرفِ حق با شوخئی رندانہ گفت
میر عبدالصمدکی تحقیق ’خوشحال اور اقبال ‘کے مطابق نثر میں علامہ اقبال نے ماسوائے خوشحال خان خٹک کے، کسی اور شاعر کی تعریف نہیں کی ہے۔پروفیسر پریشان خٹک کی تاریخ ’ پشتون کون‘ کے مطابق میجر راورٹی نے خوشحال بابا کی کتابوں کی تعداد ڈھائی سو بتائی ہے جبکہ خوشحال خان پر پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند حا صل کرنے والی خدیجہ فیروز الدین کے مقالے میں یہ تعدادساڑھے تین سو ہے۔اب ایسی شخصیت جس کی شعوری زندگی کا ایک پل بھی جنگ کے بغیر نہ گزراہو ، وہ نہ صرف یہ کہ اتنی کتابوں کی تخلیق کرے، بلکہ شکار،حکمت اور سب سے بڑھکر رومانو ی دنیا بھی آباد رکھے، کس قدر خداداد صلاحیتوں کا مالک ہوگا، علم و فن کے اس بحرِ بے کراں پر کچھ لکھنے بولنے کی مجھ کمزور فہم، ناقص العلم اور جمعہ جمعہ آٹھ دن کے لکھاری میں بھلا کیاتوفیق ہو سکتی ہے۔ آپ کی توجہ کے لئے مذکورہ تمہید اس خاطر باندھ لائے ہیں کہ ایک عرصے سے من کی دنیاجستجو کے باعث بے چین تھی کہ ہم اس مقام کی زیارت سے محروم ہیں، جو ہمارے بابا خو شحال خان خٹک کے مور ث اعلیٰ کا مسکن ہے۔وجہ مزدوری کی خاطر کراچی میں قیام تھی۔خوشحال خٹک دنیا سے اکوڑہ نوشہرہ کے حوالے سے متعارف ہیں ، کم لوگ مگر اس تاریخ سے واقف ہیں کہ خوشحال خان کے جد امجد ملک اکوڑ خان جن کے نام نامی پر اکوڑہ خٹک مشہوہوا، کا آبائی مسکن’ کربو غہ‘ کرک ہے۔ یہاں سے ملک اکوڑ خان نوشہرہ میں پہلے سے آباد اپنے خٹک عزیزوں کے پاس گئے تھے ، یوں یہ علاقہ تاریخ کے ماتھے کا جھومر بنا۔خوشحال کے والد شہباز خان دادا یحییٰ خان اور ملک اکوڑ پر دادا تھے۔ گزشتہ روز اچانک اس خطے کو دیکھنے کیلئے ایسا بے قرارہوا کہ خیبر میل میں جا بیٹھا ، معروف مزدور رہنماکامریڈ منظور رضی نے بتایا تھا کہ ریل کی دنیا میں تبدیل آرہی ہے، بذریعہ ٹرین آنے جانے سے جو کچھ نوٹ کرسکا، یا پشاور میںپاکستان ریلوے کی فرض شناس کارکن اور یونین کی فعال رہنما رانی گل صاحبہ نے پاکستان ریلوے کے جوبعض اچھے اقدامات بتائے ، اگر خدا ئے بزرگ و برتر نے موقع نصیب کیا تو اگلے کالموں میں اس کا بساط بھر ذکر کرینگے ۔ عرض ِحا ل یہ ہے کہ خیبر میل مقررہ وقت پر پشاور پہنچی تو اسٹیشن پر ہمدم دیرینہ سعید خان خلیل کومخصو ص مسکراہٹ کے ساتھ منتظر پایا، ہم وہاں سےکوہاٹ پہنچ گئے اور خدائی خدمتگار میر ولی خان بابا ، خانزادہ تاج علی خان اور میاں شفیع الزماں کاکا خیل کی سیاسی سرگرمیوں کے مرکز لاچی سے ہوتے ہوئے جب ٹیری کرک پہنچے تو طالب رہنما نیاز محمد خٹک مرحوم کے کزن نور اللہ موجو د تھے۔ ’ٹیری‘ خٹک نامے کا عنوان ہے اس کے چاروں طرف کا وسیع علاقہ سوترہ (چوترہ)کہلاتا ہے جو خوشحال بابا کی سرگرمیوں کا مرکز تھا۔ یہاں سے عیسک خماری پہنچے تو خمارِ فطرت سے مخمور ہوئے۔’ شرکی‘ ڈیم کی آغوش میں مشاعرے جیسی صورتحا ل بنی ،جس کا اہتما م کراچی کے دوستوں امیر شاد خٹک ، عادل نواز خٹک نے کیا تھا، نصیر خان خٹک کے اشعار نے ایسا سماں باندھا کہ آسمان پر ستاروں کا جھرمٹ بھی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکا، یہ ستارے ہمیں ایسے قریب لگے جیسے ابھی ہماری جھولی میں آ گریں گے۔بے اختیار رب ِکائنات کی حمد بیان کی جس نے پختونوں کو حسین خطہ عطا کیا ہے ۔یہاں تیل و گیس کے اُبلتے چشمے خلیجی ممالک کا مقابلے کرنے کیلئے تلاطم خیز ہیں، پورے پختونخوا کے پہاڑ جس کوالٹی کے کوئلے سے لدے ہوئے ہیں یہ امریکاکے بعد دوسرے نمبر پر ہے، جپسم، یورنیم، سنگ مرمر نہ جانے کیا کیا، معدنیات دولت و لعل و گوہر نہاں وعیاں ہے۔شاید اس خطے پر غیروں اور اُن کے ایجنٹوں کی مسلط کردہ دہشت گردی کی ایک وجہ یہی دولت ہو۔ظاہر ہے جب امن ہوگا تو لوگ اپنی اس دولت کی طرف متوجہ ہونگے ،اور اس بات پر غور کریں گے کہ اتنی دولت کے باوجود وہ دو وقت کی روٹی کیلئے دیار غیر جانے پر کیوں مجبور ہیں؟خوشحال بابا کےاپنے علاقے کے درشن کے بعد ہم واپس کوہاٹ پہنچے ،جہاں بھائی عثمان خٹک اور اے این پی کوہاٹ کے صدر جاوید خٹک کی محفل سے شاد ہوئے۔ بٹ خیلہ (ملاکنڈ ) میں خورشید علی خان اور مردان میں محمد علی شاہ صاحب سے ملاقاتوں میں نیشنل یوتھ آرگنائزیشن کے نوجوانوں کے پرُمغز سوالات سےاندازہ ہوا کہ یہاں کے نوجوان کس قدر بالغ النظر ہیں ۔پختونخوا میں مختصر قیام کے دوران ایک بات نےمگر دکھی بھی کئے رکھا، وہ یہ کہ قدم قدم پر مذہبی مدرسوں کے باوجودیہاںکے لوگوںکے رویوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے،وہی عدم برداشت، جارحانہ پن، حساب بے باق کرنے کی جاہلانہ روایت ، جس کے باعث یہاں برپا دشمنیاںسالہا سال چلتی ہیں اور نسل در نسل منتقل ہوتی رہتی ہیں، باچاخان نے اسی سبب عدم تشدد کا فلسفہ دیا تھا،راقم کو رہ رہ کر یہ خیال ستاتا رہا کہ پاکستانی شائونسٹوں نے اگر باچا خان کو اُلجھایا نہ ہوتا ، اور ان کا اصلاحی و تعلیمی مشن جاری رہتا تو عدم تشد دکے فروغ اور علم کی شمع فروزاں ہونے پر بلا شبہ آج یہاں وہ تاریکی نظر نہیں آتی،جو تمام تر وسائل سے مالا مال اس خطے میں چار سوپھیلی ہوئی ہے۔



.