آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
اتوار13؍ صفرالمظفر 1441ھ 13؍اکتوبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز
غیر معمولی شہرت حاصل کرنیوالے ٹویٹ سے آئی ایس پی آر کی دستبرداری کے بعد کی صورتحال دیکھ کر اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ذہنی دیوالیہ پن اِس معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اِس دانشمندانہ دستبرداری کے خلا ف مہم چلانے والوں کو شاید آج بھی یہ سمجھانا ممکن نہیں کہ ایک جمہوریت پسند فوجی قیادت منتخب حکومتوں کو گھر بھیجنے والے آمرو ں کے مقابلے میں کہیں زیادہ پیشہ ور ہوتی ہے۔
پچھلے چند دنوں میں دنیا بہت تیزی سے بدلتی محسوس ہوئی، خاص طور پر پاکستان کے نقطۂ نظر سے بعض تین ہمسایہ ممالک کی جانب سے جارحیت کے بڑھتے ہوئے خطرات کسی طور معمولی بات نہیں! المیہ یہ کہ انتہاپسندی اور دہشت گردی سمیت ملک کو اس صورتحال تک پہنچانے والے تمام تر داخلی مسائل لاکھ کوششوں کے باوجود اب بھی حل طلب ہیں۔ اس پیچیدہ صورتحال میں عالمی سطح پر ملک کی سیاسی ساکھ کو برقرار رکھنا انتہائی ضروری امر ہے اور سچ یہ ہے کہ ساکھ کو برقرار رکھنے اور اس میں بہتری لانے کیلئے پاکستان کا بحیثیت ریاست اب ’’سیاسی طور پر درست‘‘ ہونا ناگزیر ہو گیا ہے۔ سوچنا صرف یہ ہے کہ پاکستان کے ریاستی ادار ے اس بات کو سمجھنے میں مزید کتنی دیر لگاتے ہیں۔
تجزیاتی حوالوں سے ’’سیاسی طور پر درست‘‘ (politically correct) ہونے کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ ریاست ہر شہری کو بلا تخصیص

رنگ و نسل، زبان، عقیدے، جنس اور حیثیت نہ صرف برابر قرار دیتی ہو بلکہ مروجہ آئین اور قوانین کے تحت اس برابری کو شفافیت کے ساتھ ثابت بھی کرتی ہو۔ اندرونی سطح پر جمہوری اقدار کا فروغ، دیگر اقوام کے ساتھ جذبات و نظریے کے بجائے مساوی سطح پر سفارت کاری اور خاص طور پر پڑوسی ممالک سے ترجیحی بنیادوں پر اچھے تعلقات کا مستقل اعادہ اِس ’’سیاسی درستی‘‘ کی اعلیٰ ترین علامات ہیں۔ سیاسی درستی یقیناً ریاستی پالیسیوں کی درستی سے وابستہ ہے اور ریاستی پالیسیوں کے درست ہونے کے امکانات صرف جمہوری ماحول میں ہی پروان چڑھتے ہیں۔ ملک کے سیاسی طور پر درست نہ ہونے کی کہانی در اصل جمہوری عمل میں مستقل رکاوٹوں سے جڑی ہوئی ہے۔ ابتدائی ادوار میں انتخابی سیاست سے دور رہنے کے سبب غیر منتخب عناصر ملک پر حکمرانی کرتے رہے اور ان ہی کی زیر نگرانی شدت پسند، دہشت گرد اور بد عنوان عناصر کو ملک کے ہر حصے میں پھولنے پھلنے کے مواقع ملتے رہے۔ اداروں کا قبلہ بھی کبھی درست نہیں رہا نہ ہی کبھی کیا گیا۔ آبادی بڑھتی رہی لیکن روزگار کے مواقع محدود رہے؛ کشمیر اور افغانستان میں اسٹیبلشمنٹ کی دلچسپی جمہوریت کے فرو غ اور ترقیاتی منصوبوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ رہی۔ ایک جانب بلڈرز مافیا شہروں کے خدوخال برباد کرتا رہا اور دوسری جانب ہر شہر اور ہر قصبے میں انتہاپسند یا پریشر گروپس چندوں اور بھتوں کے ذریعے پہلے سے بدحال عوام کو لوٹتے رہے۔ بلدیاتی نظام کو جان بوجھ کر پنپنے نہیں دیا جاتا کیوں کہ اس میں صوبائی حکومتوں میں شامل بدعنوان عناصر عوام کے وسائل اور پیسے صحیح طرح لوٹ نہیں پاتے! ملک کے غیر منتخب حکمران طاقتور مغربی ممالک کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوششوں میں رہے۔
افغانستان کے خلاف پہلی بار انتہائی موثر مسلح جوابی کارروائی، منتخب حکومت کے خلاف سوالیہ نشان بن جانے والے ٹویٹ سے دانشمندانہ دستبرداری اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے وزیراعظم کو اعلیٰ ترین اتھارٹی مان لینا شاید اس سے پہلے اتنا آسان نہیں تھا۔ یہ بے باک اقدامات اس حقیقت کا واضح اشارہ ہیں کہ امن کی بحالی، جمہوریت کافروغ اور ملک کا کامیاب دفاع موجودہ فوجی قیادت کی اولین ترجیحات ہیں۔
سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے زیرنگرانی آپریشن ضرب عضب اگرچہ جاری رہا لیکن ان کے دور میں کوئی ایک لمحہ بھی ایسا نہیں گزرا کہ جب منتخب حکومت کو گھر واپسی کا خطرہ لاحق نہ رہا ہو۔ جگہ جگہ آویزاں تصاویر کے ذریعے سابق چیف کی ذاتی تشہیر تو مستقل کی جاتی رہی لیکن جنرل قمر جاید باجوہ کی بطور نئے آرمی چیف تقرری تک منتخب حکومت ہر لمحے سولی پر لٹکی رہی۔ اگرچہ جنرل راحیل کے دور میں آئی ایس پی آر ایک بڑے نیوز میڈیا ہائوس کے طور پر سامنے آیا لیکن میجر جنرل آصف غفور کے ڈی جی بننے تک یہ ادارہ بھی جمہوریت کی فروغ کے لئے کسی بھی لمحے زیادہ سرگرم دکھائی نہ دیا۔ اس سے قبل جنرل اشفاق پرویز کیانی کے بحیثیت آرمی چیف مقرر ہونے کے بعد بھی ملک کا جمہوری نظام بظاہر ڈگمگاتا رہا۔ یہ سلسلہ بطور آرمی چیف اِن کی ملازمت میں تین سال کی توسیع ہونے تک جاری رہا! البتہ مذکورہ توسیع کے بعدان کے بھائی کے خلاف مالی بدعنوانی کا اسکینڈل پوری دنیا کے سامنے آ گیا۔
اب صورتحال یقیناً کچھ مختلف ہے۔ سرحدوں پر خطرات تو بدستور موجود ہیں لیکن قوم کو یقین ہے کہ اس وقت مسلح افواج کی قیادت انتہائی پیشہ ور ہاتھوں میں ہے۔ فوج کے نئے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ جانتے ہیں کہ جارحیت کے ان خطرات کے دوران فوج سیاست میں دلچسپی لینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہ سچ ہے کہ بحیثیت آرمی چیف اپنی تقرری سے لیکر اب تک جنرل قمر باجوہ ذاتی تشہیر کی بجائے اپنے پیشہ ورانہ معاملات میں مصروف رہتے ہیں۔ انہیں سیاست سے دلچسپی نہیں اس لئے ان کی قیادت میں مسلح افواج اپنی تمام تر توانائیوں اور طاقت کے ساتھ سرحدوں کی بھرپور حفاظت کر رہی ہیں۔ پاک افواج کی نئی قیادت کی جانب سے ’’سیاسی درستی‘‘ کا یہ بے مثال مظاہرہ ملک کے جمہوری منظر نامے پر خوشگوار تبدیلیوں کا ایک بھرپور اشارہ ہے۔
سوشل میڈیا کے ذریعے ٹویٹ سے دستبرداری پر شور و غل مچانے والے عناصر وہ لوگ ہو سکتے ہیں جو پہلے ہی جنرل قمر باجوہ کی بطور آرمی چیف تقرری کے خلاف تھے؛ وہی لوگ جنہوں نےان کے خلاف سراسر جھوٹ پر مبنی مہم چلانے کی کوشش کی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ جنرل قمر باجوہ اپنے اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے واقف ہیں اور ان سے نمٹنا بھی جانتے ہیں۔ وہ یورپ، ہندوستان اور کشمیر کی تاریخ اور ان خطوں سے جڑے عسکری تقاضوں سے بھی اچھی طرح آگاہ ہیں۔ یہ تمام نشانیاں کسی قیادت یا کسی ادارے کے ’’سیاسی طور پر درست‘‘ ہونے کے لئے کافی ہیں۔ یعنی ہو سکتا ہے کہ شمال مغربی سرحد سے آنے والی خبر، ٹویٹ سے دستبرداری اور جمہوریت کے احترام کا بار بار مظاہرہ کسی نئے اور بہتر دور کے آنے کی پیشگی علامات ہوں! فی الحال اس پر کوئی ٹویٹ کرنا قبل از وقت ہو گا۔

.

ادارتی صفحہ سے مزید