• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
سندھ کے عوام کا عجیب و غریب کلچر ہےان کے ساتھ کیسا بھی سلوک کیا جائے وہ یہ سلوک کرنے والے کے خلاف عناد نہیں رکھتے۔ میں یہ بات یہاں پنجاب کے پس منظر میں کررہا ، سندھ کے عوام کو پنجاب کی سیاسی قیادت سے ہزاروں ایسی شکایات ہوسکتی ہیں مگر وہ پنجاب کے عوام کا بے حد احترام کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ پنجاب کے عوام کے ساتھ بھی ابھی تک وہی سلوک کیا جارہا ہے جو ان کے ساتھ کیا جارہا ہے۔ سندھ کے عوام سوال کرتے ہیں کہ قرارداد پاکستان جو لاہور میں منظور ہوئی تھی اور جو قرارداد جی ایم سید کی قیادت میں سندھ اسمبلی کے ممبران نے منظور کی تھی کیا ان کے مطابق پاکستان ایک حقیقی وفاق بن سکا؟ پاکستان بنتے ہی قائد اعظم انتقال کرگئے۔ یہ سوال ابھی تک جواب طلب ہے کہ قائد اعظم جو پاکستان کے بانی تھے جب وہ سخت بیمار ہوئے اور ان کے بچنے کی امیدیں بہت کم تھیں کیونکہ وہ ٹی بی کے انتہائی آخری مراحل میں پہنچ چکے تھے جس سے اکثر مریض مشکل سے جانبر ہوتے ہیں،‘ جب بابائے قوم اتنے علیل تھے تو ان کو ہوائی اڈے سے گورنر جنرل ہائوس پہنچانے کے لئے جو ایمبولینس بھیجی گئی وہ راستے میں خراب ہوگئی۔! ان کی مدد کے لئے کوئی اور ایمبولینس بھی نہیں بھیجی گئی۔ اطلاعات کے مطابق ان کا انتقال ایسی حالت میں ایمبولینس میں ہی ہوا حالانکہ ہمارے حکمراں اس دن سے آج تک اس بات کو چھپاتے رہے ہیں مگر وقت آگیا ہے کہ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے بارے میں سارے حقائق سامنے لائے جائیں۔ اس سلسلے میں اور بھی کئی حقائق ہیں جن کو مختلف اسباب کی وجہ سے منظر عام پر نہیں لایا جارہا ہے۔ اب ہم گوادر میں سندھی مزدوروں کے قتل کا ذکر کرتے ہیں اس وحشت ناک واقعہ کے دو اہم پہلو ہیں بلوچستان میں سندھی مزدوروں کو پہلی بار ایسے قتل عام کا سامنا کرنا نہیں پڑا اس سے پہلے بھی ایسے ایک دو واقعات ہوچکے ہیں مگر ان واقعات میں اتنی تعداد میں سندھی مزدوروں کا قتل عام نہیں ہوا تھا۔ اطلاعات کے مطابق دہشت گردوں نے روڈ بنانے والوں سے بات کی اور جو سندھی زبان میں بات کررہے تھے ان کو حکم دیا کہ قطار میں کھڑے ہوجائیں‘ اس کے بعد فائرنگ کرکے سب کو قتل کردیا گیا۔ سوال یہ ہے کہ ان کا کیا مقصد تھا؟ وہ تو مزدور تھے‘ بلوچستان میں کسی کے حقوق غصب کرنے کے لئے نہیں آئے تھے‘ کیا انسانیت کے کسی معیار کے مطابق اس جرم کو معاف کیا جاسکتا ہے۔ چلئے اس جرم کو معاف نہ کیجئے مگر اس جرم کے خلاف مختلف حلقوں سے کیا ردعمل سامنے آیا ہے؟ یہ دیکھ کر سندھ کے عوام میں شدید مایوسی پیدا ہوئی، مگر اس بات کو آگے بڑھانے سے پہلے آیئے اس بات کا ذکر کریں کہ اس قتل عام کے بعد اخباری اطلاعات کے مطابق ایک تنظیم بی ایل اے نے اس قتل عام کی ذمہ داری قبول کی ہے حالانکہ پہلے موصول اطلاعات کے مطابق بی ایل اے کا تعلق بائیں بازو سے ہے اور وہ انسانی پہلوئوں کا احترام کرتے ہیں مگر یہ تو نہ ہوا‘ تو کیا یہ بی ایل اے نہیں کوئی اور تنظیم تھی مگر اب تک بلوچستان سے آنے والی اطلاعات کے مطابق بی ایل اے بلوچستان کے مختلف قوم پرست تنظیموں خاص طور پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنمائوں پر کچھ عرصے پہلے حملے کرچکی ہے اگر یہ اطلاعات درست ہیں تو پھر یہ تنظیم بی ایل اے ہی ہوگی اگر ایسا ہے تو کیا ممکن نہیں کہ بی ایل اے میں کچھ ایسے عناصر شامل ہوگئے ہوںجو کئی مخصوص طاقتوں کے اشاروں پر کارروائی کرتے ہیںبہرحال یہ ذمہ داری بلوچستان حکومت اور بلوچستان کی قوم پرست پارٹیوں کی ہے کہ اس بات کے بارے میں حقائق معلوم کرکے عوام تک پہنچائیں جہاں تک بلوچستان کی نیشنل پارٹیوں کے سربراہوں کی طرف سے اس قتل عام کے خلاف آنے والے ردعمل کا تعلق ہے تو ان میں خاص طور پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ حاصل بزنجو کی طرف سے ضرور ردعمل آیا ہے مگر یہ ردعمل محض خانہ پری ہے۔ اس ردعمل پر سندھ کے عوام اور خاص طور پر سندھ کے قوم پرست رہنمائوں کو شدید صدمہ پہنچا ہے۔ کاش آج میر غوث بخش بزنجو زندہ ہوتے تو شاید سندھ کے مزدوروں کے قتل عام کے خلاف سارے بلوچستان میں یوم احتجاج یا یوم سیاہ کا اعلان کرتے مگر ان کو کہاں ڈھونڈیں۔ میر حاصل بزنجو تو اس وقت وفاقی وزیر برائے شپنگ اور پورٹس ہیں اور میاں نواز شریف کی گڈ بک میں ہیں۔ لوگ سردار عطا اللہ مینگل کی خاموشی پر بھی اعتراض کررہے ہیں حالانکہ میں اس رائے سے متفق نہیں ہوں۔ سردار عطا اللہ مینگل انتہائی عمر رسیدہ ہوچکے ہیںہوسکتا ہے کہ وہ اس وقت اتنے علیل ہوں کہ ان تک یہ اطلاع نہیں پہنچائی گئی ہو مگر سردار عطا اللہ مینگل کے فرزند سردار اختر مینگل تو ماشااللہ نوجوان اور سرگرم ہیں وہ کیوں خاموش ہیں؟ یہ ایسا سوال ہے جو سندھ کے قوم پرست رہنمائوں اور سندھ کے عام لوگوںکو پریشان کررہا ہے۔ میر حاصل بزنجو کے برائے نام ردعمل اور سردار اختر مینگل کی خاموشی نے سندھ میں یہ تاثر دیا ہے کہ شاید انہوں نے سندھ سے اپنے راستے الگ کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے حالانکہ سندھ نے ہمیشہ بلوچوں کا ساتھ دیا ہے سندھ بلوچوں کو اور خود کو ایک ہی جسم کا حصہ سمجھتے ہیں۔ بہرحال ان وجوہات کی وجہ سے اس سلسلے میں سندھ کے عوام میں یقینا شدید الجھن پیدا ہوگئی ہے، بہرحال بلوچستان کے قوم پرست رہنمائوں کے اس ردعمل سے قطع نظر سندھ کے عوام سب سے زیادہ متذبذب بلوچستان حکومت کے بارے میں ہیں‘ بلوچستان حکومت نے بھی تو محض برائے نام ردعمل ظاہر کیا ہے آج تک انہوں نے اصل دہشت گردوں کے خلاف کیا کارروائی کی؟ اس کے علاوہ بلوچستان کے چپے چپے پر ردالفساد اور بلوچستان میں شروع کئےگئے کئی آپریشن شروع کئے گئے ہیں کوئی دن نہیں جاتا جب اسٹیبلشمنٹ اورانٹیلی جنس ایجنسیوں کی طرف سے اعلان نہیں کیا جاتا کہ سارے بلوچستان میں دہشت گردوں پر نظر رکھی جارہی ہے جس دن سندھی مزدوروں کا قتل عام کیا گیا اس دن یہ ایجنسیاں کہاں غائب ہوگئیں اور اب تک اس سلسلے میں کیا کارروائی کی گئی ہے اور دہشت گردوں اور سہولت کاروں کی اگر گرفتاری نہیں تو نشاندہی کیوں نہ ہوسکی، چلئے ایجنسیوں کا ذکر بھی چھوڑیئے‘ آئیے ذکر کریں وفاقی حکومت کے وزیر داخلہ کا، میں یہ کالم بدھ کو لکھ رہا ہوں اس دن تک اور یہ کالم لکھتے وقت نہ مجھے ٹی وی پر ان کا اس سلسلے میں کوئی بیان سننے میں آیا نہ کسی اخبار میں کوئی بیان نظر آیا مگر یہ اطلاعات درست ہیں تو ان کو کس خانے میں رکھا جائے۔ ظاہر ہے انہوں نے جو رویہ اختیار کیا وہ وزیر اعظم کی اجازت سے اختیار کیا ہوگا یا وہ اسٹیبلشمنٹ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ وفاقی حکومت نے بھی ابھی تک اس سلسلے میں کوئی خاص کردار ادا نہیں کیا یہ ساری صورتحال سندھ کے عوام سے سوال کررہی ہے کہ کیا پاکستان میں سندھ کی اہمیت کم ہے۔ ؟ سندھ کے عوام اس ایشو پر خاص طور پر سندھ حکومت کے کردار پر بھی سوالات پر سوالات کررہے ہیں۔

.
تازہ ترین