آپ آف لائن ہیں
جمعہ10؍شعبان المعظم 1439ھ 27؍اپریل2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
x
پنجاب کے گورنر ملک محمد رفیق رجوانہ نے بالکل صحیح فرمایا ہے کہ جنگ مسائل کو حل کرنے کی کسی میں کامیاب نہیں ہوسکتی مگر لاتعداد مسائل کو جنم دینے میں کامیابی حاصل کر سکتی ہے جنگ اور جنگ جیسے حالات نے دنیا کے مسائل حل کرنے کی بجائے انسانی زندگی سے تعلق رکھنے والے لاتعداد اور بے شمار مسائل پیدا کئے ہیں اور مسائل کی پیداوار کا یہ سلسلہ جنگوں کے ختم ہونے کے بعد میں جاری رہتا ہے ۔غالباً یہی وجہ ہے کہ یہ کہا جاتا ہے کہ اگر جنگ سے مسائل حل کئے جا سکتے تو دوعالمی جنگوں کے ذریعے ان جنگوں میں داد شجاعت پانے والے ممالک کے تمام مسائل حل ہو چکے ہوتے مگر ایسا نہیں ہوا ۔ عالمی جنگوں میں لڑنے والے ملکوں کے بے شمار مسائل پوری دنیا کے لئے مصیبت بنے ہوئے ہیں ۔پاکستان گزشتہ ایک چوتھائی صدی سے انتہا پسندیوں کے اندر سے نکلنے والی دہشت گردی کی جس خوفناک جنگ میں مصروف ہے اس میں ہزاروں انسانی زندگیوں اور لاکھوں لوگوں کی ضروریات زندگی کا نقصان ہو رہا ہے اور کچھ اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ ایسا اور کتنا نقصان ان نقصانات کی وجہ سے قوم اور ملک کو برداشت کرنا پڑے گا کہ ہماری ایک خوش قسمتی ہے کہ ہماری قومی فوج اس جنگ میں سب سے زیادہ مصروف ہے اور سب سے زیادہ قربانیاں بھی دے رہی ہے اور تمام قومی ادارے بھی دہشت گردی کی جنگ کا مقابلے کرنے

x
Advertisement

میں اپنے حصے کے فرائض سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔اس جنگ کے سلسلے میں ملک اور قوم کے اخراجات کا صحیح اندازہ لگانا بھی مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہوتا ہے اور یہ اجتماعی قومی ہمت اور جرات ہوتی ہے جو ان نقصانات کو برداشت کر سکتی ہے جنگوں کی صورت میں ملک اور قوم کی صفوں میں اتحاد، اتفاق اور یگانگت کی جو فضا پیدا ہوتی ہے اگر اسے ایک مستقل فضائی صورت دی جا سکے تو یہ ایک نعمت میں تبدیل ہو سکتی ہے اور ایک قومی سوچ کے ذریعے قومی پالیسی بنائی جاسکتی ہے ۔دنیا کی بہت سی قوموں نے جنگ کی آزمائشوں کی بھٹی سے گزر کر کندن کی طرح کی چمک حاصل کرنے میں کامیابی دکھائی ہے مگر تجزیے میں یہی کہا جاتا ہے کہ آج تک کوئی قوم کوئی ایک جنگ بھی نہیں جیت پائی ۔ہر میدان جنگ فتح اور شکست دونوں صورتوں میں بربادی اور نقصان کے مناظر ہی پیش کرتا ہے ۔کسی بھی ملک اور کسی بھی قوم کے لئے جنگ مسائل حل کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی ۔مسائل کو حل کرنے کے لئے امن، اطمینان اور صلح صفائی کے ماحول کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ انسان اپنی اور ایک دوسرے کی بہتری کے منصوبے امن کے حالات ہی میں سوچ سکتا ہے۔ایجادوںاور دریافتوں کا موسم بھی امن و امان کے حالات کا موسم ہوتا ہے امن وامان سے بڑی نعمت انسانی آبادی نے آج تک کوئی نہیں دیکھی ۔

.

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں