آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
کہتے ہیں نام کے بھی اثرات ہوتے ہیں؟ ضرور ہوتے ہوں گے، فیصل آباد جب لائل پور ہوا کرتا تھا، تو اسے پاکستان کا مانچسٹر کہتے، برطانیہ کو کپڑے کی صنعت نے رنگ دیا تھا ساری دنیا کی منڈیوں میں اس کا طوطی بولتا تھا، کپاس ہندوستان میں پیدا ہوتی یا مصر میں مگر کپڑے کے کارخانے انگلستان میں ہوا کرتے تھے، ایسٹ انڈیا کمپنی کے تاجر من چاہی قیمت پر کپاس بٹور لے جاتے، اس سے کپڑا بنا کر بیچا کرتے، شروع میں ڈھاکہ کی ململ کی بڑی دھاک تھی، کہتے ہیں ایسی باریک، نفیس اور ملائم ململ کہ پورا تھان ایک انگوٹھی میں سے گزر جاتا۔ تاجر بڑی بے رحم مخلوق ہیں، یہ نفع کے لالچ اور اجارہ داری کی کوشش میں ہر حد سے گزر جاتے ہیں، موقع مل جائے تو اپنے حریف کو کسی کام کا نہیں چھوڑتے، چنانچہ اہل یورپ خصوصاً ایسٹ انڈیا کمپنی نے کپاس کی اجارہ داری پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ڈھاکہ کی ململ بنانے والے کاریگروں کے ہاتھوں کی انگلیاں کٹوا دیں کہ ان کی مشینوں پر بنے کپڑے کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ رہے، انگلستان نے اس صنعت سے خوب دولت سمیٹی، جس کی بدولت ان کی سلطنت پھیلتی چلی گئی، حتیٰ کہ اس پر کبھی سورج غروب نہ ہوتا۔ جنرل ضیاء الحق ملک کے صدر بنے تو انہوں نے لائل پور کو فیصل آباد کے نام سے بدل دیا، نام کی اس تبدیلی نے فیصل آباد کے ساتھ اس کی جڑواں شہر

مانچسٹر کی قسمت بھی پھوڑ دی۔ لائل پور کاٹن سے متعلقہ صنعت کے لئے دنیا بھر میں بڑا نام تھا۔ ڈھاکہ کی ململ کو انگلستان کے تاجروں کے حسد نے برباد کیا۔ لائل پور کی قسمت یوں ڈوب گئی کہ ایک صدی گزرنے کے بعد ایک مرتبہ پھر تاجر حکمران بن گئے، اب کے تاجر بدیش نہیں دیش ہی سے آئے تھے، لاہور کے تاجر انگلستان کے تاجروں سے کم حاسد، نفع خور اور بے رحم نہ تھے۔ اب بڑے وسیع اور طاقتور ذرائع ابلاغ کا زمانہ ہے اور ووٹوں کی کھنڈت بھی سیدھے سیدھے ہاتھ کاٹ دینا ممکن نہ رہا کہ ؎
خون پھر خون ہے بہتا ہے تو جم جاتا ہے
لاہوری تاجروں نے خون بہانے کی بجائے ایسا خزانے کا وزیر چنا جو مزاروں سے عقیدت رکھتا ہے یہ عقیدت بھی خاصی تاجرانہ گجرات میں شاہ دولہ کے مجاور مزار کی نذر کئے بچوں کو لوہے کی ٹوپی پہنا دیتے جس سے ان بچوں کی کھوپڑی بڑھنے کی بجائے پچک جاتی ہے اور دماغ چھوٹا رہ جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے بچے معذور بن جاتے پھر ان سے بھیک مانگنے کا کام لیا جاتا تھا، شاگرد رشیدان سے جو سیکھا وہ لائل پور کی صنعت پر آزما ڈالا، لائل پور کی صنعت کے سر پر لوہے کی ٹوپی اور ہاتھوں میں تنگ کڑیاں کہ دماغ کے ساتھ ہاتھ اور بازو بھی شل ہیں۔ لائل پور جس کی صنعت چاروں طرف پھیل کر شیخوپورہ، سرگودھا، جھنگ اور اوکاڑہ تک جا لگی تھی۔ تجربہ کار ٹیم کی مہربانی اور اسحاق ڈار کی فن کاری کی بدولت دنیا کی سب سے بڑی سوتر منڈی (دھاگے کی مارکیٹ) میں دھول اڑتی ہے۔ فیکٹریاں اسکریپ میں بک گئیں، کچھ نام کی تبدیلی باقی جمہوریت کی برکت سے، صنعت بند ہوئی اور تجارتی خسارہ روز افزوں ہے۔ پیپلز پارٹی کی شکل میں قوم نے جمہوریت کا بہترین انتقام بھگتا۔ اب قوم کو تجربہ کاروں کا سامنا ہے۔ دور انتقام میں تجارتی خسارہ 20(بیس ارب) ڈالر تھا اور پاکستان کی ایکسپورٹ کم ہو کر 25(پچیس ارب ڈالر) تک آ پہنچی، پھر پاکستان کی تاریخ میں سب سے تجربہ کار ٹیم کا دور اقتدار شروع ہوا تو پچھلے چار برس میں تجارتی خسارہ بیس (20)ارب ڈالر سے بڑھ کر تیس (30) ارب ڈالر ہو گیا ہے اور پاکستان ایکسپورٹ چار سال میں پانچ ڈالر کم ہو کر بیس (20) ارب ڈالر رہ گئی ہے، اس کے مقابلے میں بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ 35ارب ڈالر ہے جس میں ٹیکسٹائل کا حصہ 27ارب ڈالر ہے جبکہ پاکستان میں ٹیکسٹائل کی برآمد کا حصہ 12(بارہ) ارب ڈالر رہ گیا ہے۔ خیال رہے بنگلہ دیش میں کپاس کا ایک پودہ بھی نہیں اگتا۔ اس کارکردگی پر وزیراعظم کی قیادت میں کام کرنے والی تجربہ کار ٹیم کو اعلیٰ کارکردگی پر داد دی جانی چاہئے کہ چار سال کی مختصر مدت میں انہوں نے تجارتی خسارہ دس ارب ڈالر بڑھایا اور برآمدات میں صرف پانچ ارب ڈالر کی مزید کمی کر دی، اس کے باوجود ’’ساون کے اندھے‘‘ کی طرح انہیں ترقی کے اشاریئے مثبت نظر آتے ہیں۔ یہ وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی اعلیٰ کارکردگی اور دن رات محنت کا نتیجہ ہے اور اپنے اہداف کو قبل از وقت حاصل کرنے کی اعلیٰ روایت کہ جو خسارہ پانچ سال میں حاصل کرنے کا ہدف تھا وہ صرف 4سال کی مدت میں ممکن کر دکھایا ہے۔ پچھلے ہفتے عرض کیا تھا اب مقابلہ اور مسابقت اچھے کاموں میں ہونے کی بجائے خراب اور زیادہ خراب میں ہوا کرتی ہے۔ حاجی محمد اسلم ہمارے دوست ہیں ٹیکسٹائل کے ایک نہیں دو دو کارخانے چلایا کرتے ہیں اور ہوزری بھی، ہوزری صرف انگلستان بھیجتے ہیں وہ بھی اپنے بھائیوں کو یعنی ’’الٹے بانس بریلی کو‘‘ جو کپڑے کے کارخانوں کی ماں تھی، اب ماں اپنے کپڑوں کے لئے بچوں کی محتاج ہے۔ ہمارے یہاں بھی تجربہ کار ٹیم باقی رہی تو مردوں کے لئے کفن بنگلہ دیش اور غسال ترکی سے آیا کریں گے اور قبر کی ڈاٹ چین سے درآمد ہوا کرے گی۔ حاجی صاحب کہنے لگے پیپلز پارٹی کا دور پھر بھی اچھا تھا وہ صنعت کاروں کی بات پر کان دھرتے، گیس اور بجلی کم تھی مگر آج کے دور سے پھر بھی زیادہ ان کے دور میں خسارہ تو تھا مگر اس قدر نہیں جتنا آج ہے۔ اب تو نوبت یہاں تک آن لگی کہ اگر مل چلائیں تو پچاس لاکھ روپے ماہانہ خسارہ ہے نہ چلائیں تو خسارہ بیس لاکھ بند کریں تو بھی فارغ کئے مزدوروں کی آدھی تنخواہ دفتروں کے خرچے، سرکاری محکموں کی رشوت اور بنک کا سود تو دینا ہی پڑتا ہے۔ بند فیکٹری کی مشینیں چوری ہو جاتی ہیں اگر چوری سے بچ بھی جائیں تو چھ ماہ، سال کے بعد چلنے کے قابل نہیں رہ جاتیں اور اسکریپ میں بیچنی پڑتی ہیں۔ فیکٹری چلانے کے لئے ساری جائیدادیں، زیورات، پس انداز ختم ہو گیا۔ آخری ایک مربع زمین بچ رہی تھی وہ بھی فروخت کرنا پڑی اور اس زمین کا خریدار ایک ایم پی اے ہے، چند سالوں میں اگر یہ حالت باقی رہی تو کارخانے تو ختم ہو ہی جائیں گے مگر ان کارخانوں کی خالی زمینیں برسراقتدار گروہ کی ملکیت ہو گی، ایران کے عادل بادشاہ نوشیروان کی کہانی تو آپ نے سنی ہو گی، نہیں تو سن لیجئے۔ کہتے ہیں نوشیروان شروع میں بڑا ظالم بادشاہ ہوا کرتا تھا۔
چھوٹی چھوٹی غلطیوں اور ناگواریوں پر لوگوں کو قتل کرتا اور اپنے مصاحبوں کی کھال کھینچ کر اس میں بھس بھروا کے چوراہوں میں نصب کروا دیتا۔ اس کا وزیر بڑا نیک سیرت اور رحمدل تھا، اس نے مشہور کر دیا کہ وہ پرندوں کی بولی کو سمجھ لیتا ہے، ایک دن نوشیروان وزیر کے ساتھ شکار کے لئے نکلا تو رستے میں ایک ٹنڈ منڈ درخت پر دو الو بیٹھے تھے، بادشاہ کو دل لگی سوجھی اور وزیر سے بولا، مجھے بتائو یہ الو کیا باتیں کر رہے ہیں؟ وزیر کان لگا کے سننے لگا، تھوڑی دیر کے بعد بولا کہ بادشاہ سلامت، یہ الو اپنے بچوں کی شادی کے لئے رشتہ طے کر رہے ہیں دائیں طرف بیٹھا الو مقامی ہے اور بایاں کسی دوسرے ویرانے سے آیا ہے، وزیراعظم نے بادشاہ سے کہا، ان کی باتیں لمبی ہوتی جا رہی ہیں، رشتے میں کچھ اڑچن آ گئی، ان کی باتوں میں ہماری راہ کھوٹی ہو گی، آیئے ہم چلتے ہیں لیکن بادشاہ کو ان باتوں میں دلچسپی ہو گئی، وزیر کو حکم دیا اور سنو، وزیر تھوڑی دیر خاموش سنتا رہا پھر بولا بادشاہ سلامت ہم چلتے ہیں، بات بنتی نظر نہیں آتی ان میں تکرار بڑھ گئی ہے، بادشاہ نے پوچھا مسئلہ کیا ہے؟ وزیر نے کہا، ان کے درمیان جہیز کے مسئلے میں اختلاف پیدا ہو گیا ہے، آپ کو معلوم ہے الو ویرانے میں رہتے ہیں، لڑکے کا باپ لڑکی والے الو سے کہتا ہے میں جہیز میں دو ویرانے لوں گا لیکن لڑکی والے کا کہنا ہے، میرے پاس ایک ہی ویرانہ ہے جس میں خود رہتا ہوں یہ لڑکی کو جہیز میں دے دیتا ہوں لیکن لڑکے والا مانتا ہی نہیں، بات بنتی نظر نہیں آتی، تنگ آ کے نوشیروان آگے چلنے کو تیار ہوا تو وزیراعظم نے کہا، بادشاہ سلامت ٹھہریئے، ٹھہریئے بات کچھ بننے لگی ہے۔ بادشاہ نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا اب کیا ہوا؟ وزیراعظم نے کہا بادشاہ سلامت بیٹی والا کہتا ہے، فی الحال ایک ویرانہ تم لے لو، اس ملک کا بادشاہ بڑا ظالم ہے، وہ دن زیادہ دور نہیں جب اس ظلم اور نا انصافی سے سارا ملک ویرانہ ہو گا۔ پھر آپ جتنے مانگو گے ویرانے دوں گا۔
وزیر کی اس حکایت سے بادشاہ اس قدر متاثر ہوا کہ ہزاروں سال بعد بھی نوشیروان کو سب سے زیادہ عادل بادشاہ مانا جاتا ہے‘‘۔
حاجی صاحب خاطر جمع رکھیئے، جمہوریت کی حالیہ مہربانیاں جاری رہیں، پاکستان کے سارے ویرانے لیگیوں کو مفت میں مل جائیں گے!!



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں