آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 14؍رمضان المبارک 1440ھ20مئی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
دو ہزار اٹھارہ انتخابات کا سال ہے لیکن کراچی میں مقبولیت اور رجحانات سے متعلق منظرنامہ فی الحال واضح نہیں۔ انتخابی سیاست میں گزشتہ تیس برسوں سے ملک کے اس سب سے بڑے شہر میں ایم کیو ایم کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔ میں اس ایم کیو ایم کی بات کررہا ہوں جس کے نام کے آگے اب لندن لکھ دیا جاتا ہے۔ اِن دنوں جہاں پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے الحاق یا انتخابی اتحاد پر قیاس آرائیاں جاری ہیں وہیں ایم کیو ایم لندن اپنے انتخابی لائحہ عمل پر مکمل طور پر خاموش ہے۔
ایم کیو ایم کی انتخابی مقبولیت کا آغاز 1987کے بلدیاتی انتخابات میں اس کی غیر معمولی کامیابی سے ہوا۔ اگلے برس یعنی 1988کے عام انتخابات میں بھی یہ شہری سندھ کی سب سے بڑی جماعت بن کر سامنے آئی۔ کہتے ہیں کہ آفاق احمد نے اسی دور میں پارٹی قیادت کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ خیال تھا کہ اِن اختلافات کے سبب پارٹی کا ووٹ بینک تقسیم ہوجائے گا لیکن 1990کے انتخابات میں ایم کیو ایم نے ایک بار پھر بھرپور کامیابی حاصل کی۔ البتہ اختلافات کی اس مڈبھیڑ میں شہر میں تعینات ایک فوجی افسر کے اغوا پر رد عمل کے نتیجے میں پارٹی کے خلاف جون 1992 میں فوجی آپریشن شروع کردیا گیا۔
ان دنوں میں انگریزی روزنامے دی نیوز کے لئے رپورٹنگ کیا کرتا تھا؛ مجھے یاد ہے ایک طرف ایم کیو

ایم کے خلاف غداری سے لیکر دہشت گردی تک ہر قسم کے مقدمات دائر کئے گئے اور دوسری طرف میڈیا کے ذریعے ان کی تشہیر بھی کی گئی۔ اس دوران ایک اہم پارٹی رہنما عظیم احمد طارق نے بھی بانی ایم کیو ایم کے خلاف بغاوت کا اعلان کردیا لیکن پارٹی کی مقبولیت میں کوئی فرق نہ آیا؛ یوں 1993میں قومی اسمبلی کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کے باوجود ایم کیو ایم نے صوبائی اسمبلی میں اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ اب یہ واضح ہوتا جا رہا تھا کہ اِن طاقتور بغاوتوں اور پارٹی کے خلاف پے در پے آپریشنز کے باوجود ووٹ صرف بانی ایم کیو ایم کے نام پر ہی ڈالے جاتے ہیں۔ سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا کہ آئندہ انتخابات میں بھی بانی ایم کیو ایم کے حمایت یافتہ امیدواروں کے جیتنے کے امکانات زیادہ ہیں۔ جنرل مشرف کا دور ِاقتدار ایم کیو ایم کے لئے سنہرا ترین دور تھا؛ شاید زبان اور مخالفین سے نمٹنے کے انداز میں حیرت انگیز مماثلت کے سبب یہ گٹھ جوڑ کافی عرصے چلتا رہا۔ مشرف کے اقتدار سے الگ ہوتے ہی مقتدر حلقوں میں پارٹی کی اہمیت بتدریج کم ہوتی رہی اور مارچ 2015میں نائن زیرو پر رینجرز نے ایک بڑا آپریشن کر ڈالا کوئی ڈیڑھ سال بعد یعنی 22اگست 2016کو بانی ایم کیو ایم کی متنازع تقریر کے بعد نائن زیرو سمیت ایم کیو ایم کے تمام دفاتر کو مکمل طور پر سیل کردیا گیا۔ اس کے باوجود سال 2016کے بلدیاتی انتخابات میں پارٹی کو بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل ہوئی۔
آج کل بظاہر ایم کیو ایم لندن کا انتخابی متبادل تلاش کرنے کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ ایک جانب ایم کیو ایم پاکستان اور پاک سرزمین پارٹی کے اتحاد پر غورو فکر کی اطلاعات ہیں تو دوسری جانب جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے ایک بار پھر سرگرم ہونے کی خبریں مل رہی ہیں۔ ایک رائے ہے کہ پاک سرزمین پارٹی سے الحاق یا اتحاد کی صورت میں ایم کیو ایم پاکستان کا وہ حمایتی حلقہ ناراض ہو سکتا ہے جو اب تک اس آس میں ہے کہ انتخابات تک پاکستان اور لندن ایک ہوجائیں گی۔ اُدھر ایم کیو ایم حقیقی انتخابی سیاست میں اپنے مایوس کن ماضی کے سبب فی الحال ان سرگرمیوں سے دور دکھائی دیتی ہے۔
اردو بولنے والوں کے نمائندہ سیاست دانوں کے لئے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پچھلے 30برسوں میں اگر کسی دوسری جماعت نے ایم کیو ایم کے روایتی ووٹرز کو اپنی جانب متوجہ کیا ہے تو وہ پاکستان تحریک انصاف ہے۔ سال 2013کے انتخابات میں ایم کیو ایم کے خاص علاقوں سے بڑی تعداد میں ووٹ حاصل کرکے پی ٹی آئی نے بلاشبہ ایم کیو ایم کو دہلاکر رکھ دیا تھا۔لیکن جب کپتان کو NA-246کے ضمنی انتخابات کی مہم کے دوران طاقت کے زور پر نائن زیرو کا دورہ کرایا گیا تو اِن کے قریب آنے والے یہ تمام ووٹرز ایم کیو ایم کی جانب لوٹ گئے۔ اس حلقے سے متعلق ایک بات کہاوت کی طرح مشہور ہے کہ اگر ایم کیو ایم یہاں بجلی کے کسی’’زنگ آلود کھمبے‘‘ کو بھی کھڑا کردے تو جیت اس کا مقدر بنے گی۔ سو ایم کیو ایم نے سال 2013کے انتخابات میں اس حلقے سے نبیل گبول کو جتوا کر فیڈرل بی ایریا میں جنم پانے والی اس کہاوت کوحقیقت میں بدل دیا۔
ان تمام تر حقائق کے تحت کہا جا سکتا ہے کہ پارٹی کو انتخابات سے دور رکھ کر کسی کو کوئی حقیقی فائدہ نہیں پہنچایا جاسکتا۔ قوم کا اجتماعی مفاد اسی میں ہے کہ جمہوری و آئینی تقاضوں کے تحت پارٹی کو انتخابی سیاست میں واپس لایا جائے۔ یہ مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ ایم کیو ایم سمیت کسی بھی سیاسی جماعت میں عسکری ونگز صرف پولیس اور تعینات فورسز کے پیشہ ورانہ رویے یا نیت میں کسی مستقل خلل کے سبب پیدا ہوتے ہیں۔ المیہ یہ کہ پریس کانفرنسز میں صحافیوں کو بلاجھجک بتایا جاتا ہے کہ فلاں آدمی نے دوران تحویل 100سے زائد قتل کا اعتراف کرلیا ہے۔ ایسی پریس کانفرنسز درحقیقت ریاست کی جانب سے ایک کھلا اعتراف ہوتی ہیں کہ جب قاتل شہر میں معصوم جانوں سے بار بار کھیل رہے ہوتے ہیں تو پولیس اور دیگر اہلکار خاموش تماشائی بنے کھڑے رہتے ہیں! سیاسی جماعتوں میں موجود جرائم پیشہ عناصر کی مستقل موجودگی کا بنیادی مفہوم یہی ہوتا ہے کہ اصل خرابی جرائم کو روکنے والے عناصر میںہے۔ نتیجتاً ریاست کو شارٹ کٹ کے طور پر قیادت کے خلاف آپریشنز کرنا پڑتے ہیں جس کے سبب عموماً سیاسی خلا پیدا ہوجاتا ہے۔ ایم کیو ایم کے خلاف سال 2015میں شروع ہونے والی کارروائیوں کے دوران شہر میں انتہاپسند تنظیموں نے سر اٹھایا اور شہر میں فرقہ وارانہ دہشت گردی کے واقعات بھی رونما ہوئے۔
فی الحال تاثر یہ ہے کہ آئندہ انتخابات سے چند گھنٹوں پہلے بھی اگر لندن کے حمایت یافتہ امیدواروں کی کوئی فہرست جاری کردی گئی تو پارٹی کی روایتی نشستوں پر دوسرے امیدواروں کے جیتنے کے امکانات کم ہو جائیں گے! گزشتہ ماہ حیدرآباد میں ایک بلدیاتی حلقے کے ضمنی انتخابات میں لندن کے حمایت یافتہ امیدوار کا جیتنا اِس ممکنہ صورتحال کی جانب واضح اشارہ ہے۔ لہٰذا مناسب یہی ہے کہ انتخابی سیاست کو اس کے صحیح رنگ ڈھنگ کے ساتھ پھولنے پھلنے کا موقع دیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ میں موجود کراچی پر کنٹرول برقرار رکھنے کے خواہشمند عناصر کو مشورہ ہے کہ اب وہ اپنی اس دیرینہ خواہش سے دستبردار ہوکر شہر سے متعلق معاملات کو شفاف اور غیرجانبدارانہ انتخابات پر چھوڑ دیں تاکہ ملک میں 70برس گزر جانے کے بعد ہی سہی، ایک درست اور مکمل جمہوری عمل شروع ہوسکے۔ عوام کی حمایت یافتہ کسی بھی تنظیم کو تن تنہا اپنی فتوحات کا جشن مناتا دیکھنے کے بجائے اِسے اپنے ہاتھوں سے قومی دھارے میں شامل کرنا سیاسی طور پر درست اور انتہائی دانش مندانہ قدم ثابت ہوگا۔ اس دوران کسی قانونی پیش رفت کی صورت میں کسی کو نااہل قرار دینے کا آپشن تو پہلے سے موجود ہے۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں