آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
14اکتوبر، 1945 کے روز کلکتہ کے ایک انگریزی اخبار The Statesman نے بالآ خر عرصے سے جاری میڈیا سنسر شپ کی پالیسی ختم کرنے کا فیصلہ کیا اور برطانوی وزیر برائے انڈیا کی برطانوی پارلیمان میں کی گئی تقریر کو ایک ادارئیے میں آڑے ہاتھوں لیا۔ نہ صرف یہ بلکہ اس اخبارنے 16اکتوبر کو ایک دوسرا اداریہ کچھ یوں لکھا، "جب تک کہ وزیر انڈیا کے ماتحت ان کو غلط معلومات نہ دے رہے ہوں، وزیر موصوف پارلیمان کو کیسے بتا سکتے ہیں کہ بنگال میں قحط سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 1,000فی ہفتہ ہے۔ جبکہ عوامی طور پر جتنی بھی معلومات اکٹھی کی گئی ہیں، ان کے مطابق یہ تعداد خوفناک حد تک زیادہ ہے، بہتر ہو گا کہ وزیر موصوف کا دفتر معلومات اکٹھا کرنے کے اپنے بے پناہ وسائل کا استعمال کرتے ہوئے انہیں درست اعداد و شمار فراہم کرے‘‘ دو دن بعد بنگال کے انگریز گورنر نے لندن میں وزیر انڈیا کو ایک مراسلہ بھجوایا جس میں لکھا، ’’آپ کی برطانوی پارلیمان میں کی گئی تقریر جو شاید وائسرائے ہند کو میرے فراہم کردہ اعداد و شمار پر مشتمل تھی، کو کچھ اخباروں نے آڑے ہاتھوں لیا ہے… اب میں نے قحط کی اصل شدت کے بارے میں مزید معلومات اکٹھی کی ہیں اور میرے خیال میں اموات کی اصل تعداد 2,000فی ہفتہ ہے۔‘‘ اموات کی سرکاری تعداد جس سے برطانوی پارلیمان کو گمراہ کیا جا رہا تھا

اور اموات کی حقیقی تعداد میں جو فرق تھا وہ سن کر رونگٹے کھڑے ہو جائینگے۔ دسمبر 1945ءمیں ایک قحط انکوائری کمیشن بنا اور اس میں سامنے آیا کہ اس تقریر کے وقت بنگال کی گلیوں میں قحط سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 26,000 فی ہفتہ تھی۔ میڈیا سنسر شپ کی پالیسی کی بدولت برطانوی پارلیمان اندھیرے میں رہی اور بروقت کارروائی نہ ہو سکی جبکہ بنگال کی گلیوں میں قحط کے دوران لاکھوں لوگ ہلاک ہوتے رہے۔
اگر برطانوی ملکیت میں چلنے والے The Statesman کا مدیر خاموشی توڑنے کا رسک نہ لیتا تو شاید لاکھوں لوگ مزید ہلاک ہو جاتے، لیکن ان دو اداریوں کے بعد لندن میں مقیم برطانوی حکومت کو قحط کی شدت کا اندازہ ہوا اس نے فوری اقدامات کئے اور جلد ہی قحط ختم ہو گیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ بنگال کا انسانیت سوز قحط کسی قدرتی آفت کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ وہ قحط انسانی غلطیوں کا نتیجہ تھا جو انڈیا میں مقیم برطانوی گورنروں اور وائسرائے کی غلط پالیسی اور میڈیا بلیک آئوٹ کی وجہ سے وقوع پذیر ہوا۔ غلط پالیسیوں میں دوسری صوبوں کے ساتھ بنگال کی چاول کی نجی تجارت پر پابندی، قلت کے باوجود چاول کی بنگال سے درآمد کی پالیسی تھی۔ برطانوی بیوروکریسی کا خیال تھا کہ قلت معمولی نوعیت کی ہے اور ان کی ان پالیسیوں سے قحط کا کوئی خطرہ نہیں ہے۔ لیکن وہ یہ بات بھول گئے کہ دوسری جنگ عظیم کے اس زمانے میں جب جاپان برما تک پہنچ چکا تھا، بنگال میں بے پناہ فوجی سرگرمیوں کی وجہ سے بڑی تعداد میں فوجوں اور تعمیراتی مزدوروں کی آمد کی وجہ سے شہروں میں چاول مہنگا ہو گیا تھا جبکہ دیہی علاقوں کی آمدنی منجمد ہونے کی وجہ سے دیہی آبادی مہنگا چاول نہ خرید سکنے کے باعث قحط کا شکار ہو گئی۔ اگر میڈیا کو رپورٹ کرنے کی اجازت ہوتی اور بروقت یہ بات اعلیٰ برطانوی حکام یا برطانوی پارلیمان کے علم میں آ جاتی تو مناسب پالیسی تبدیلیوں سے لاکھوں لوگوں کی اموات روکی جاسکتی تھیں لیکن میڈیا بلیک آئوٹ کی وجہ سے وہ اندھیرے میں رہے اور بیوروکریسی انہیں غلط اعدادوشمار دیتی رہی۔ میڈیا بلیک آئوٹ آخر کیوں ہوا اس کی وجہ بھی جانی پہچانی ہے جب قحط کا آغاز ہونا شروع ہو گیا تو برطانوی حکام نے سوچا کہ جاپان کو جو بارڈر پر موجود تھا، اس کی بھنک نہیں پڑنی چاہئے ورنہ قومی سلامتی خطرے میں پڑ جائے گی۔ سو اس پالیسی کے تحت بیوروکریسی ایک طرف قحط کے اعدادوشمار دبانا شروع ہو گئی جبکہ دوسری جانب میڈیا کو اصل صورتحال رپورٹ کرنے سے روکنے کیلئے ہراساں کیا جانے لگا۔ پھر جو ہوا وہ آپ کے سامنے ہے۔ امرتیا سین نے یہ واقعہ اپنی کتاب میں جمہوریت اور آزاد میڈیا کی اہمیت بیان کرنے کیلئے درج کیا ہے۔
جمہوری فیصلہ سازی کے فقدان اور میڈیا بلیک آئوٹ کے باعث آمروں نے پاکستان کو سیٹو سینٹو، سی آئی اے کے افغان جہاد اور امریکہ کی دہشتگردی کیخلاف جنگ میں دھکیل دیا ، لیکن جمہوریت اور قدرے آزاد میڈیا نے پاکستان کو سعودی ایران تنازع میں جھونکنے سے بچا لیا۔ بھارت کیساتھ چار پانچ جنگیں ہو چکیں، میڈیا بلیک آئوٹ کی وجہ سے ان جنگوں کے آغازو انجام اور نقصان کے بارے میں جو کچھ ہمیں بتایا گیا، پوری دنیا اس سے متضاد رائے رکھتی ہے۔ اندرونی انتشار کے سلسلے میں جمہوری فیصلہ سازی کے فقدان اور میڈیا بلیک آئوٹ نے بنگال کو علیحدہ ملک بنا دیا، قومی اور لسانی نفرتوں کو جنم دیا، کئی شہروں اور صوبوں میں ہزاروں پاکستانی جان سے گئے۔ لیکن کسی کو یہ سوال اٹھانے کی اجازت نہیں دی گئی’’یہ کس کا لہو ہے، کون مرا‘‘۔ چند روز پہلے یہ بات میڈیا میں آئی کہ 2005ءسے 2012ءکے درمیان 58,000 نامعلوم شہریوں کی لاشوں کو دفنایا گیا لیکن اس سانحے کو بھی پانچ سال بعد رپورٹ کرنے کی اجازت ملی۔ آج کل ہر کوئی محسوس کر رہا ہے کہ میڈیا کی آزادی بڑھنے کی بجائے مزید کم ہو رہی ہے، جمہوریت مضبوط ہونے کی بجائے کمزور ہو رہی ہے۔ میڈیا کی زیادہ عوامی شکلیں جو سامنے آ رہی ہیں تو پابندیوں کی حرارت عوام تک بھی پہنچ رہی ہے۔ کچھ حلقوں کی طرف سے جن میں میڈیا کے کچھ اپنے لوگ بھی ہیں اور وہ بھی جو بظاہر جمہوریت کا دم بھرتے ہیں، میڈیا کی آزادی اور آزادیِ رائے کو ایک برائی اور شر انگیزی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش بھی جاری ہے۔ ان حالات میں پاکستان کےعوام کیساتھ مستقبل میں کیا ہونے جا رہا ہے، اندازہ لگانا مشکل نہیں۔



.

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں