آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

میاں شہباز شریف چیف منسٹر پنجاب نے عمران خان کو ’’یو ٹرن خان‘‘ کا نام دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے دھرنوں کی وجہ سے پاکستان کی قومی معیشت کو کم از کم دس ماہ کا نقصان ہوا ہے۔ دھرنوں نے قومی زندگی کے دس ماہ ضائع کئے ہیں۔ اس کے علاوہ چین کے وہ سرمایہ کار جو پاکستان میں سرمایہ کاری کا ارادہ رکھتے تھے اپنا سرمایہ واپس لے گئے ہیں۔قومی ترقی کی رفتار کو ذہن میںرکھا جائے تو دس مہینوں کے نقصان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہےاور بہت بڑا نقصان ہوتا ہے جس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔ قومی معیشت تو دس دنوں کے نقصان کی تلافی نہیں کرسکتی دس ماہ کا نقصان تو دس دنوں کے نقصان سے تیس گنا زیادہ ہوتا ہے جو مضبوط سے مضبوط معیشتوں کے لئے ناقابل تلافی ہوتا ہے۔ دس مہینوں کا نقصان معیشتوں کے دور دراز کے علاقوں تک بھی پہنچ پاتا ہے اور قومی معیشت کو ہلا کے رکھ دیتا ہے۔ عمران خان اگر دھرنوں کی سیاست شروع کرنے سے گریز کرتے تو پاکستان اور چین کا اقتصادی تعاون قابل توجہ حد تک سفر کر چکا ہوتا اور بہت سے اقتصادی منصوبے تکمیل کے مراحل طے کر رہے ہوتے۔ دھرنے، ہڑتالیں، تالا بندیاں معیشت کی رفتار میں رکاوٹیں پیدا کرتی ہیں اور قومی معیشت کو آگے بڑھانے کی بجائے پیچھے لے جاتی ہیں۔ چین، پاکستان اقتصادی راہداری کا پروگرام دنیا کے سب سے زیادہ انقلاب آفریں

پروگراموں میں شمار کیا جاتا ہے اور اس کی اقتصادی اہمیت نہر سویز اور نہر پاناما سے بھی زیادہ اہمیت کی حامل بتائی جاتی ہے۔ اصل صورت حالات کا تو اس وقت اندازہ ہوگا جب یہ پروگرام شروع ہوگا اور دنیا کے ایک تہائی سے بھی زیادہ علاقے کے لوگ ایک مشترکہ اقتصادی عمل میں شریک ہوں گے۔ بہت سے علاقوں کے زیر زمین خزانے وہاں کی آبادیوں کے کام کرنے، صنعت، حرفت، زراعت، طب اور تعلیم کے شعبے میں بھی انقلاب برپا ہوگا۔ اگر اس پروگرام پر عمل درآمد میں رکاوٹ پیدا کرنے کی سازشیں نہ ہوتیں تو یہ پروگرام بہت سا عملی فاصلہ طے کرچکا ہوتا اور عوام کے ایک بڑے طبقے تک اس کے فائدے پہنچ رہے ہوتے۔چین کی روس کی سابقہ ریاستوں میں سوشلسٹ انقلاب نے محنت کشوں کی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں جو مثبت تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں وہ بھی اس تمام علاقے کے لوگوں، محنت کشوں، سرمایہ کاروں کے کام کر سکتی ہیں اور کم از کم وقت میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک ترقی اور حالات کار کی بہتری سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے اور چین پاکستان راہداری دنیا کے ترقی پذیر علاقوں کے مقابلے میں بہت تھوڑے وقت میں ترقی سے آشنا ہوسکتے ہیں۔ دنیا کی ایک تہائی آبادی کا ترقی کا سفر پوری دنیا کی بہتری کا سامان بن جاتا ہے۔ راہداری بھی انشاء اللہ ایسا ہی کردار اداکرسکتی ہے۔ چین، پاکستان، اقتصادی راہداری کا منصوبہ دنیا کے تمام محنت کشوں کی توجہ حاصل کرے گا محنت کشوں کے علاوہ یہ منصوبہ سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کی توجہ بھی حاصل کرے گا اور محنت کی عظمت اور اخوت کی برکت کے ثبوت بھی فراہم کرے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں