آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ نے گزشتہ دنوں ’’پاکستان کے مسائل اور حکومتی کارکردگی‘‘ پر ایک سروے رپورٹ جاری کی جس کے مطابق 52 فیصد پاکستانی عوام موجودہ (ن) لیگ حکومت کی کارکردگی سے غیر مطمئن اور 48 فیصد مطمئن نظر آتے ہیں۔ آئی آر آئی سروے میں بتایا گیا ہے کہ 56 فیصد پاکستانی عوام کی نظر میں پاک فوج ملک کا سب سے مقبول ادارہ ہے جبکہ 34 فیصد عوام میڈیا اور 10 فیصد عدلیہ پر اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ سروے کے مطابق 81 فیصد عوام کی رائے میں ملک درست سمت نہیں بڑھ رہا جبکہ 19 فیصد کی رائے میں ملک درست سمت جارہا ہے۔ رپورٹ میں 42 فیصد عوام نے بجلی کا بحران، 21 فیصد نے مہنگائی، 12 فیصد نے بیروزگاری جبکہ 10 فیصد عوام نے دہشت گردی اور کرپشن کو پاکستان کے بڑے مسائل قرار دیا ہے، اگر پاکستان میں آئندہ ہفتے انتخابات کروائے جائیں تو 33 فیصد عوام (ن) لیگ، 11 فیصد تحریک انصاف اور 9 فیصد پیپلزپارٹی کے حق میں ووٹ دیں گے۔ سروے کے مطابق 60 فیصد عوام کی نظر میں گزشتہ انتخابات شفاف اور منصفانہ تھے جبکہ 27 فیصد عوام نے انتخابات کو غیر شفاف قرار دیا اور 19 فیصد نے ملک میں تبدیلی لانے کیلئے ووٹ دیا۔ صوبائی حکومتوں کی کارکردگی پر 73 فیصد عوام نے پنجاب حکومت، 34 فیصد نے سندھ، 30 فیصد نے بلوچستان اور 49 فیصد نے خیبرپختونخوا حکومت کی کارکردگی کو

سراہتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کی کارکردگی کو دیگر صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کے مقابلے میں سب سے بہتر قرار دیا۔ میں معیشت کے طالبعلم کی حیثیت سے حقیقی اعداد و شمار کی بنیاد پر ملکی معیشت کا ایک جائزہ پیش کرنا چاہوں گا۔ ملکی معاشی کارکردگی کچھ شعبوں میں بہتری اور کچھ کی کارکردگی غیر اطمینان بخش رہی۔ ملکی معیشت 300 ارب ڈالر سے تجاوز کرگئی ہے۔ آئی ایم ایف کے پروگرام کے تحت حکومت نے میکرو اکنامک استحکام حاصل کیا، زرمبادلہ کے ذخائر 2013 کے 6 ارب ڈالر سے بڑھ کر 20.93 ارب ڈالر ہوگئے جس میں 16.15 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے ڈپازٹس شامل ہیں جس میں آئی ایم ایف اور عالمی مالیاتی اداروں کے قرضے اور سعودی امدادشامل ہے۔ افراط زر جو جولائی 2013ء میں 8.3 فیصد تھا، کم ہوکر 4 فیصد پر آگیا۔ حکومت نے ہر سال 20فیصد اضافے سے ریونیو وصولی کی اور 2016-17ء میں 3500 ارب روپے کا ریکارڈ ریونیو وصول کیا۔ملکی جی ڈی پی کی شرح 5.7 فیصد ہدف کے مقابلے میں5.3فیصد رہی، صنعتی شعبہ 7.7فیصد ہدف کے مقابلے میں 5فیصد گروتھ حاصل کرسکا جس میں بڑے درجے کی صنعتوں کی گروتھ 4.9 فیصد بھی شامل ہے، زرعی سیکٹر نے اپنے 3.5 فیصد ہدف کے مقابلے میں 3.4 فیصد گروتھ حاصل کی جبکہ سروس سیکٹر کی گروتھ 6 فیصد ہدف کے مقابلے میں 5.7فیصد رہی۔ اس سال بھی ملکی ایکسپورٹس میں 3فیصد کمی ہوئی ہے اور رواں مالی سال کے 9مہینے میں ایکسپورٹس 17.9 ارب ڈالر رہی ہیں۔ توقع ہے کہ یہ 21.6 ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی جبکہ ملکی امپورٹس گزشتہ سال کے 33.44 ارب ڈالر کے مقابلے میں 18.7فیصد اضافے سے 37.8 ارب ڈالر تک پہنچ چکی ہیں جس میں 40فیصد سی پیک، ٹیکسٹائل مشینری اور ایل این جی کی امپورٹس ہیں۔
2016-17ء کے پہلے 10مہینوں میں ایل این جی کی امپورٹس 965 ملین ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جس کی وجہ سے پیٹرولیم مصنوعات کے امپورٹ بل میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کے باعث تجارتی خسارہ مسلسل بڑھ رہا ہے اور زرمبادلہ کے ذخائر کم ہورہے ہیں۔ عالمی مارکیٹ میں تیل اور کمیوڈیٹی کی قیمتوں میں کمی ہونے کی وجہ سے حکومت کو تیل کے امپورٹ بل میں تقریباً 7 ارب ڈالر کی بچت ہوئی ہے نہیں تو تجارتی خسارہ خطرناک حد تک بڑھ جاتا۔ حالیہ بجٹ کا مالی خسارہ 4.2 فیصد ہے جبکہ اس کا ہدف 3.8 فیصد تھا لیکن اگر اس میں 250 ارب روپے ایکسپورٹرز کے سیلز ٹیکس ریفنڈ اور 480 ارب روپے سرکولر ڈیٹ کے واجب الادا رقم شامل کرلی جائے تو بجٹ کا مالی خسارہ 5 فیصد کے قریب پہنچ جائے گا۔ مسلم لیگ (ن) حکومت نے گزشتہ دو سالوں میں تقریباً 22 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے حاصل کئے ہیں جس سے پاکستان پر قرضوں کے بوجھ میں ناقابل یقین حد تک اضافہ ہوگیا ہے۔ پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے خطے میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا اور انڈیکس نے 53,000 کی ریکارڈ حد کو چھوا لیکن 2017-18ء کے بجٹ میں ڈیویڈنٹ کی شرح میں اضافہ اور 15فیصد فلیٹ کیپٹل گین ٹیکس لگانے کے منفی اثرات دیکھنے میں آئے۔ اسکے علاوہ یکم جون کو ایمرجنگ مارکیٹ (MSCI)کے 400 سے 500 ملین ڈالر کی نئی سرمایہ کاری کے بجائے فرنٹیر مارکیٹ اور دیگر فنڈ منیجرز نے 149.5 ملین ڈالر کے شیئرز فروخت کئے جس کے باعث ایک ہفتے میں PSX ریکارڈ 4,000پوائنٹس گرکر 48,555پوائنٹس کی سطح پر آگیا ہے اور سرمایہ کاروں کے کھربوں روپے ڈوب گئے۔ ایک سروے رپورٹ کے مطابق پاکستان میں بیروزگاری 5.9 فیصد سے زائد ہے جس میں زیادہ تر 15سے19 سال تک کے نوجوان اور 65سال سے زائد عمر کے افراد شامل ہیں۔ این ای ڈی یونیورسٹی کے پروفیسر ڈاکٹر نعمان احمد کے مطابق این ای ڈی میں 15 فیصد طلبا اور 85فیصد طالبات ہیں یعنی 55طالبعلموں کی جماعت میں 8لڑکے اور 47لڑکیاں ہیں جبکہ 5سال پہلے یہ تناسب 5فیصد طلبا اور 95فیصد طالبات کا تھا جس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ انجینئرنگ کے شعبے میں لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیوں کی دلچسپی زیادہ ہے۔ پاکستان کی آبادی 60فیصد نوجوانوں پر مشتمل ہے جبکہ یورپ میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد زیادہ ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ان نوجوانوں کو اچھی تعلیم دیکر ملک کیلئے کارآمد بنائیں ورنہ یہ نوجوان ناخواندگی اور بیروزگاری کے باعث دہشت گردی اور دیگر جرائم میں ملوث ہوکر ملک کیلئے بوجھ بن سکتے ہیں۔ ملک میں صنعتکاری کا عمل جمود کا شکار ہے اور نئی ملازمتوں کے مواقع محدود ہوکر رہ گئے ہیں لیکن سی پیک کا منصوبہ ملک میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے امید کی کرن ہے جس سے فائدہ اٹھانے کیلئے ہمیں اپنے نوجوانوں کو ملکی ترقی کیلئے تعلیم، صحت کی بنیادی سہولتوں اور روزگار کیلئے زیادہ سے زیادہ وسائل مختص کرنا ہونگے جو مجھے موجودہ اور ماضی کی حکومتوں کی ترجیحات میں نظر نہیں آتا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں