حلال فوڈ پر ”حلال پاکستان برانڈ“ کے عنوان سے میرے گزشتہ کالم پر مجھے اندرون و بیرون ملک سے بیشمار ای میلز ملیں جن میں قارئین نے مذکورہ کالم کو نہ صرف پسند کیا بلکہ اس موضوع پر مجھ سے مزید لکھنے کی درخواست کی۔ گزشتہ ہفتے حلال فوڈ پر کانفرنس میں ایکسپو کے آرگنائزر اسد سجاد نے سندھ کلب میں کراچی کی 20 مشہور فوڈ کمپنیوں کے سربراہوں اور ممتاز ایکسپورٹرز کو حلال فوڈ پر ایک نہایت معلوماتی پریزنٹیشن دی۔ اس کانفرنس میں، میں بھی مدعو تھا جس کی کچھ اہم باتیں قارئین سے شیئر کر رہا ہوں۔
پریزنٹیشن میں اس کی وضاحت کی گئی کہ حلال فوڈ سے مراد محض چکن اور بیف ہی نہیں بلکہ حلال فوڈ میں سروسز (خدمات)،مشروبات، کاسمیٹکس، فارماسیوٹیکلز، پرفیوم حتیٰ کہ چاول، پانی، پولٹری کی خوراک، چمڑے اور ٹیکسٹائل کی مصنوعات بھی شامل ہیں جن کی تیاری کے عمل (Process) کے دوران استعمال کیے جانے والے تمام کیمیکلز اور Additives میں اسلامی نقطہٴ نظر سے کوئی حرام عنصر شامل نہ ہو۔ حلال ایک اسلامی قدر (Value) ہے جس کی رو سے ان مصنوعات کی فنانسنگ، سورسنگ، پروسیسنگ، اسٹوریج اور مارکیٹنگ میں کوئی حرام عنصر یا عمل شامل نہیں کیا گیا ہو۔ دراصل دنیا میں گوشت کے علاوہ کھانے پینے اور استعمال کی جانے والی اشیاء میں بہت سے حرام عنصر استعمال کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے وہ اشیاء حلال نہیں رہتیں جن کا بحیثیت مسلمان ہمارے لیے جاننا نہایت ضروری ہے۔
حلال فوڈ پر مذکورہ کانفرنس میں، میں نے پوچھا کہ پانی کس طرح حلال یا حرام ہو سکتا ہے۔ مجھے بتایا گیا کہ منرل واٹر جس آر او(RO) پلانٹ کے ذریعے تیار کیا جاتا ہے، اس میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کی کچھ آمیزش بھی کی جاتی ہے جوکئی ذرائع سے حاصل ہوتی ہے جس میں ایک ذریعہ ہڈیاں بھی ہیں ۔ اگر یہ ہڈیاں خنزیر (سور) کی ہیں تو یہ پروسیس حلال کے زمرے میں نہیں آتی۔ اسی طرح چاولوں کی تیاری اور پولشنگ میں استعمال ہونے والے کیمیکلز میں کوئی ایسا عنصر شامل نہ ہو جو حرام اشیاء سے حاصل کیا گیا ہو۔ لیدر مصنوعات اور ڈینم جینز بنانے میں متعدد کیمیکلز استعمال کیے جاتے ہیں جن میں سے کچھ سورکی چربی سے حاصل کیے جاتے ہیں جن کو استعمال کرنے کی صورت میں شرعی اعتبار سے ان کے ساتھ نماز پڑھنا درست نہیں۔ اسی طرح پرفیومز میں الکوحل ایتھانول عموماً استعمال کیا جاتا ہے جو حلال نہیں اور اس کو لگا کر عبادت کرنا ممنوع ہے۔ اسی طرح اگر فنانسنگ کیلئے بینکنگ کا سودی نظام استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ یقیناً حلال نہیں ہے۔ حلال سرٹیفکیشن کرتے وقت پروڈکٹ اور اسے بنانے کے پروسیس دونوں کو ٹیسٹ کیا جاتا ہے اور اگر ان دونوں میں کوئی حرام چیز استعمال نہیں کی گئی تو اس کا حلال سرٹیفکیشن جاری کیا جا سکتا ہے۔ مسلم ممالک کو کپڑے اور ٹیکسٹائل کی بہت سی مصنوعات برآمد کی جاتی ہیں اگر ہم ان مصنوعات کی حلال سرٹیفکیشن کے ساتھ مارکیٹنگ کریں تو یہ مسلم ممالک کو اچھی قیمت پر بیچی جا سکتی ہیں۔ ہم نے اپنے حلال برانڈ کو باہمی تجارت میں کوئی اہمیت نہیں دی جبکہ چین، یورپ اور امریکہ مسلم ممالک میں حلال فوڈ برانڈ متعارف کروا کے ملین ڈالر کی ایکسپورٹ کر رہے ہیں۔ سعودی عرب میں عمرے اور حج کے دوران اربوں ڈالر کی تسبیحاں، جائے نماز اور ٹوپیاں وغیرہ چین سے درآمد کی جاتی ہیں جو ہمارے لیے لمحہٴ فکریہ ہے۔
حلال مصنوعات اپنی (Hygenic) کوالٹی کی وجہ سے معروف ہیں، اس لیے ان کی طلب صرف مسلمان صارفین تک ہی محدود نہیں بلکہ اسلام کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکار بھی حلال اشیاء خریدتے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں تیزی سے ترقی پذیر حلال مارکیٹ میں زیادہ سے زیادہ حصے کیلئے کوشاں ہیں۔ حلال اشیاء کی سرٹیفکیشن کا اسٹینڈرڈ انڈونیشیا، ملائیشیا اور بہت سے غیر مسلم ممالک بشمول چین، تھائی لینڈ، فلپائن، فرانس، جرمنی، نیدر لینڈ، برطانیہ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، جنوبی افریقہ برازیل اور امریکہ میں نافذ العمل ہے۔ اس وقت دنیا کے 25 ممالک میں حلال اشیاء کی سرٹیفکیشن کے 200 سے زائد ادارے ہیں۔ اکثر مسلم ممالک میں حلال اشیاء کی درآمد کیلئے کوئی اسٹینڈرڈ قائم نہیں، صرف ترکی نے یورپ سے حلال اشیاء کی درآمد کیلئے حلال اسٹینڈرڈز قائم کیے ہوئے ہیں۔ حلال اشیاء کے صارفین کی ترجیحات کے سلسلے میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق جنوب مشرقی ایشیا کے تقریباً 3.1% لوگ حلال اشیاء فراہم کرنے والے ملک، 32.8% لوگ قیمتوں، 69.6% صارفین برانڈ نام اور سب سے زیادہ تقریباً 83.6% صارفین پیکنگ پر لگے حلال لوگو (Logo) کی وجہ سے حلال اشیاء خریدتے ہیں۔ امریکی کمپنی گوشت اور دیگر مصنوعات کی سالانہ مارکیٹ 100 ارب ڈالر سے زیادہ ہے جس میں86 ہزار سرٹیفائیڈ مصنوعات دستیاب ہیں جنہیں 5 سے 6 ملین یہودی استعمال کرتے ہیں۔ امریکہ میں کیے گئے حالیہ سروے کے مطابق ان مصنوعات کی صرف 15% خریدار یہودی ہیں جبکہ 69% غیر یہودی اور 16% مسلمان بھی یہی خریدتے ہیں کیونکہ ان مصنوعات کو غیر مذبح کے مقابلے میں صحت کیلئے مفید سمجھا جاتا ہے۔
حلال سروسز بھی عالمی حلال مارکیٹ کا اہم جزو ہے جس میں اسلامی بینکاری، سیکورٹیز اینڈ بانڈز، اسلامی سیر و سیاحت، حلال پروسیسنگ، پیکجنگ اور فوڈ سپلائی کا نظام شامل ہے۔ اس کے علاوہ یہ یقینی بنانا بھی انتہائی ضروری ہے کہ حلال اشیاء اپنے منبع (Origin) سے لیکر صارفین تک حلال ہوں۔ حلال اشیاء کی کھپت کیلئے پاکستان کی اپنی16 کروڑ سے زائد آبادی ایک بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ پاکستان جنگ زدہ ملک افغانستان کی30 ملین آبادی کیلئے سپلائی کا سب سے بڑا روٹ، وسطی ایشیا کے 55 ملین مسلمانوں کو حلال اشیاء کی فراہمی کیلئے روڈ ٹرانسپورٹ کا ایک آسان ذریعہ ہونے کے علاوہ اسے بھارت کے150 ملین لوگوں تک براستہ سڑک آسان رسائی میسر ہے۔ اسی طرح پاکستان خطے میں مشرق وسطیٰ کی تقریباً 56 ملین مسلم آبادی کو حلال اشیاء کی فراہمی کا ایک اہم گیٹ وے اور اسے مذکورہ 461 ملین کی مجموعی مسلم آبادی تک حلال مصنوعات کی فراہمی کیلئے براہ راست رسائی حاصل ہے جس سے یقیناً پاکستان خطے میں حلال اشیاء کی فراہمی کا سب سے بڑا مرکز بن سکتا ہے۔ اسی طرح شمالی افریقہ میں181 ملین، مشرقی افریقہ میں 92 ملین سے زائد اور جنوبی افریقہ میں 12 ملین، مغربی افریقہ میں 150 ملین سے زائد، وسطی افریقہ میں17 ملین اور یورپ میں 50 ملین سے زائد بشمول 27 ملین روسی مسلمان، فرانس میں 6 ملین اور جرمنی میں 3 ملین ، مشرقی ایشیا اور آسیان میں360 ملین مسلمان آباد ہیں۔ جنوب وسطی ایشیا کی 600 ملین کی آبادی پاکستانی حلال اشیاء کے سپلائرز کیلئے بہت بڑی مارکیٹ ہے۔ امریکہ کی6.4 ملین، برازیل کی ایک ملین اور کینیڈا کی0.8 ملین مسلم آبادی بھی حلال مصنوعات کی اہم مارکیٹ ہے۔
دنیا میں حلال فوڈ سپلائی کرنے کا بڑا پوٹینشل موجود ہے۔ ہمیں” حلال پاکستان برانڈ“ کو فروغ دے کر عالمی سطح پر پھیلی ہوئی وسیع حلال مارکیٹ سے استفادہ کرنا چاہیے۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہماری نئی نسل جو امریکہ، یورپ اور دیگر غیر مسلم ممالک میں زیرتعلیم ہے، وہ حلال فوڈ کے استعمال پرکسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرتی۔ میرے اپنے بچے امریکہ اور برطانیہ میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، وہ ان بین الاقوامی فاسٹ فوڈ چین سے کھانے کی اشیاء نہیں خریدتے جو حلال سرٹیفائیڈ نہ ہوں۔ یہ ہماری وہ اقدار ہیں جن پر ہم فخر کرسکتے ہیں۔