• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یہ ہیجان…! ,,,,نقش خیال…عرفان صدیقی

اصولی اور نظری اعتبار سے صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر نے بالکل درست کہا کہ ”فوج کو یوں کھلے بندوں اپنے خدشات یا تحفظات کے اظہار سے گریز کرنا چاہئے تھا۔ اگر کوئی تشویش تھی بھی تو اسے حکومت تک پہنچانے کے لئے کئی فورم موجود تھے“۔ ہم وہ لوگ ہیں جنہیں کم و بیش چار مرتبہ سانپ ڈس چکا ہے سو ہم رسی سے بھی ڈرنے لگے ہیں۔ آج کی دنیا میں ترقی یافتہ جمہوری ممالک کے اندر بھی مسلح افواج قومی معاملات کی صورت گری میں اہم کردار رکھتی ہیں۔ بالخصوص خارجہ امور کے حوالے سے عسکری سوچ کو خاصی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ امریکہ کی خارجی حکمت عملی کا سارا تانا بانا عسکری مہم جوئی اور ایجنسیوں کے متحرک کردار سے عبارت ہے۔ پاکستان کی تو پوری تاریخ ہی، کہیں بالواسطہ اور کہیں بلاوابسطہ کورکمانڈروں کے فکر و تدبر کا شاہکار ہے۔ یہاں یہ باور کرلینا کہ فوج ریاستی معاملات سے کلی طور پر لاتعلق ہوکر بیٹھ جائے گی، خیال خام یا خود فریبی کے سوا کیا ہے؟ اس کے باوجودکسی کورکمانڈر کانفرنس کی طرف سے حکومت مخالف فکر پر مبنی ایک تند و تیز بیان کا باضابطہ طور پر جاری ہونا، کوئی دل خوش کن پیش رفت نہیں۔ فوج کی تو سو پردوں کے پیچھے چھپی سرگوشی بھی صور اسرافیل بن کر دیر تک درودیوار کو لرزاتی رہتی ہے۔ یقینا وہ حکومت کو اپنے تحفظات یا خدشات سے آگاہ کرنے کے لئے پیغام رسانی کا کوئی ایسا طریقہ اختیار کرسکتی تھی جو ایوان صدر کی سبکی کا سبب نہ بنتا اور جس سے یہ تاثر بھی اجاگر نہ ہوتا کہ فوج ایک بار پھر جمہوری نظام کا دفتر لپیٹنا چاہتی ہے۔ لوگوں کے لئے یہ پہلو بھی حیرت کا باعث ہے کہ جب پرویز مشرف نامی شخص، اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سرخ قالین کی طرح امریکی سامراج کے قدموں تلے بچھا رہا تھا اور ان اہداف و مقاصدکا سینہ چھلنی کررہا تھا جنہیں مسلح افواج برس ہا برس تک اپنی اولادکی طرح پالتی رہی تھیں تو کور کمانڈروں نے اس کا ہاتھ پکڑنے یا یوں کھلے عام وارننگ جاری کرنے کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کی تھی؟ کیری لوگر بل کا شجر خبیثہ، زرداری نے نہیں بویا، یہ اس کھیت سے اُگا ہے جسے ایک وردی پوش جرنیل نو برس تک قومی خودی کی کھاد اور ملکی آزادی و خودمختاری کے لہو سے سینچتا رہا۔ جب اپنے اقتدار کے استحکام کے لئے پرویز مشرف نامی کمانڈو، فوج کی مقدس وردی پہنے ہوئے، قومی غیرت و حمیت کو چارہ بناکر سفید فام مویشیوں کی کھرلی میں ڈال رہا تھا تو میرے پیارے کور کمانڈر کہاں تھے؟
لیکن دوسری طرف نگاہ ڈالی جائے تو بھی چار سو ٹوٹی ہوئی طنابوں اور بجھی راکھ کی ڈھیر یوں کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ فوج کے اعلانیہ اظہار تشویش پر، اپنے اظہار تشویش کے بعد جب میں صدر آصف علی زرداری کے تشکیل کردہ جمہوری بندوبست کو دیکھتا ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے شعوری طور پر جمہوریت کو ناتواں کرنے، غیرجمہوری قوتوں کو بال و پر دینے اور فوج کو انگیخت کرنے کی حکمت عملی اپنائی جارہی ہے۔ ذرا اندازہ لگایئے اس بندوبست کے معماروں اور حکمت کاروں کا جسے ایک متعفن آمریت کے بعد عوام نے محبتوں اور عقیدتوں کے رتھ پر بٹھا کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچایا ہو جسے حاشیہ ادراک میں آنے والی تمام داخلی اور خارجی قوتوں کی اشیرباد حاصل ہو، جسے نواز شریف کی سربراہی میں قومی تاریخ کی سب سے بے ضرر، ہمدرد ودم ساز اور اسٹیبلشمنٹ سے سو قدم دور رہنے والی اپوزیشن ملی ہو، جسے بات بات پر بلیک میل کرنے کے بجائے تھوڑے کو بہت سمجھنے والے قناعت شعار اتحادی ملے ہوں، جسے جنرل اشفاق پرویز جیسے منضبط اور سیاست گریز آرمی چیف کا جی ایچ کیو میسر آیا ہو، جسے مریدان وفا کیش جیسی سیاسی جماعت ورثے میں ملی ہو، جسے آمریت دشمن اور جمہوریت نواز میڈیا ملا ہو، جس کے لئے سیاسی حریف بھی ایڑیاں اٹھا ٹھا کر پانچ برس تک حکمرانی کے نعرے لگا رہے ہوں، وہ بندوبست محض اٹھارہ ماہ میں خود اپنی چونچ سے اپنے پر نوچ ڈالے اور اپنا سر اپنے ہی درودیوار سے ٹکراٹکرا کر لہو لہان ہوجائے دست بے ہنر کے معجزے ایسے ہی ہوا کرتے ہیں۔
کیوں نہ ٹہریں ہدف ناوک بیداد کہ ہم
آپ اٹھا لاتے ہیں جو تیر خطا ہوتا ہے
صدر زرداری نے نہ صرف کمین گاہوں میں بیٹھے شکاریوں کو للکارا بلکہ خطا ہو جانے والا ہر تیر، ان کے آس پاس جھومر ڈالنے والے ہرکارے اٹھا لائے اور جناب صدر کے سینے میں پیوست کردیا۔ ہر شخص اپنا ایک مزاج، اپنی مخصوص افتاد طبع اور اپنا منفرد اندازفکر رکھتا ہے۔ یہ اجزائے ترکیبی مل کر اس کی فطرت اور شخصیت بناتے ہیں۔ پھر وہ جہاں بھی جائے جس منصب پر بیٹھے، معاملات کو اپنی آنکھ سے دیکھتا، اپنے ذہن سے سوچتا اور اپنی فطرت کے مطابق عمل یا ردعمل ترتیب دیتا ہے۔ وہ اپنے طریقہ کار کے مطابق تاش کے پتے لگاتا، شطرنج کی چالیں چلتا، آنکھ مچولی کھیلتا اور کرتب دکھاتا رہتا ہے۔ اس کھیل سے حاصل ہونے والی وقتی کامیابیوں کو وہ اپنی سیاسی سوجھ بوجھ اور حکمت و دانش کا کرشمہ سمجھنے لگتا ہے۔ اس کے آس پاس بیٹھنے والے اسے یقین دلادیتے ہیں کہ وہ بلا کا سیاست دان ہے اور اس نے کمال مہارت سے بڑے بڑے سیاسی پہلوانوں کا بھرکس نکال دیا ہے۔ یہ وہ فضا ہوتی ہے جب خوشامدیوں کے نرغے میں گھرا حکمران فاتحانہ سحر میں مبتلا ہوکر ان فصیلوں پر بھی کمندیں ڈالنے لگتا ہے جو اپنے تحفظ کا ہنر بخوبی جانتی ہیں۔
امریکہ اور جنرل اشفاق پرویزکیانی، اس این آر او کے معماروں میں شامل ہیں جس نے محترمہ بے نظیر بھٹو پر ایک بار پھر پاکستانی سیاست کے دروازے کھول دیئے۔ اس این آر او کی روح یہ تھی کہ آنے والے انتخابات کے بعد وزارت عظمیٰ محترمہ کے پاس ہوگی اور پرویز مشرف سویلین صدر کے طور پر موجود رہیں گے۔ محترمہ کی شہادت سے منظر یکسر بدل گیا۔ آصف زرداری نے پارٹی کی کمان سنبھال لی۔ یہ ناگزیر تھا۔ انتخابات سر پہ تھے اور پارٹی کو متحد و یکسو رکھے کے لئے اس کے سوا کوئی متبادل نہ تھا۔ لیکن کیا یہ بھی لازم تھا کہ وہ تمام جمہوری روایات حتیٰ کہ ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بے نظیر کے طرز عمل سے انحراف کرتے ہوئے منصب صدارت بھی سنبھال لیتے؟ یہ سوالیہ نشان فضا میں معلق ہے اور گزرنے والے ہر دن کے ساتھ نمایاں ہورہا ہے۔
فرحت اللہ بابر گزشتہ تین دنوں سے مسلسل ”میثاق جمہوریت“ کا حوالہ دے رہے ہیں۔ وہ جمہوریت کے استحکام اور مسلح افواج کے کردار کے بارے میں اس تاریخی عہد نامے کی شقیں یاددلارہے ہیں۔ کاش ایوان صدر ”میثاق جمہوریت“ کی حرمت و تقدیس کا پاس کرتا اور ڈیڑھ برس کے دوران آنکھ مچولی اور کرتب کاری کے بجائے پورے خلوص سے اس عہد نامے کی روح کو اپنے نظام میں سمونے کی کوشش کرتا ایک پنجابی محاورے کا مفہوم یہ ہے کہ ”ناک کا نزلہ جب منہ میں گرنے لگے تو کچھ کرنا پڑتا ہے“۔ کیا کور کمانڈرز کا اعلامیہ اسی ذیل میں آتا ہے؟ کیا واقعی موجودہ سیاسی ہیجان کا بڑا سبب جناب زرداری کی حکمت کار ہے؟ کیا اس اعلامیے کے بعد اعتماد کا وہ رشتہ استوار ہوسکتا ہے جو جمہوری استحکام کے لئے ناگزیر ہے؟ (جاری ہے)
تازہ ترین