آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعہ13؍ شعبان المعظم 1440ھ19؍اپریل 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

یورپی ممالک کی طرف آئیں تو پتا چلتا ہے کہ جب فرانس کی مالی حالت ابتر ہوئی تواُس وقت کے بادشاہ’’ لوئی ‘‘کی حکومت سرکاری خزانے کے دیوالیہ پن کو دُور نہ کر سکی، فرانس کے عوام بھوک افلاس اور غربت کی چکی میں پِس رہے تھے، ان وجوہات سے آنے والے فرانس کے انقلاب سے کون واقف نہیں ؟ 14 جولائی 1789ء میں جب اہل پیرس نے باستیل کے جیل خانے کو منہدم کیا تو اس انہدام سے پیرس کا باثروت طبقہ ڈر گیا اور اس نے بادشاہ سے اجازت لیے بغیر اپنی حکومت قائم کر لی۔ ان کی حکومت کے قیام کی خبر جب دیہاتی طبقے کے کانوں میں پڑی اور انھیں یہ بھی معلوم ہوا کہ’’ باستیل‘‘ کو منہدم کر دیا گیا ہے تو اُن کے دلوں سے قانون کا احترام اٹھ گیا اور انھوں نے 4 اگست 1789ء کو بغاوت کر دی اور سیاسی انقلاب کے ساتھ اقتصادی، سماجی اور مذہبی انقلاب کا آغاز ہو گیا۔ بادشاہ لوئی اور اُس کی بیوی ملک سے فرار ہو گئے، لیکن جلد ہی انہیںپکڑ کر پیرس واپس لایا گیا، یہ واقعہ 20تا25 جون 1791ء کو پیش آیا۔ فرانس کے بادشاہ’’ لوئی‘‘ کی گرفتاری سے ملک کے طول و عرض میں سنسنی پھیل گئی اور اس طرح حکومت وقت کا رہا سہا اقتدار بھی ختم ہوگیا۔ ستمبر 1791ء تک بادشاہ نظر بند رہا اس کے بعد نئے دستور کا نفاذ ہوا اور بادشاہ کو اس کے منصب پر بحال کردیاگیا۔ 20 جون اور 10اگست 1792ء کو عوام نے

فرانس کے شاہی محل پر حملہ کردیا اورشاہی جوڑے کی گرفتاری کا مطالبہ کیا، بادشاہ اور ملکہ کو دوبارہ قید کر لیاگیا، 21جنوری 1793ء کو بادشاہ لوئی اور 16اکتوبر 1793ء کو ملکہ فرانس کو موت کی سزا دے دی گئی۔اقتدار کا نشہ عجیب و غریب اہمیت کا حامل ہوتا ہے،اقتدار کے دور میں جو حکمران اپنے عوام کے مسائل سے باخبر رہتے ہیں، اُن کی خدمت کو عبادت سمجھتے ہیں، ضروریات کا خیال رکھتے ہیں وہ تاریخوں کے اوراق میںہمیشہ زندہ رہتے ہیں، لیکن جو حکمران ملک میں جاری بحرانوں کو دیکھ کر آنکھیں موند لیں اپنی عوام سے وابستگی ختم کر لیں، عوام کی ضروریات پر اپنی ضرورت کو ترجیح دیں،اپنی رہائش گاہیں برقی قمقموں سے جگمگائیں لیکن غریب عوام کو لوڈ شیڈنگ میں مبتلا رکھیں، اپنے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے لئے بیرون ممالک مقیم کریں اور ملک کے بچوں کوتعلیم کے زیور سے محروم رکھیں، حادثوں میں ہونے والی ہلاکتوں پر دعائے مغفرت مگر اُن حادثوں کی روک تھام کا سد باب نہ کریں، ایسا کرنے والے حکمرانوں کا ذکر بھی تاریخ میںپڑھنے کو ملتا ہے لیکن عبرت کے طور پر ۔جب انسان برسر اقتدار ہوتا ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ میں ہمیشہ کے لئے اس منصب پر فائز رہوں گا اور یہی وہم اُسے اُس وقت لے ڈوبتا ہے جب عوام کا سیلاب کسی انقلاب کا آغاز کرتا ہے ۔کرنل قذافی، صدام حسین، انور سادات،حسنی مبارک اور ایسے کئی مسلمان حکمران اور بادشاہ اپنے عوام کے عدم تعاون اور غصے کا شکار ہوئے، یہ ضروری نہیں کہ عوام جابر حکمرانوں کو جان سے مار کر ہی انتقام لیں بلکہ انتقام لینے کے مختلف طریقے ہیں جن میں سے ایک طریقہ حکمران کو فراموش کرنا اور اُسے بھول جانا بھی ہے۔ اب پاکستان کی بات کر لیتے ہیں جہاں دیکھا گیاہے کہ ماضی میں برسر اقتدار رہنے والی شخصیات کو لوگ پہچاننے سے انکار کر دیتے ہیں ۔ پاکستان کے مختلف شہروں میں ایسے کئی خاندان موجود ہیں جو ایک ہی وقت میں ضلعی، صوبائی اور قومی اسمبلیوں کے ُرکن رہ چکے ہیں، ایک وقت تھا جب اُن کے نام کا طوطی بولتا تھا، آج اُن کے پاس کوئی عہدہ ہے نہ ہی کسی اسمبلی کی کوئی نشست، شاید یہی عوامی انتقام کہلاتاہے اور اسی انتقام کی آگ بڑھتے بڑھتے انقلاب کی صورت اختیار کرلیتی ہے۔ چند دن پہلے چیئر مین ضلع کونسل گجرات بارسلونا آئے، بارسلونا میں گجرات اوراُس کے گرد و نواح سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد دوسرے پاکستانی شہروں سے کہیں زیادہ ہے،چیئرمین کے ایک بھائی ایم این اے اور دوسرے ایم پی اے ہیں،بارسلونا میں مقیم اہل گجرات نے چیئرمین کے اعزاز میں افطار ڈنر پارٹیوں کا اہتمام کیا جس میں ہزاروں پاکستانیوں نے شرکت کی اورمعزز مہمان کو سر آنکھوں پر بٹھایا گیا۔ چیئرمین ضلع کونسل جتنے دن بارسلونا میں رہے اُتنے دن ہی اُن کے اعزاز میں افطار پارٹیوں کا اہتمام ہوتا رہا۔ بارسلونا میں چیئر مین ضلع کونسل گجرات کی آمد سے پاکستانی کمیونٹی میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی ہر کوئی چاہتا تھا کہ معزز مہمان اُن کو میزبانی کا شرف بخشے،یہ خواہش اس بات کی غماز تھی کہ کوٹلہ برادران دُنیا بھر میں مقیم اپنے اہل علاقہ سے مکمل رابطے میں ہیں۔ضلع گجرات کی چیئر مین شپ تقریباً30سال تک چوہدری شجاعت برادران کے پاس رہی، چوہدری برادران کو گجرات کا’’ان داتا‘‘ سمجھا جاتا تھا، کوئی ماننے کو تیار نہیں ہوتا تھا کہ یہ برادران کسی بھی الیکشن میں کبھی شکست کھاسکتے ہیں،لیکن وقت نے عوام اور بر سر اقتدارشخصیات کے درمیان پیدا ہوئے خلاکو قومی، صوبائی اور بلدیاتی الیکشنوں میں ظاہر کر دیا چوہدری برادران ملک میں حکومت نہ بنا سکے اور گجرات ضلع کی آخری اُمید ضلع کونسل کے چیئر مین کی نشست بھی ہار گئے ۔موجودہ چیئر مین ضلع کونسل گجرات سے پہلے شجاعت حسین کے بھائی اس نشست پر براجمان تھے،بارسلونا میں جس دن موجودہ چیئر مین کے اعزاز میں دوسری افطار پارٹی دی گئی اُس دن سابق ضلعی چیئر مین کو اکیلے سمندر کے کنارے سیرکرتے دیکھا گیا، اس موقع پر اُن کی اپنی جماعت کا کوئی نمائندہ ساتھ تھا اور نہ ہی کسی نے بارسلونا میں اُن کے اعزاز میں افطار پارٹیوں کا اہتمام کیا ۔یہ لمحہ فکریہ ہے،برسر اقتدار شخصیات کے لئے کہ کیا وہ عوام الناس اور اپنے اہل حلقہ کی خدمت کا کوئی ایسا پودا لگا رہے ہیں جو الیکشنوں میں شکست کی دُھوپ میں انہیں چھاؤں دے سکے ۔
نہیں ہے نا اُمید اقبال اپنی کشت ِ ویراں سے
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں