ایک نیک دل سرمایہ دارنے اپنے ایک دیرینہ خادم عبدالشکور کی خدمات کے پیش نظر اپنے دفتر میں اس کے لئے ایک مختصر سی تقریب پذیرائی منعقد کی جس میں اس کی امانت، دیانت، اہلیت اور محنت کی بے حد تعریف کی اور آخر میں کہا کہ میں اپنے اس وفادار کارکن کے لئے ایک ایوارڈکا اعلان کر رہا ہوں اور اس کی عمر بھر کی خدمات کاایوارڈ یہ ہے کہ آئندہ اسے ”تم“ نہیں ”آپ“ کہہ کر پکارا جائے گا اور ”اوئے شکور“ کی بجائے ”شکور صاحب“ کہا جائے گا!“ ایک اسی طرح کا نیک کام جنرل ضیاء الحق مرحوم نے بھی کیا تھا، انہوں نے حکم جاری کیا کہ چپراسی کو آئندہ چپراسی نہیں نائب قاصد کہا جائے چنانچہ اس وقت سے چپراسی حضرات ”نائب قاصد“ کے عہدہٴ جلیلہ پر فائز ہوچکے ہیں اورنئے نام کیساتھ پرانی تنخواہ پر ہی کام کر رہے ہیں۔
تاہم اگر سچ پوچھیں تو سارے نائب قاصد گریڈ I کے نہیں ہوتے بلکہ بعض صورتوں میں اس میں گریڈ 17 سے گریڈ 22 تک کے نائب قاصد بھی شامل ہیں اور انہیں نائب قاصد بھی نہیں کہا جاتا بلکہ بڑے بڑے مناصب ان کے نام کے ساتھ لگے ہوتے ہیں تاہم ان میں سے کئی ایک لوگ نائب قاصد والا کام بھی بہت خوشدلی سے کرتے ہیں۔ان میں سے زیادہ تر کا تعلق مرکز اورصوبوں میں طاقت کے مراکز سے ہوتا ہے۔ یہ اپنے صاحب کے سامنے بچھ بچھ جاتے ہیں۔ ان کی نگاہ ِ دور رس پہچان جاتی ہے کہ صاحب فائل کامطالعہ کرنا چاہتے ہیں چنانچہ فوراً آگے بڑھ کر عینک کے کیس میں سے ان کی پڑھنے والی عینک نکالتے ہیں اوراسے اپنے رومال سے صاف کرکے ان کے ہاتھوں میں تھما دیتے ہیں، انہیں یہ بھی اندازہ ہوجاتا ہے کہ صاحب کو سگریٹ کی طلب ہو رہی ہے چنانچہ یہ فوراً میز پر دھرے پیکٹ میں سے سگریٹ نکال کر صاحب کوپیش کرتے ہیں اور لائٹر سے سگریٹ سلگاتے ہیں۔ چائے آتی ہے تو خود بناتے ہیں۔ ملک و قوم کے لئے صاحب کے تباہ کن فیصلوں کے قصیدے پڑھتے ہیں، ان کی انگریزی کو انگریزوں سے بہتر بتاتے ہیں، ان کے حسن پر صدقے واری ہوتے جاتے ہیں، دفتر میں داخل ہونے پر صاحب کا کوٹ اتارتے اور جاتے ہوئے پہناتے ہیں، ان کے جوتوں پر پڑی مٹی کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور اگر کوئی دیکھ نہ رہاہو تواپنے رومال سے صاف بھی کردیتے ہیں۔ صرف یہی نہیں صاحب کے گھر پر بھی حاضری دیتے ہیں چنانچہ اپنی ان خدمات ِ جلیلہ کے صدقے صاحب کی نظروں میںآ جاتے ہیں اورترقی کے زینے بڑی تیزی سے طے کرنے لگتے ہیں! اقبال# نے کہا تھا:
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات
یعنی ایک خدا کے سامنے صحیح سجدہ کرنے والے کو دنیاوی خداؤں کے سامنے سجدے کرنے کی ضرورت نہیں پڑتی لیکن ہمارے گریڈ سترہ سے گریڈ بائیس تک کے یہ نائب قاصد ایک سجدہ اپنے بگ باس کو کرتے ہیں اور اس کے بعد لاکھوں عوام سے خود کو سجدہ کراتے ہیں، اپنی عزت ِ نفس کو اپنے صاحب کے سامنے سرنڈر کرنے بعد یہ باقی سب کی عزتِ نفس پائمال کرتے ہیں۔ جنہوں نے ان کے باس کے سامنے ان کے یتیمانہ چہرے دیکھے ہوتے ہیں وہ عوام کے سامنے ان کے رعونت بھرے چہرے دیکھ کر ہنستے ہیں۔ مگر انہیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا فرق صرف اس وقت پڑتا ہے جب یہ ریٹائر ہوتے ہیں اور لوگ ان سے منہ موڑ لیتے ہیں چنانچہ ریٹائرمنٹ کے بعد جب یہ اپنے گھروں سے باہر قدم رکھتے ہیں تو ان کے لئے علاقہ غیر شروع ہو جاتا ہے۔ جو لوگ اپنے جائز کام کے لئے پہروں ان کے دروازے پر بیٹھے رہتے تھے یہ انہیں تلاش کرتے ہیں اگر ان دنوں انہیں کوئی راستے میں مل جائے تو ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کچھ دیر ان کے پاس رک کر باتیں کرے لیکن ان کی بقیہ ساری عمر دیواروں سے باتیں کرتے گزر جاتی ہے اور جب مرتے ہیں تو انہیں اچھے لفظوں سے یادکرنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ انسانوں کی بجائے عہدوں اور اختیارات سے محبت کی جائے تو انجام یہی ہوتا ہے۔ لوگوں کی خدمت کرنے کی بجائے ان سے خدمت لی جائے تو اسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے!
آپ اسے میری ناسمجھی کہیں یااسے کچھ اور نام دیں مجھے آج تک یہ سمجھ نہیں آئی کہ جو انسان اپنی ضمیرکشی کی وجہ سے اپنی نظروں سے خود گر جائے اسے زندگی گزارنے میں کیا لطف آتا ہے؟ عہدوں، اختیارات اور مادی اشیا کے حصول کی خواہش انسان کو انسانیت کے مرتبے سے گرا دیتی ہے اور اس کے باوجود اس گندگی پر مکھیاں کیوں بھنبھناتی رہتی ہیں؟ کیا خوش رہنے کے لئے ایک چھوٹا سا گھر، مناسب آمدنی اور اچھی صحت کافی نہیں؟ ہم میں سے بہت سے لوگ عہدوں اور دولت کے حصول کے لئے ہر اصول پائمال کرتے چلے جاتے ہیں اورانہیں اس کے باوجو دزندگی کے آخری سانس تک اطمینانِ قلب نصیب نہیں ہوتا۔ عہدے انسان کی عزت کا باعث بننا چاہئیں ہم ان کے ذریعے ذلت حاصل کرتے ہیں۔ دولت پائیدار اور مثبت خوشیاں خریدنے کے کام آنا چاہئے ہم اس کے پیچھے دیوانہ ار بھاگتے ہوئے موذی امراض کا شکار ہوتے ہیں اورپھر یہ دولت اپنی صحت کی بحالی پر خرچ کرنے لگتے ہیں۔ اب اس دوڑمیں سرمایہ دار اور بیوروکریٹ ہی نہیں میڈیا کے کچھ لوگ بھی شامل ہوتے جارہے ہیں اوریوں ملک میں ”نائب قاصدوں“ کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے۔ مجھے لگتا ہے ہمارامعاشی اورمعاشرتی نظام ”نائب قاصد“ ہی پیداکرسکتاہے۔ کاش دنیا کے لئے اپنی آنکھوں پر پٹی باندھنے والے رزق حلال کمانے والے کسی گریڈ Iکے قاصد کی طرح محترم ہوتے لیکن جوانہیں جانتے ہیں وہ پوچھیں گے ”کیوں ہوتے؟“ آخر میں ایک انسان دوست بیوروکریٹ کیپٹن (ر) عطا محمد خاں کے تازہ شعری مجموعے ”بساط ِ خواب“ میں سے ایک غزل:
جب سے اُس دل میں ہوئی پیدا محبت میری
اُس کے چہرے سے ہویدا ہے شباہت میری
افسری اپنی جگہ، یہ بھی بجا ہے، لیکن
شعر کہنے سے ہوئی شہر میں عزت میری
میچ کر جائے گا یہ رنگ ترے چہرے سے
اوڑھ کر دیکھ کبھی سر پہ یہ چاہت میری
خوب مشہور ہوئی شہر کے فرزانوں میں
عقل کے ہاتھ پہ رکھی ہوئی وحشت میری
کوئی بھی آئے کھلا رکھتا ہوں دروازے کو
وقت خود آپ ہی کرتا ہے حفاظت میری
جب سے کی اُس نے مرے دستِ جنوں پربیعت
تب سے اس جسم پہ نافذ ہے شریعت میری
چھوڑ کر تجھ کو تجھے پا ہی لیا ہے آخر
آگئی راس مجھے دیکھ یہ ہجرت میری
میں نے اِک شام اسے روک لیا تھا یونہی
اور اسے بھا گئی معصوم شرارت میری
وہ بتا کر نہ گیا مجھ کو عطا# جاتے ہوئے
اُس کے ہاتھوں پہ تھی لکھی ہوئی قسمت میری