آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم کھیل تماشوں کی رسیا ایک قوم ہیں۔ حالیہ دنوںفوری اور من پسند سیاسی نتائج کی خواہش سے بڑھ کر شاید ہی کوئی گفتگو ہوئی ہوکہ پاناما اسکینڈل نے ہمارے سیاسی نظام کی کس خامی کو آشکار کیا ہے اور اس کی اصلاح کس طرح کی جائے (آئی اے رحمان کا ’پاناما سے حاصل ہونے والا سبق‘ ایک نادر مثال ہے )۔ ہماری سیاست اس قدر منقسم اور دھڑے بندی کا شکار ہے کہ اُن قابل ِ بحث معاملات پر مشروط موقف اختیار کرنے کی بھی گنجائش نہیں بچی ۔ کھل کر جانبدار ی کرنے والا میڈیا بھی ایسے کلچر کو فروغ دے رہا ہے جس میں منطقی اور عقلی اختلاف کی گنجائش ختم ہوتی جارہی ہے ۔
پاناما اسکینڈل نے ایک بار پھر یہ بات ظاہر کردی کہ پاکستان میں جمہوریت، قانون کی حکمرانی اور احتساب کے قوانین کو منظم کرنے پر کوئی اتفاق رائے موجود نہیں۔ وزیر ِاعظم کے قریبی رفقا کادعویٰ ہے کہ پاناما کا ہدف ایک منتخب شدہ اور مقبول وزیر ِاعظم کے پَر کترناہے،چنانچہ وہ اسے جمہوریت پر ایک حملہ قرار دے رہے ہیں۔ اُن کے مخالفین کا موقف ہے کہ اگر سیاسی عمل کا تسلسل ’بدعنوان شریفوں ‘ کے اقتدار کو تقویت دیتا ہے کہ اس جمہوریت سے توبہ ۔لیکن اگر جمہوری طریقے سے مزید پانچ برس کے لئے شریف اقتدار میں آجاتے ہیں تو کیا ہم ہاتھ کھڑے کرکے کہیں گے کہ بس بہت ہوگیا، اتنا ہی کافی ہے ؟
پی ٹی

آئی کی پرزور دلیل ہے کہ پاناماکیس قانون کی حکمرانی قائم کرنے اور طاقتور اشرافیہ کاا حتساب کرنے کا نام ہے، اور اس کے بغیر جمہوریت بے معانی اور بے کار ہے ۔پی ایم ایل (ن)کا الزام ہے کہ یہ قانون کی حکمرانی کا کوئی ایشو نہیں، بلکہ جو کچھ ہورہا ہے وہ احتساب کی آڑ میں شریفوں کو سیاسی طور پر نقصان پہنچا کر 2018 ء انتخابات کے نتائج کو کنٹرول کرنے کی ایک کوشش ہے ۔ اگر قانون کی حکمرانی اور احتساب کا مطلب مقبول رہنمائوں کو انتخابی عمل سے باہر کرنا ، یا اُن کے بداعمالیوں کی پاداش میں اُنہیں جیل میں بند کرنا ہے تو کیا ہمیں قانون کی حکمرانی کی مذمت کرنی چاہیے ؟
فاضل عدالت کے جج صاحبان نے پاناما کیس کا بیک وقت عدالت اور میڈیا میں ہونے والے ٹرائل پر برہمی کا اظہار کیا ہے ۔ تاہم یہ بات اُنھوںنے بار ہا کہی تھی کہ اُن پر میڈیا اثرانداز نہیں ہوسکتا ۔معلومات کے موجودہ دور میں ’’معاملہ عدالت میں زیر ِسماعت ہے ‘‘ کے دقیانوسی تصور کی گنجائش نہیں ۔ لیکن آزادی اظہار اور عدالتی کارروائی پر تبصرے میں احتیاط کے درمیان نیا توازن کیسے قائم کیا جائے جو اس بات کو یقینی بنائے کہ بے پناہ رائے عامہ اور ہنگامہ خیز تبصرے اس عمل کو متاثر نہیں کریںگے ؟
اس وقت ہر کھلاڑی پاناما کیس کا نتیجہ اپنی مرضی کا چاہتا ہے ۔ تو کیا جج حضرات عام انسانوں کے برعکس چاروں طرف سے ہونے والی رائے عامہ سے متاثر نہیں ہوتے ؟جب سیاسی کھلاڑی اور میڈیا پاناما کیس میں ملوث کسی کے کردار پر مسلسل رائے زنی کرتے رہیں گے تو کیا فاضل جج صاحبان اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران اس تیز و تند تبصرے سے خود کو بچا پائیںگے ؟کیا تنقید یا تعریف و توصیف کی پیہم یلغار واقعی بے اثر ثابت ہوتی ہے ؟ کیا سپریم کورٹ کو عدالت میں زیر ِسماعت معاملات پر تبصرے، اور خود عدلیہ کے میڈیا کے ساتھ تعلق کا اسکوپ طے نہیں کرلینا چاہیے ؟
جب پاناما پر منقسم فیصلہ سامنے آیا تو بہت سوں نے اختلافی نوٹ کو دلیرانہ رائے ، جبکہ کچھ نے اکثریتی فیصلے کو شریفوں کے لئے نئی زندگی کی نوید قرار دیا تھا ۔ اُس وقت کچھ دھڑوں نے جے آئی ٹی کی مخالفت اس لئے کی تھی کیونکہ وہ نواز شریف کو فوراً ہی اقتدار سے الگ دیکھنا چاہتے تھے ۔ ان حلقوں نے اُس وقت یہ رائے مسترد کردی تھی کہ حقیقت کا تعین کرنے کے لئے جے آئی ٹی کے ذریعے تحقیقات درکار ہیں۔ اُنھوںنے اسے نواز شریف کو بچانے کا ایک حربہ قرار دیا تھا ۔
قانونی مساوات یہاں بہت سادہ ہے ۔ اگر وزیر ِاعظم کی نااہلی کے لئے سپریم کورٹ میں پیش کیے گئے حقائق متنازع ہیں تو کیا فاضل عدالت کسی ٹرائل کے بغیر ان کی سچائی کا تعین کرسکتی ہے ؟کیا سپریم کورٹ آرٹیکل 184(3)کے تحت خود ٹرائل کرسکتی ہے ؟اگر نہیں تو کیا یہ کسی منتخب شدہ وزیر ِاعظم کو پیش کیے گئے مبہم مواد کی بنیاد پر گھر بھیج سکتی ہے ؟کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ اعلیٰ عدلیہ کے جج صاحبان کوبغیر ٹرائل کے فوری فیصلہ کرتے ہوئے وزرائے اعظم کو عہدے سے ہٹانے کا اختیار مل جائے ؟
سپریم کورٹ کا ایک فنکشن قانون کا تعین کرنا اوراس کی عملی تشریح کے ذریعے ماتحت عدالتوں کے لئے قابل ِعمل مثال قائم کرنا ہے ۔ تو پھر ایسا کیوں ہے کہ آرٹیکل 184(3)کا دائرہ کار اپنے منصب پر موجود چیف جسٹس کی صوابدید پر منحصر ہوتا ہے ، اور اس کے لئے نہ تو کوئی اصول ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ کی کوئی رولنگ موجود ہے ؟کیا آج کے بعد سپریم کورٹ (اور ہائی کورٹس) بیانات میں تضاد کی بنیاد پر آرٹیکلز 62/63 کے تحت ارکان ِ پارلیمنٹ کو گھر بھیج دیا کریں گی؟کیا ہمارے آئین اور ریاست کے ستونوں کے درمیان طاقت کے توازن کے بنیادی سوال کو نظر انداز کردیا جائے ؟ہمارے پاس شاید اتنا صبر نہیں ہے کہ ہم ان سوالات اور ان کے جوا بات کے نتائج پر غوکرلیں کیونکہ جب بھی دن طلوع ہوتا ہے ، ہم لاٹھی اٹھاکر انصاف کرنے نکل کھڑے ہوتے ہیں۔
کیا نوازشریف کو عہدے سے ہٹانے سے پاکستان میں شفافیت اور احتساب کا نیا دور شروع ہوجائے گا؟کیا اس سے اداروں کی بے عملی اور چیک اینڈ بیلنس کے فقدان، جس کا نتیجہ پاناما اسکینڈ ل کی صورت نکلا، دور ہوجائے گی ؟ سپریم کورٹ کو پاناما کیس اپنے ہاتھ میں لینا اور اس تحقیقات کے لئے ایک خصوصی جے آئی ٹی کے قیام کا حکم اسی لئے دینا پڑا کیونکہ ایگزیکٹو کے کنٹرول میں ادارے بدعنوان تھے اور حکمران اشرافیہ کے خلاف کارروائی کے لئے تیار نہ تھے، تو پھر صرف نواز شریف کو اقتدار سے ہٹانے سے یہ تمام معاملہ کس طرح درست ہوجائے گا؟اگراحتسابی کارروائی کے خلاف دی جانے والی حتمی دلیل یہ ہے کہ حکمران اشرافیہ ماتحت عدالتوں میں ہونے والی کارروائی پر اثر انداز ہوگی تو کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ پاکستان میں احتساب کے عمل کا تعین ہمیشہ ذاتی ترجیح ( نہ کہ اداروں کی فعالیت)کرے گی اور ایسا اسی صورت ممکن ہوگا جب سپریم کورٹ اس معاملے کوبراہ راست اپنے ہاتھ میں لے گی ؟
بے شک شریفوں نے جے آئی ٹی کی تحقیقات کو چیلنج کیا ،لیکن ان کے بیانیے کو تضادات اور ابہام نے نقصان پہنچایا ۔ گزشتہ کئی عشروں سے شریفوں کے خلاف الزامات کی پیشہ ورانہ بنیادوں پر پوری جانفشانی سے تحقیقات نہیں ہوئی تھیںاور نہ ہی اُن تک قانون کا بازو پہنچ پایا تھا۔ چنانچہ پاناما اسکینڈل نے اگر شریفوں کے علاوہ کسی اور چیز کو ایکسپوز کیا ہے تو وہ ہمارے کریمنل جسٹس سسٹم کی آلودگی اور عدالتی نظام کی نااہلی ہے کہ وہ ان پر معمول کی کارروائی کے دوران ہاتھ نہ ڈال سکا۔
آج ہر کوئی اس انکشاف پر ششد ر دکھائی دیتا ہے کہ سیکورٹیز اینڈ ایکس چینج کمیشن آف پاکستان کے چیئرمین نے اپنے ماتحتوں کو چوہدری شوگر مل کے ریکارڈ میں رد و بدل کرنے کا کہا تو سینئر افسران نے انکار کیو ں نہ کیا ؟پاناما نے صرف شریفوں کو ہی ایکسپوز نہیں کیا۔ آ پ اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے کسی شخص کو بھی پکڑ کر اس کا خوردبینی معائنہ کریں تو اس کا نتیجہ بھی موجود ہ کیس سے مختلف نہیں ہوگا۔ کہنے کا مطلب یہ نہیں کہ شریفوں کو جرم ثابت ہونے کی صورت سزا نہیں ملنی چاہیے ۔ اگر اُنھوںنے جرم کیا ہے تو ٹرائل کورٹ سے اُنہیں سزا ملنی چاہیے ۔ لیکن ضروری ہے کہ ہم غیر معمولی کارروائی کے شغف کو بریک لگائیں اور معمول کے مطابق نظام کو احتساب کرنے دیں۔ اس کے لئے ہمیں اپنے اداروں اور کلچر کو تبدیل کرنا ہوگا۔ ایک مرتبہ جب یہ ہنگامہ خیز ڈرامہ اپنے اختتام تک پہنچ جائے گا تو ہمیں شب گزیدہ سحر کا جشن مناتے ہوئے شام نہیں کرلینی چاہیے ۔ پاناما کا ایک ایک لفظ پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ ہمارے ادارے غیر فعال اور ساکھ سے محروم ہیں۔ لیکن کیا جوش کے عالم میں ہم ہوش سے کام لیتے ہوئے ایک وسیع تر تصویر دیکھنے کے قابل ہیں؟

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں