آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل4؍ربیع الاوّل 1440ھ13؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستانیوں کے بیرون ملک بینک اکائونٹس اور سوئس بینکوں میں موجود دولت پر کئی کالم لکھ چکا ہوں۔ سوئس بینکنگ ایسوسی ایشن کی حالیہ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں لوگ اپنی غیر قانونی دولت سوئٹزرلینڈ اور ٹیکس سے مستثنیٰ دیگر ممالک میں رکھتے ہیں۔ مختلف ممالک میں موجود غیر قانونی دولت کی مجموعی مالیت تقریباً 32 کھرب ڈالر ہے جس میں سے صرف سوئس بینکوں میں 7 کھرب ڈالر موجود ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوئس بینکوں میں بھارت کے 1456ارب ڈالر، روس کے 470 ارب ڈالر، انگلینڈ کے 390 ارب ڈالر اور پاکستان کے 200 ارب ڈالر کالے دھن کی شکل میں موجود ہیں۔
میں نے اپنے گزشتہ کالم میں شبر زیدی کی کتاب کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ملک میں ایک طرف حکمراں اور سیاستدان اربوں ڈالر کے مالک ہیں تو دوسری طرف غریب عوام غربت و مہنگائی کی چکی میں پس رہے ہیں اور ملک چلانے کیلئے قرضے پر قرضے لئے جارہے ہیں، ماضی میں پاکستان میں امن و امان کی خراب صورتحال، بھتہ کلچر اور اغواء برائے تاوان جیسے عوامل کے باعث پاکستانیوں نے اپنے پیسے بیرون ملک منتقل کرکے مختلف کاروبار میں لگائے اور ان کے بیرون ملک بھیجے گئے 80ارب ڈالر آج تقریباً 150 ارب ڈالر ہوچکے ہیں، ان اثاثوں میں تقریباً 115 ارب ڈالر بزنس مینوں اور 35ارب ڈالر دیگر افراد کے ہیں جو بدعنوانی اور

کرپشن سے حاصل کئے گئے ہیں۔ آف شور کمپنیوں کی تحقیقات اور منی لانڈرنگ کے نئے سخت قوانین کے باعث اب ان اثاثوں کو بیرون ملک رکھنا مشکل ہوتا جارہا ہے اور ان حالات میں اثاثوں کے مالکان اُنہیں کسی محفوظ مقام منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ ذوالفقار بھٹو کے دور حکومت میں نجی اداروں کو نجکاری کے ذریعے سرکاری تحویل میں لینا، نواز شریف دور حکومت میں فارن کرنسی اکائونٹس منجمد کرنا، کراچی میں امن و امان کی ناقص ترین صورتحال اور انرجی بحران کے باعث جان و مال اور سرمائے کے تحفظ کیلئے صنعتکاروں و سرمایہ کاروں کا اپنی صنعتیں اور سرمایہ کاری بیرون ملک منتقل کرنا وہ حقیقی عوامل تھے جو بیرون ملک سرمایہ کاری کا سبب بنے اور اسلئے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اور بزنس کمیونٹی نے وزیراعظم اور وزیر خزانہ کی بیرون ملک غیر ظاہر شدہ اثاثوں کیلئے ایک نئی ایمنسٹی اسکیم کی مکمل حمایت کی۔ 45 ممالک کے 130 تفتیشی صحافیوں پر مشتمل تحقیقاتی صحافیوں کی عالمی تنظیم (ICIJ) نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا ہے کہ ہانگ شنگھائی بینکنگ کارپوریشن (HSBC) دنیا کا دوسرا بڑا بینک ہے جہاں دنیا بھر کے ڈرگ مافیا، اسمگلروں، سیاستدانوں اور ممتاز کاروباری شخصیات نے ٹیکسز بچانے کیلئے اپنا کالا دھن رکھا ہوا ہے۔ HSBC سوئٹزرلینڈ کی منظرعام پر آنیوالی خفیہ رپورٹ جس میں 100 بلین ڈالر سے زائد اکائونٹس کے بارے میں تفصیلات دی گئی ہیں، کے مطابق 1970ء سے 2006ء کے دوران 338پاکستانیوں نے اپنے 648 اکائونٹس میں 100 بلین ڈالر سے زائد دولت سوئٹزرلینڈ منتقل کئے جس میں سے HSBC پرائیویٹ بینک سوئٹزرلینڈ میں 859.70 ملین ڈالر منتقل کئے گئے۔ اس سلسلے میں 22 فروری 2017ء کی ایک اخبار رپورٹ میں کچھ دلچسپ حقائق بے نقاب کئے ہیں جو قارئین سے شیئر کرنا چاہوں گا۔ سوئس حکومت ٹیکس چوری کو بڑا جرم تصور کرتی ہے اور ٹھوس ثبوت فراہم کئے جانے کی صورت میں اکائونٹس کی تفصیلات فراہم کی جاسکتی ہیں۔ اس سلسلے میں حکومت پاکستان اور سوئس ٹیکس اتھارٹیز نے بینک کھاتوں کی معلومات کے تبادلوں کیلئے اہم مذاکرات کئے جس میں سوئس حکومت نے پاکستان سے اس معاہدے کے عوض 5 فیصد ٹیکس (Dividends) میں کمی اور سوئٹزرلینڈ کو انتہائی پسندیدہ ملک (MFN) کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا تھا لیکن موجودہ حکومت نے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی سوئس بینک اکائونٹس کی معلومات اور رسائی نہ حاصل کرنے کیلئے بہانہ بناکر انکار کردیا اور مذاکراتی ٹیم کے سربراہ چیئرمین ایف بی آر کو اگست 2014ء میں آخری وقت میں جنیوا جانے سے روک لیا جبکہ ان کی جگہ ان کے ماتحت انٹرنیشنل ٹیکسز کے چیف کو بھیجا گیا تاکہ پاکستانیوں کی سوئس بینک اکائونٹس کی رسائی کے معاہدے پر فوری عملدرآمد نہ کیا جاسکے، اس طرح حکومت نے اپنے پسندیدہ افراد کو سوئس بینک اکائونٹس سے کالا دھن دوسری جگہ منتقل کرنے کا موقع فراہم کیا۔ بالاخر عالمی مالیاتی اداروں کے دبائو پر تقریباً دو سال بعد 2016ء کے وسط میں حکومت پاکستان نے سوئس ٹیکس اتھارٹیز سے بینک کھاتوں کے معلومات کے تبادلے کیلئے دوبارہ مذاکرات کئے اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے 7 مارچ 2017ء کو قومی اسمبلی کو بتایا کہ پاکستان 21 مارچ 2017ء کو سوئس بینک اکائونٹس کی رسائی کے معاہدے پر دستخط کرے گا لیکن انہوں نے اگست 2014ء کے واقعہ کا کوئی ذکر نہیں کیا جسکے تحت حکومت نے اپنے من پسند افراد کو سوئس بینکوں میں ان کا کالا دھن منتقل کرنے کا موقع دیا۔
حکومت کے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق پاکستان اور سوئٹزرلینڈ نے نظرثانی شدہ DTA معاہدے پر دستخط کردیئے ہیں لیکن نظرثانی شدہ معاہدے میں بینک اکائونٹس کی معلومات کے تبادلے کی شق کو تبدیل کرکے OECD طرز پر کیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ دنیا میں منی لانڈرنگ کے قوانین کے تحت پاکستان سمیت 104 ممالک کے OECD معاہدے کی رو سے 2017ء سے ٹیکس چوری کی روک تھام کے سلسلے میں بینکنگ معلومات شیئر کرنے کے پابند ہونگے، حکومت کی قانونی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ وہ نئے عالمی قوانین اور سوئٹزرلینڈ سے دستخط کئے گئے معاہدے کے تحت سیاستدانوں کی بیرون ملک موجود غیر قانونی دولت کے بارے میں نہ صرف معلومات حاصل کرکے منظرعام پر لائے بلکہ یہ کالا دھن پاکستان واپس لانے میں کسی سیاسی مصلحت اور مفاہمت سے کام نہ لے کیونکہ موجودہ حالات میں پاکستان کو ان پیسوں کی اشد ضرورت ہے۔ پاناما کیس پر جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کی تحقیقات کے بعد اب سیاستدانوں اور حکمرانوں کیلئے بہت مشکل ہوگیا ہے کہ وہ اپنے پیسے بیرون ملک آف شور کمپنیوں اور اکائونٹس میں رکھیں، اسلئے اب اُنہیں ہر حال میں اپنے بیرون ملک موجود اثاثے ڈکلیئر کرنا پڑیں گے۔ پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورتحال اور پاک چین اقتصادی راہداری کے منافع بخش منصوبوں کے پیش نظر پاکستانی بزنس مینوں کو یقین دلاتا ہوں کہ وہ اپنی دولت وطن واپس لائیں، انشاء اللہ بیرونی ممالک کے مقابلے میں انکی پاکستان میں سرمایہ کاری زیادہ محفوظ اور منافع بخش ثابت ہوگی۔ میں حکومت کو تجویز دوں گا کہ وہ اُن پاکستانی بزنس مینوں جو ملک میں خراب حالات کے باعث اپنی صنعتیں اور سرمایہ کاری بیرون ملک لے گئے تھے، کیلئے ایک نئی نرم ایمنسٹی اسکیم متعارف کرائے جس کے تحت اُنہیں اپنی دولت وطن واپس لانے اور ڈکلیئر کرنے کی اجازت دی جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں