آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ22؍ربیع الاوّل 1441ھ 20؍نومبر 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
تازہ ترین
آج کا اخبار
کالمز

 قبل اس کے کہ فتح کے نقاروں کی دھمک اور شکست پر ہونے والی سینہ کوبی سے ملک میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے ، اس بات کی درست تفہیم کرلینی ضروری ہوگی کہ حالیہ مہینوں کے دوران پاناما لیکس سے جے آئی ٹی تک کا سفر دراصل کیا ہے ؟دیکھنے میں آیا کہ اس اسکینڈل کے منظر ِعام پر آنے کے بعد حکمران خاندان اپنی کاروباری ہسٹر ی کے بنیادی حقائق سامنے لانے میں ناکام رہا۔ وہ تین نسلوں کے درمیان بال پاس کرتے رہے لیکن کوئی بامعانی قابل ِ اعتماد موو نہ بنا سکے۔
شریفوں نے خود کو مظلوم سے لے کرشہید، چھپے رستم، زخمی اور زنجیروں میں جکڑے شیر تک سب کچھ قرار دے ڈالا سوائے معقول کاروباری خاندان کے ، جس کے کاروبار کی ترقی کے مختلف مراحل کا تشہیری بروشرز، ویب سائٹس اور سب سے اہم ، فائلوں کی صورت دستاویزی ثبوت موجود ہوتا ہے۔ بڑے شریف صاحب (میاں محمد شریف ) کے اس جہان ِ فانی سے رخصت ہوجانے کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ تمام ریکارڈ بھی اپنے ساتھ لے گئے تھے کہ کس طرح اُن کے اثاثے چند ایک دہائیوں کے اندر برق رفتاری سے پھیلتے چلے گئے۔ درحقیقت تمام کامیاب فرمز ، صنعتی اور کاروباری گروپس اپنے ریکارڈ کو فخریہ انداز میں عوام کے علم میں لاتے ہیںتاکہ بازار میں اُن کی مصنوعات کی ساکھ بلند ہو۔ لیکن شریفوں نے عجیب طریقے سے کاروباری سلطنت

بنائی(اگرچہ وہ اس ضمن میں کوئی نادر مثال نہیں) کہ اُنھوںنے ہوشربا حد تک دولت کے انبارلگالئے لیکن اس کے باوجود رقوم کی ترسیل اور سمیٹے گئے بھاری بھرکم منافع کے بنیادی ثبوت بھی نہیں مل رہے۔ ایک کریانے کی دکان چلانے والا شریفوںسے بہتر کھاتے رکھتا ہے۔
شریفوں کے اس بیانیے پرکوئی احمق ہی یقین کرے گا کہ اُنھوںنے اپنے کاروبار کا ر یکارڈ پیش کرنے کی پوری کوشش کی۔ نہیں ،اُنھوں نے ایسا ہرگز نہیں کیا۔ اُنھوںنے اصل بات بتانے سے اجتناب کیا۔ وہ جانتے ہیں کہ اُن کے پاس کس قدر دولت ہے۔ یہاں ایک ایک پائی ریکارڈ میں ہوتی ہے۔ تو پھر اُنھوںنے معائنے کے لئے ریکارڈ پیش کیوں نہ کیا ؟اور کون بھولے گا کہ اس کیس میں نواز شریف ایک کمپنی کے اعزازی سربراہ بھی نکلے ؟ چنانچہ پاناما لیکس اسکینڈل اور اس کا جے آئی ٹی ہنگامہ شریفوں کی طرف سے مشکوک اور بے تکے ڈاکومنٹس قانون کے نازک ترازو پر رکھنے کے متعلق تھا۔
اس تمام ہنگامےکا تعلق عمران خان اینڈ کمپنی کی انقلاب لانے کی جھوٹی بڑھکوں اور کھوکھلے دعوئوں سے ہے۔ ہرقیمت پر اقتدار حاصل کرنے کے خبط کو گڈ گورننس کے خوشنمااصولوں اور بدعنوانی کے خلاف جہاد کے سنہری لبادے میں لپیٹتے ہوئے عمران خان کی جماعت نے شریفوں کی نازک صورت ِحال سے فائدہ اٹھا کر جو افسانہ طرازی کی وہ حقیقت کی دنیا سے بہت دور ہے۔ یہ بدعنوانی کو جڑسے اکھاڑنے کی کوشش ہرگز نہیں۔ اگرایسا ہوتا تو عمران خان یہ کام اپنے گھر سے شروع کرتے ہوئے پارٹی کی صفوں میں موجود کچھ فنانسر کی صفائی کرتے۔ یا کم از کم اُس صوبے ، جہاں اُن کی جماعت حکومت کررہی ہے، میں ہی احتساب کی کوئی روایت سامنے لاتے ، اور اپنی غیر معمولی رہائش گاہ، بنی گالا کے مالیاتی معمے سے ہی پردہ اٹھاتے اور قوم کو بتاتے کہ وہ اس کے بارے میںدس مرتبہ دس مختلف وضاحتیں کیوں پیش کرچکے ہیں؟
خاطر جمع رکھیں، شریفوں کے ناقدین قانون کی حکمرانی اور گڈگورننس کے متمنی نہیں۔ یہ تو سوچنا بھی عقل اور معقولیت سے دستبردار ہونے کے مترادف ہے کہ اپنے صوبے سندھ میں سے نیب کے قانون کا خاتمہ کرنے اور مشکوک مالیاتی ریکارڈ رکھنے والے آصف علی زرداری کے ساتھ کھڑے ہوکر عمران خان پاکستان کو مالیاتی طور پر شفاف اور قانونی مساوات کی حامل ریاست بنانا چاہتے ہیں۔
اُن کی تمام تر کاوش کا محور وزیر ِاعظم ہائو س کو خالی کرانا ہے تاکہ وہ وہاں متمکن ہوسکیں(یہ مرحلہ اتنا آسان نہیں لیکن خان صاحب اس سے کم کچھ نہیں چاہتے )۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ نواز شریف کے اقتدار کو گرایا دیا جائے اورخالی ہونے والی سیٹ پر کوئی عمران خان کو بٹھا دے۔ مشرف دور سے اُن کے دل میں یہ خواہش پرورش پارہی ہے۔اُن کے ارب پتی دست ِراست، جہانگیر ترین چاہتے ہیں کہ وہ پنجاب میں شریفوں کو تباہ کرتے ہوئے پاکستان میں شوگر بزنس پر اجارہ داری حاصل کرلیں۔ بالکل اسی طرح عمران خان کی خواہش شریف اقتدار کی جگہ خاقان ِ اعظم بننا ہے۔ یہ صرف اور صرف اقتدار، دولت اور اجارہ داری کا بے رحم کھیل ہے۔ حالیہ مہینوں میں عمران خان کی کوشش کا اس کے سوا اور کوئی ہدف نہیں۔ اس تمام کھیل کا جمہوریت یا عوام کی فلاح سے کوئی تعلق نہیں۔
لیکن یہ تمام کھیل آئین کے دائرے کے اندر اختراع کردہ قانونی ذکاوت اور ایک نئی وکٹ پر کھیلا جارہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ غیر معمولی حالات میں غیر معمولی قانونی نسخہ کام دیتا ہے لیکن جے آئی ٹی نے جس انتہائی غیر معمولی نسخے کو استعمال کیا، اُس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ جے آئی ٹی نے ریاست کے اندر ریاست کی طرح کام کیا جیسا کہ وہ ایک خودمختارحکومت، ایک پالیسی سازادارہ، لامحدود وسائل رکھنے والی ایک انٹیلی جنس ایجنسی ہو۔ اور پھر اس نے ، جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ خدا کے بعد سب سے زیادہ اعتماد خون کے رشتے پر ہوتا ہے، اپنے کزن سے کنٹریکٹ کیا۔ موصوف کا ایک چھوٹاسا دفترہی داخلی سراغ رساں نیٹ ورک تھاجوشاید طلسمی صلاحیتیں رکھتے ہوئے تمام میڈیا کو مانیٹر کرنے سے لے کر فون ٹیپ کرنے تک سب کچھ تن تنہا کرسکتا تھا۔ جب اتنی صلاحیتوں کا قلزم موجزن ہو تو پھر آپ ہی جج، جیوری اور جلاد ٹھہرے۔
اس جے آئی ٹی کی قیادت ایف آئی اے کررہی تھی۔ اسے آئی ایس آئی اور ایم آئی کی معاونت حاصل تھی ، اوریہ بھی کہا جارہا ہے کہ یہ اپنے معاملات کی پندرہ روزہ اور فائنل رپورٹ جوڈیشل بنچ سے پہلے بھی کسی کو بھیجا کرتی تھی(لیکن یہ کہانی پھر سہی)۔ یہ قانون شکنی کرسکتی تھی (فوٹو لیک، فون ٹیپ وغیرہ)، اپنے ارکان کی زندگی خطرے میں ہونے کی کہانی گھڑسکتی تھی ، میڈیا پراپنی کردار کشی کا الزام لگاسکتی تھی ، لیکن کوئی بھی اس کی فعالیت پر سوال نہیں اٹھاسکتاتھا۔
اگرچہ اس کی رپورٹ کو جوڈیشل اور میڈیا کے کچھ حلقے انتہائی احترام کی نظروں سے دیکھتے ہیں جیسا کہ یہ دانائی سے لبریز کوئی آفاقی کتاب ہولیکن یہ شریفوں کے جھول دار دعوئوں کا پردہ چاک کرنے کے لئے بھی کوئی دستاویزی ثبوت فراہم نہیں کرسکی۔اس کے تمام کیس کا مرکز اس بات پر ہے کہ شریف کوئی دستاویز پیش نہیں کرسکے۔ یہ خود آگے بڑھ کر اُن کے جرم کا کوئی ثبوت فراہم نہیں کرسکی۔ اور اسی ثبوت کی عدم دستیابی تھی جس کے حصول کے لئے پہلے پانچ رکنی بنچ نے اکثریتی فیصلے میں جی آئی ٹی کے قیام کی ضرورت محسوس کی تھی۔اگر ماتحت عدلیہ میں کوئی تفتیش کار ایسا کمزور استغاثہ پیش کرتا ہے تو جج حضرات برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اُسے شرمندہ کرتے ہیں۔ اور یہاں ایسی ہی کارکردگی پر جے آئی ٹی کے گلے میں پھولوں کے ہار ڈالے گئے۔
گزشتہ چند ماہ سے جاری عدالتی کارروائی کے دوران جے آئی ٹی سے بھی بڑھ کر گل کھلائے گئے۔ ہم نے دیکھا اورسنا کہ بنچ نے مدعاعلیہان سے زیادہ خود بیانات دئیے،ہم نے فیصلہ آنے سے پہلے فاضل جج صاحبان کو اظہار ِ خیال کرتے سنا، ہم نے میڈیا کی طرف انگشت نمائی ہوتے دیکھی۔ صرف یہی نہیں، ہم نے دیکھا، سنااور ریکارڈ کیا کہ کس طرح بنیادی حقوق کے محترم رکھوالوں نے اپنے بلند منصب سے دوسروں کی ساکھ پر سنگ زنی کی۔
ہماری نظروں کے سامنے کچھ میڈیا آئوٹ لٹس نفرت پھیلانے کے پلیٹ فارمز بن کر مخالفین کی حب الوطنی کا فیصلہ سناتے رہے۔ ہم نے دیکھا اور سنا ( اور کوئی صرف ایک آدھ مرتبہ نہیں) کہ آرمی چیف کو کئی مرتبہ درخواست کی گئی کہ وہ دھرتی کے قابل فخر بیٹے کا جانا پہچانا کردار ادا کرنے کے لئے تیار ہوجائیں۔ ہم نے سوشل میڈیا کے گندے نالے کو خوشامد، منافقت اور اسٹیبلشمنٹ کی ستائش ،کہ وہ آگے بڑھ کر موجودہ حکومت کا تختہ الٹ دے، کے تعفن زدہ پانی سے لبریز دیکھا۔
سچی بات یہ ہے کہ ان تمام مہینوں کے دوران (جو ایک سال سے زیادہ عرصے پر محیط ہیں)کوئی حوصلہ افزا منظر دیکھنے کو نہیں ملا۔ پاناما لیکس کی تحقیقات، جے آئی ٹی کے ڈرامے اور میڈیا کی بوقلمونیوں کا تعلق عوام یا حقیقی مسائل سے نہیں تھا ، اور نہ ہی ان کا مقصد نظام کی بہتری یا اصلاح تھی۔ یہ ملک کی غیر مقدس گائیوں(سیاست دانوں ) کے درمیان ہونے والی لڑالی ہے جسے کچھ مقدس گائیں مزے سے دیکھ رہی ہیں۔ گاہے گاہے ، وہ کسی مناسب موقع پر ہدایات بھی دیتی ہیں۔ کیا خوفناک ماضی کے سائے روشن امکانات کو جنم دے سکتے ہیں؟ہمیں نوید سنائی جارہی ہے کہ نیا قومی نظام قائم ہوا چاہتا ہے۔ برق رفتاری سے آنے والے انقلاب کی لہر ہمارے تمام مسائل کو خس وخاشاک کی طرح بہا کرلے جائے گی۔
کاش یہ سب کچھ سچ ہوتا۔ کاش آبادی اور مسائل کی دلدل میں ڈوبا ہو ا یہ ملک خوشیوں اور خوشبوئوں بھرا ڈزنی لینڈ بن جاتا۔ لیکن جب سے پاناما لیکس سامنے آئے ہیں، یہ قوم مسائل کی بجائے اپنے آپ سے برسر ِ پیکار ہے ، جو ایک تباہ کن شغف ہے۔ اس میں جیت ہی سب سے بڑی ہار ہے۔