آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل21؍شوال المکرم 1440ھ 25؍جون 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Football Infrastructure Destroyed Constantly Down In Global Rankings

فٹ بال دنیا کا مقبول ترین کھیل ہے لیکن پاکستان میں بے پناہ ٹیلنٹ کے باوجود اس کھیل کو وہ مقبولیت نہیں مل پائی جس کا حقداریہ کھیل ہے۔

پاکستان فٹ بال فیڈریشن کا قیام 5 دسمبر 1947ء کو عمل میں لایا گیا اور قائداعظم محمد علی جناح اِس کے چیف پیٹرن بنے۔

سن 70ء کی دہائی تک پاکستان نے فٹ بال میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا لیکن سقوطِ ڈھاکہ کے بعدفٹ بال کا انفراسٹرکچر بالکل تباہ ہوگیا ۔

وہ ملک جو عالمی رینکنگ میں تیزی سے ترقی کرتا ہوا 142ویں پوزیشن تک پہنچا تھا، اب 194 ویں پوزیشن پر جا ٹھہراہے۔

اب صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی فٹ بالرزسے کوئی بھی بین الاقوامی کلب معاہدہ کرتے وقت یہ ضرور پوچھتا ہے کہ اس نے آخری بار اپنے ملک کی جانب سے انٹرنیشنل میچ کب کھیلا؟

آج پاکستان بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت نہیں کر رہا اور پاکستانی کھلاڑی ملک سے باہر کھیلنے کے مواقع سے محروم ہیں۔

کئی ایسے کھلاڑی ہیں جو ملک سے باہر پروفیشنل لیگ کھیل سکتے ہیں لیکن انھیں مواقع فراہم نہیں کئے جاتے۔

ملک میں قومی اور ضلعی سطح پر ہونے والےفٹ بال ایونٹس نہ ہونے کے برابر ہیں جس سے کھلاڑیوں کی پرفارمنس کو جانچنا مشکل ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ضلعی ،ڈویژنل ،صوبائی اور قومی سطح پر فٹ بال لیگ ایونٹس کرانے کےساتھ ساتھ ضلعی سطح پر فٹ بال اکیڈمیوں کا آغاز کرنا ضروری ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں