آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ22؍ ذوالحجہ 1440ھ24؍اگست 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بالآخر بڑا فیصلہ آگیا تاریخ بنتے بنتے رہ گئی، الحمداللہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کی70سالہ زندگی میں ایک اور منتخب وزیراعظم اپنی آئینی مدت پوری کئے بغیر ’’انصاف‘‘ کا شکار ہوگیا، یہ وہی فیصلہ ہے جو نوازشریف اور ان کے خاندان کے کرپشن کے سبب یقینی تھا، یہ وہی فیصلہ ہے جس کا فیصلہ ابھی تاریخ کرے گی، جی ہاں یہ وہی فیصلہ ہے جس کی امید اور توقع عمران خان کو شدت سے تھی، تو وہ بار بار تقاضا بھی کر رہے تھے کہ فیصلہ جلد آنا چاہئے، کتنےخوش نصیب ہیں کہ ان کی امید محض دو دن میں برآئی، ورنہ سب جانتے ہیں کہ عام آدمی کی جوتیاں گھس اور بال سفید ہو جاتے ہیں عدالتوں سے انصاف مانگتے مانگتے، صد شکر’انصاف‘ ہوگیا۔۔!
آزادی کے محض چار سال بعد16 اکتوبر1951ء میں پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کے سازشی ہاتھوں دن دیہاڑے قتل کے بعد 7برسوں میں 7وزراءاعظم کے آنے جانے کا سلسلہ چلا جو آج تک نہیں رکا ، پہلی مرتبہ 1958 میں ملک ’’محفوظ ہاتھوں‘‘ میں جانے کے بعد مختلف ادوار میں تقریباً 40 سال تک ’’عوامی، سیاسی اور جمہوری خطرات‘‘ سے محفوظ رہا جبکہ سیاستدان عوام کو آزاد وخودمختار کرنے کی بجائے ہر دور کے ’’طاقتور‘‘ کا مہرہ بنے رہے، ’’جمہوریت‘‘ کے نام پر شخصی آمریت بھی مسلط رکھی۔ اس مرتبہ سپریم کورٹ سے پانچ صفر سے ’’کلین

بولڈ‘‘ ہونے والے نوازشریف کچھ ماہ سے تواتر سے کہہ رہے تھے کہ اس دور میں ان پر تیسرا حملہ ہو رہاہے، سازش، سرکس اور کٹھ پتلیوں کے تماشے لگانے کی بھی بات کی لیکن اصرار کے باوجود بتایا نہیں کہ یہ کروا کون رہا ہے؟ ن لیگ نے دھرنا ون اور ٹو کا الزام اسٹیبلشمنٹ پر لگایا تھا، اب کہہ رہے ہیں کرپشن نہیں محض بیٹے سے تنخواہ نہ لینے پر جوڈیشل مر ڈر کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک نجی ٹی وی سے انٹرویو کے ویڈیو کلپ میں خان صاحب دھرنا ٹو (لاک ڈاؤن) کے دوران سپریم کورٹ کے ایک فاضل جج کا نام لے کر دھرنا چھوڑ کر سپریم کورٹ آنے کی درخواست کا ذکر کر رہے ہیں، خدا جانے حقیقت اور اس کی نوعیت کیا ہے؟ وضاحت یا تردید تو خود خان صاحب ہی کرسکتے ہیں یا عدالت عظمیٰ ازخود نوٹس لے کر معاملہ کلیئر کرسکتی ہے کیونکہ ہمیں تومعلوم ہے کہ2 نومبر کو عدالت عظمیٰ کے بنچ نےخود اس معاملے کو دیکھنے کی بات کی تھی۔۔!
حکمراں جماعت نے گزشتہ ایک کالم میں میری لکھی اس بات کا برا منایا تھا کہ ’’آپ دل پر ہاتھ کر خود سے پوچھیں کہ کیا ترک صدر کو نکالنے کی سازش کے خلاف عوامی طوفان کی طرح، آپ کی نااہلی کی صورت میں سڑکوں پر وہی منظر ہوگا؟ برا منانا اپنی جگہ لیکن فیصلے کے بعد ملک بھر میں چند ایک جگہوں پر کچھ درجن افراد کے سرکاری احتجاج کے سوا، متاثر کن عوامی ردعمل نظر نہیں آیا، کیا یہ ’’جمہوریت نوازوں‘‘ کے لئے پریشانی کی بات نہیں؟ جمہوری نظام ایک مرتبہ پھر ’’سیاسی بحران، اقتدار کی رسہ کشی اور الزامات کی زد میں ہے، کرپشن اور احتساب کی آڑ میں ’’پرانے اور نئے‘‘ حساب چکائے جا رہے ہیں۔ ہو کیا رہا ہے اور آئندہ کیا ہونے کو ہے ابھی واضح نہیں؟ تاہم حالات مزید گمبھیر ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی بحران میں ’’فیملی پالیٹکس‘‘ کا عنصر بھی تکلیف دہ ہے جو شخصیت پرستی سے خاندان پرستی کا شکار ہو چکا ہے، پہلے بھٹو خاندان اور اب شریف خاندان، تبھی تو خواجہ سعد رفیق جیسے دیرینہ سیاسی کارکن کو بھی کہنا پڑتا کہ ہم موروثی سیاست کے خلاف ہیں لیکن ’’تم‘‘ نےایک شریف نکالا دوسرا آرہا ہے، تم دوسرا نکالو گے ہم تیسرا اور پھر چوتھا لے آئیں گے۔‘‘ یہ بھی اطلاع تھی کہ میاں صاحب نااہلی کے خدشہ کے پیش نظر اسٹیبلشمنٹ کو سخت ردعمل دینے کے لئے اپنے وزیر دفاع کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کر چکے تھے تاہم ناراض چوہدری صاحب کی تردید اور ایوانوں میں واپسی پر فیصلہ بدلنا پڑا، یہی نہیں خواجہ صاحب کو نازک موقع پر بیرون ملک جانا پڑا۔ یہ واضح ہے کہ عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر فوری عمل درآمد اور شہباز شریف کے انتخاب سے بظاہر اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ تعلقات کی بحالی کا پیغام بھی دیا جا رہا ہے، لیکن سوال یہ بھی ہے کہ کیا اتنا کچھ ہوجانے کے بعد ’’طاقتوروں‘‘ کا اعتبار بحال اور ناراضی دور ہوجائے گی؟ جن ایشوز پر معاملات بگڑے وہ طے ہوجائیں گے؟ کیا آئندہ انتخابی سال سمیت انتخابات تک معاملات سلجھ جائیں گے؟ کیا شریف دوبارہ ’’دل‘‘ میں جگہ بنا پائیں گے؟ یہ بہت ہی مشکل پہیلی ہے کیونکہ خان صاحب پہلی ’’کامیابی‘‘ کےبعد جشن تشکر میں بدستور طاقتور ’’محب وطن‘‘ سابق ڈکٹیٹر کا اپنے حق اور تعریف میں بیان بھی بڑی اسکرین پر فخریہ طور پر عوام کو دکھا چکے ہیں، لیکن ’’ان‘‘ کے موڈ کو کون جان سکتا ہے، بقول پروین شاکر ’’کون جانے کہ نئے سال تو کس کو پڑھے، تیرا معیار بدلتا ہے نصابوں کی طرح۔۔۔!‘‘
مسٹر خان کے بارے میں یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اکیلے کھیلنے کا عزم کرچکے ہیں اور شریف خاندان کے بعد بڑی اپوزیشن جماعت پیپلزپارٹی سے اتحاد کی بجائے عناد کا رشتہ بنانے کا تہیہ کر چکے ہیں۔ آصف زرداری سمیت دیگر کئی رہنمائوں کے خلاف کرپشن کا نعرہ بھی لگا دیا، لیکن انہیں اپنے اور نئے پرانے ساتھیوں کے عدالت عظمیٰ میں جاری کیسز سے غافل نہیں ہونا چاہئے، قسط وار دھرنوں کی ناکامی اور امپائر کی انگلی کھڑی نہ ہونے کےصدمات کو بھی ذہن میں رکھنا ضروری ہے، سچ یہی ہے کہ فصلی بٹیروں کو اکٹھا کرنے سے نہیں بلکہ محض عوامی رنگ میں رنگنے سے ہی اقتدار تک جانے کا راستہ نکل سکتاہے۔! دوسری طرف پیپلزپارٹی نوازشریف کی وزارت عظمیٰ سے فراغت کو اپنی کامیابی لیکن جمہوریت کو خطرہ نہیں سمجھتی، ماضی میں ڈکٹیٹر کے ساتھ این آر او اور پھر ’’مفاہمتی‘‘ پالیسی کو دیکھتے ہوئے اندازہ لگانا مشکل ہے کہ پیپلزپارٹی کی نئی سیاسی چال کیا ہوگی؟ تاہم یہ بھی تلخ حقیقت ہے کہ پی پی پی ’’پنڈی ‘‘ کے ساتھ سینگ پھنسانے کا نتیجہ اور ’’اسلام آباد‘‘ کے ساتھ فرینڈلی اپوزیشن کا کردار ادا کر کے بہت کچھ کھو چکی ہے تو کیا کوئی سمجھے گا کہ یہ فیصلے کی گھڑی ہے حقیقی اپوزیشن کا کردار ادا کرنا ہی سیاسی بقا کا ضامن ہے۔ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ سیاسی ہلچل میں طویل عرصے بعد جماعت اسلامی نے ایک مرتبہ پھر وہی کردار ادا کیا ہے جس کا بالعموم اس پر الزام لگایا جاتا رہا ہے جبکہ مولانا تو ہمیشہ سے ’’جیہڑا آوے اوندے نال‘‘ کی کامیاب پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور آئندہ بھی رکھیں گے؟ سیاسی منظر نامہ جو بھی صورت اختیار کرے صورت حال ان دیکھے انجام کی طرف گامزن ہے۔ اپوزیشن جماعتیں متحد ہوں نہ ہوں، ن لیگ چیلنجز میں گھر چکی ہے، عدالتی و سیاسی جنگ میں کامیابی اور عوامی پذیرائی کےحصول سمیت پنجاب میں اپنی حیثیت و اکثریت کو برقرار رکھنا ایک بڑا امتحان ہے۔ نوازلیگ اپنے قائد کی نااہلی کے خلاف قانونی جنگ لڑنے کے لئے تیاری کرچکی ہے لیکن ایک بڑا سوال یہ بھی ہے کہ موجودہ غیریقینی صورت حال میں نوازشریف کی سیاسی حکمت عملی کیا ہوگی؟ اشارے بتا رہے ہیں کہ نظرثانی درخواست سے بحالی کے باوجود وزارت عظمیٰ پر واپسی کو ترجیح بنانے کی بجائے نوازشریف بڑی اور فیصلہ کن سیاسی ’’آزادی‘‘ کی جنگ لڑنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ بحران سے نکلنے کے لئے ان کا نیا سیاسی وجمہوری بیانیہ کیا ہوگا؟ کیا جو باتیں وہ ’’اشارتاً اور قصداً‘‘ کہتے آرہے تھے کہ اس کو آئندہ انتخابی نعرہ بنائیں گے؟ نیب کیسز کے ’’احتساب‘‘ کا سامنا کیسے کریں گے؟ جج صاحبان نے جو کچھ کہا اس کا ازالہ کیسے کریں گے؟ محترم ججز نے اپنے ابتدائی فیصلے میں ماریو پوزو کے جس ناول کا ذکر کیا تھا اسی ’’گاڈ فادر‘‘ کے ایک صفحے پر ایک مشورہ آپ کے لئے بھی لکھا ہے،
“Revenge is a dish best served ’’