آپ آف لائن ہیں
اتوار11؍رمضان المبارک 1439ھ 27؍مئی 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

70 سال پہلے بھارت نے اقوام متحدہ سے خود قرارداد منظور کرانے کے باوجود کشمیری عوام کو حق خودارادیت دینے کی بجائے ریاست کے بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کر لیا۔ اس عمل کے دوران لاکھوں کشمیری شہید ہو گئے۔ کشمیریوں پر مظالم کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے اور کشمیری نوجوانوں کا اپنے دفاع میں مزاحمت کرنا دہشت گردی نہیں لیکن امریکہ بھارت کے ایما پر تحریک آزادی کو منظم کرنے والی ایک تنظیم حزب المجاہدین کو دہشت گرد قرار دے چکا ہے۔ اسی طرح لشکر طیبہ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ بھی دہشت گردی میں ملوث ہے۔ اس کے سربراہ مولانا مسعود اظہر کو بھی دہشت گرد قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ امریکہ اور بھارت نے ان دونوں تنظیموں اور ان کے سربراہوں کو سلامتی کونسل اور جنرل اسمبلی سے عالمی دہشت گرد قرار دلوانے کی کوشش کی تھی جسے چین نے ویٹو کر کے ناکام بنا دیا۔ حکومت پاکستان نے سید صلاح الدین کو دہشت گرد قرار دینے کی مذمت کی تھی اور کہا تھاکہ ان پر الزام سراسر بے بنیاد ہے۔ سید صلاح الدین کا یہ کہنا بالکل بجا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ فیصلہ کرتے ہوئے تمام عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو پامال کیا ہے اور اس کا مقصد بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر میں بے گناہ لوگوں کے قتل عام کا لائسنس دینا ہے۔ کوئی تنظیم، گروہ یا عسکریت پسند

x
Advertisement

کسی ملک پر قبضہ کرکے اپنا نظام لانے اور وہاں قائم قانونی حکومت کے خاتمے کے لیے مسلح کارروائی کرے تو اسے دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے لیکن مسئلہ کشمیر تسلیم شدہ بین الاقوامی تنازع ہے مقبوضہ کشمیر میں حریت پسند سیاسی قیادت کشمیریوں کو حق خود ارادیت دلانے کے لیے پرامن جدوجہد کر رہی ہے۔ بھارتی فوج اسے کچلنے کے لیے کارروائیاں کرتی ہے تو کشمیری نوجوانوں کا حق ہے کہ اپنا دفاع کریں جو دہشت گردی کے زمرے میں نہیں آتا اس لیے بہتر ہو گا کہ امریکہ بھارت پر دبائو ڈال کر اس سے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل کرائے اور عالمی برادری کشمیری عوام کو ان کی خواہشات کے مطابق حق خود ارادیت دلائے۔

​​
Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں