آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر3؍ربیع الاوّل 1440ھ 12؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
ہماری پارلیمنٹ، حکومت اور فوج نے پاکستان کی خودمختاری کا کیا خوب تحفظ کیا!!! بڑی مہارت سے سلا لہ واقعہ اور امریکی فوج کے ہاتھوں شہید کیے گئے دو درجن سے زاید پاکستانی فوجیوں کا کیا خوب بدلہ لیا!!! امریکا کو جھکنے پر مجبور کر دیا اور اپنے فوجیوں کے خون کے بدلے، مادرِ وطن کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور پاکستانیوں کی عزّت نفس کی تسکین کے لیے امریکی وزیر خارجہ سے سوری (sorry) کہلوا دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ ہماری توگزشتہ کئی ماہ سے کوشش تھی کہ امریکا سے باقاعدہ معافی(apology) منگوائی جائے ۔ اس سلسلے میں امریکیوں کی منّتیں تک کی گئیں، اُن کے آگے ہاتھ جوڑے گئے مگر باقاعدہ معافی کا مطالبہ پورا نہ ہو سکا۔ ہمارے نصیب میں خالی خولی سوری تھا۔ لیکن ہمارا حال دیکھیں سوری کا سننا تھا کہ پہلے سے بے چین اور امریکا سے خوفزدہ ہمارے حکمرانوں اور فوجی قیادت نے نیٹو سپلائی لائن فوری کھول دی۔ مگر ہم جیسے غلاموں کوبھی امریکا خوب ذلیل کرتا ہے۔ جتنے ہم امریکا کے آگے جھکتے ہیں، اتنا ہی ہمیں مزید ذلیل کیا جاتا ہے۔ ابھی امریکی ”سوری“ اور پاکستانی ”جیت“ کے نتیجے میں کھولی گئی نیٹو سپلائی لائن کو ایک دن ہی گزرا تھا کہ امریکا نے شمالی وزیرستان میں دو ڈرون حملے کر دیے، جن میں 22 مسلمانوں کو شہید کر دیا گیا۔ پاکستان کی خودمختاری کو بے دردی سے

ایک بار پھر تار تار کیا گیا۔ ہمارے حکمرانوں، فوج، پارلیمنٹ اورتمام پاکستانیوں کا منہ چڑایا گیا۔ نیٹو سپلائی لائن کو کھلنا ہی تھا، اس لیے کھل گئی اور اس تازہ امریکی حملے کے نتیجے میں اس کی دوبارہ بندش کا کوئی سوال ہی نہیں۔ اب ہماری کیا جرأ ت کہ ہم نیٹو سپلائی لائن کو دوبارہ بند کر دیں ۔ ہمارا مسئلہ پاکستان پر مسلط وہ سوچ (mindset) ہے جو امریکا کو خدا مانتی ہے۔ اس سوچ کا اللہ تعالٰی پر کم اور امریکا پر زیادہ ایمان ہے۔ یہ اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ جو فیصلہ جنرل مشرف نے ایک فون کال پر9/11 کے فوری بعد کیا، وہی فیصلہ جمہوریت کے نام پر ہم پر مسلط امریکی غلاموں نے کئی ماہ سوچ بچار اور پالیمنٹ کی منظوری کے بعد کیا۔ اللہ تعالٰی اہل ایمان کو حکم دیتے ہیں کہ مسلمانوں کے مقابلہ میں مشرکوں کی مدد نہ کرو اور یہ کہ یہودونصاریٰ مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔ مگر ہم ہیں کہ امریکا کے خوف کی وجہ سے اللہ ربّ العزّت کے حکم کی کھلی روگردانی کر رہے ہیں۔ ہم نے پہلے امریکا کی مدد کر کے افغانستان کی اسلامی حکومت کو ختم کروایا اور پھر وہاں یہود و نصاریٰ کا قبضہ کروایا۔ لاکھوں مسلمانوں کی قتل و غارت کے باوجود امریکی و نیٹو فوج افغانستان میں گیارہ سال گزرنے کے باوجود اپنے پاوٴں نہ جما سکی۔ چند ہزار مسلمان مجاہدین نے ایک لاکھ سے زائد امریکی فوج کو تمام تر جدید اسلحہ کے باوجود ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیا۔ مگر مٹھی بھرجہاد کرنے والوں کے ان کمالات کو دیکھنے کے باوجود پاکستان پر مسلط غلامانِ امریکا کی سوچ نہ بدل سکی اور آج ہم نیٹو سپلائی لائن کھول کر ایک بار پھر افغانستان پر قابض مشرکوں کی اُس فوج کی مدد کر رہے ہیں جو اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے مجاہدین اور افغان طالبان کو کچلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔نیٹو سپلائی لائن کھول کر ہم اُن طاغوتی قوّتوں کی مدد کر رہے ہیں، جنہوں نے افغانستان میں حال ہی میں قرآن کریم کی بے حرمتی کی اور مسلمان عورتوں اور بچوں کو قتل کیا۔ ہمارے جیسوں کے لیے اللہ تعالٰی نے سورة مریم میں ارشاد فرمایا” انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے الٰہ بنا رکھے ہیں تا کہ وہ ان کے لیے ذریعہء قوّت ہوں (یا ان کی حمایت میں آ کر وہ محفوظ رہیں)۔“ اسی طرح سورة یٰسن میں کہا گیا” اور انہوں نے اللہ کے سوا دوسرے الٰہ بنا لیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی۔“ پاکستان پر مسلط غلامان امریکا کی سوچ نے امریکا کو اپنا الٰہ بنا لیا مگراللہ تعالٰی کا وعدہ ہے کہ جب اُس کے فیصلے کا وقت آ گیا تو اللہ کے سوا دوسروں کو الٰہ ماننے والوں کے الٰہ اُن کے کسی کام نہیں آسکیں گے اور وہ (دنیاوی خدا) اُن کے لیے تباہی اور ہلاکت کے سوا کسی اور چیز میں اضافہ کا سبب نہ بن سکیں گے۔ کیا ہم نے نہیں دیکھا کہ امریکا کے خوف سے 9/11 کے بعد اُس کی مدد کرنے پر پاکستان غیر محفوظ ، کمزور اور تقسیم ہو کر تباہی و بر بادی کے دہانے تک پہنچ گیا۔ ہم تو امریکا کی مدد کر کے محفوظ ہونا چاہتے تھے، خوشحالی کے متمنی تھے مگر ہمیں ماسوائے ذلّت اور رسوائی کے کچھ نہ ملا۔ افسوس کہ اس سب کو دیکھنے کے باوجود ہماری سوچ نہ بدلی اور ہم نے اُسی رستہ پر ہی چلنے کا ارادہ کیا جو یقیناً تباہی اور بربادی کا رستہ ہے۔ یہاں بہت سے ایسے مسلمان ”فلاسفر“ اور ”دانش ور“ موجود ہیں جو اپنی دانش کے کمال پر پاکستان کی مسلمانوں کے خلاف کفر کی جنگ میں امریکا کا ساتھ دینے کے حق میں مختلف جواز پیش کرتے ہیں۔ مگر اللہ اور اللہ کے رسولﷺ کی بات کے سامنے کسی فلاسفر، دانش ور یا بے پیندے کے لوٹوں کے کہے کی کیا حیثیت ہے۔ اگر ہم مسلمان ہوتے ہوئے بھی اللہ کی بات کو نہیں مانیں گے بلکہ اُس کے برخلاف کام کریں گے تو پھر رسوائی ہمارا مقدر کیو ں کرنہ ہو گی۔ ذرا ہماری حالت دیکھیں ہم نے اللہ کی ناراضی کا خیال کیے بغیر مسلمانوں کے خلاف جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا مگر امریکا نے ہم پر ہی ڈرون حملے اور سلالہ اٹیک کیے اور پاکستان کو دنیا بھر کے لیے سب سے بڑا خطرہ بنا کر پیش کیا۔پاکستان امریکا کی مسلم کش جنگ کا سپورٹر بنا مگر امریکا نے اس جنگ کو پاکستان کے اندر ہی دھکیل دیا ۔ ہم نے امریکا کا ساتھ اس لیے دیا کہ ہم بچ جائیں ، ہمارا مال اور جانیں بچ جائیں۔مگر ہمارے چالیس ہزار سے زیادہ افراد اس جنگ کا ایندھن بن چکے۔ہم کفر کی اس جنگ کا حصہ بننے کے نتیجے میں پیسا بٹورنا چاہتے تھے مگر آج ہماری معیشت کو روزانہ تین ارب روپے کا نقصان محض اس امریکی جنگ کا حصہ بننے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔ اب تک پاکستان کو نام نہاد دہشتگردی کی جنگ کی وجہ سے 6500 ارب روپے سے زیادہ نقصان ہو چکا ہے۔ اس سب کے باوجود ہم نے نیٹو سپلائی لائن کھول دی تا کہ امریکا خوش ہو جائے۔ مگر یہ بھی میرے اللہ کا وعدہ ہے کہ یہودونصاریٰ مسلمانوں کے دوست نہیں ہو سکتے اور اُس وقت تک اُن (مسلمانوں) سے خوش نہیں ہو سکتے جب تک وہ دینِ اسلام کو چھوڑ کر اُن کا مذہب اپنا نہیں لیتے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں