آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا بھر کے جدید ماہرین تاریخ متفق ہیں کہ تاریخ دائروں میں سفر نہیں کرتی مگر افسوس کہ برصغیر کی تاریخ دائروں ہی میں سفر کرتی ہے 160سال پہلے غدریا جنگ آزادی ہوئی آج پھر 1857ء جیسی صورتحال ہے پہلے مغلیہ حکومت کا مقابلہ برطانوی سپرپاور سے تھا اب پاکستان کو امریکی دھمکیوں کا سامنا ہے۔
آگ ہے اولا ابراہیم ہے نمرود ہے
کیا پھر کسی کو کسی کا امتحاں مقصود ہے
ڈیڑھ صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد نہ تو بادشاہ، بہادر شاہ ظفر کی طرح ہچکچاہٹ کا شکار ہے نہ تو ملکہ زینت محل اور حکیم احسن اللہ خان جیسے نائبیں دشمن سے ملے ہوئے ہیں اور نہ ہی سپاہی غیر منظم ہیں کہ جنرل بخت خاں اور شہزادہ جواں بخت کے الگ الگ احکامات کے منتظر ہوں۔بہت کچھ بدل چکا ہے مگر کچھ مناظر صدیوں کے باوجود نہیں بدلے دہلی کی جامع مسجد کے سامنے گائے ذبح کرکے ہندو مسلم اتحاد توڑنے والے سبز جھنڈے لہراتے کانپور کے خودکش مجاہد اب نئے لشکروں کی شکل میں موجود ہیں عجیب اتفاق ہے کہ دہلی پر فیصلہ کن حملہ پنجاب سے جانے والے شکائش جنرل نکلسن نے کیا تھا اور اب بھی شمال کے ملک میں امریکی جنرل نکلسن فوجی دستے کی کمان کر رہا ہے برطانیہ کی ملکہ وکٹوریہ ملازموں سے بھی شفقت کا رویہ رکھتی تھیں اب ہمارا واسطہ امریکی صدر ٹرمپ سے ہے جو دوستی، دشمنی اور پیار کے جذبوں

سے زیادہ مفادات کے آدمی ہیں اس لئے ان سے معاملات سوچ سمجھ کر طے کرنا ہونگے ؟
اگلے چند ماہ کے لئے سیاست نہیں بلکہ صدر ٹرمپ کی تقریر کا جواب پاکستان کے لئے اہم ترین ہو گا افسوس یہ ہے کہ گزشتہ 70سالوں میں ہم عظیم طاقتوں کی جنگی حکمت عملی کا حصہ رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ کی تقریر کے جواب میں ہمارے پاس تین ممکنہ راستے ہیں ایک تو یہ کہ ہم ’’ہاں‘‘ کہیں پھر یا ’’نہ‘‘ کہیں اور تیسرا یہ کہ نہ ہاں اور نہ ناں بلکہ درمیانی راستہ اپنائیں۔تینوں ر استوں کے اپنے اپنے فائدے اور نقصان ہیں فرض کریں کہ ہم ’’ہاں‘‘ کا آسان راستہ اپناتے ہیں تو پہلی دو افغان جنگوں کی طرح ہم دنیا کی آنکھ کا تارا بن جائیں گے ہمیں امریکی امداد ملے گی فوجی اسلحہ بھی ملے گا اور ہم ماضی کی طرح ’’علاقے کا تھانیدار‘‘ بن کر پھرتے رہیں گے نقصان اس ’’ہاں‘‘ کا یہ ہو گا کہ ہمیں اپنا بیانیہ بدلنا پڑے گا اینٹی امریکہ عوامی اکثریت کو ہمنوا بنانا پڑے گا لشکر ختم کرنے پڑیں گے حقانی نیٹ ورک کو قربان کرنا ہو گا جس کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھے گی انتشار میں اضافہ ہو گا جمہوریت آفتاب ڈوبا رہے گا اور آمریت کے پھر پرے لہرائیں گے۔ دوسری طرف ’’ناں‘‘ میں فائدہ یہ ہے کہ حب الوطنی بڑھے گی، قومی حمیت جاگے گی،70سالہ غلامی سے نجات ملے گی اپنے پائوں پر کھڑے ہونے کے مواقع پیدا ہونگے نقصان یہ ہو گا کہ اقتصادی پابندیاں لگ سکتی ہیں ڈرون حملے ہو سکتے ہیں ۔ بھارت افغانستان اور امریکہ مل کر ہمارے خلاف منصوبہ بندی کر سکتے ہیں ۔
افغانستان کی پہلی جنگ کے شریک کار بعض ماہرین ایک تیسرا اور درمیانی راستہ تجویز کر رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ناں اور ہاں دونوں سوٹ نہیں کرتے ہم امریکیوں کو کہیں ہم آپ کو ضمانت دیتے ہیں کہ ہم اپنے ملک سے کسی کو افغانستان پر حملہ آور ہونے کی اجازت نہیں دینگے افغانستان بھی اس بات کو یقینی بنائے کہ وہاں کا کوئی حملہ آور پاکستان کارروائی نہ کرے یعنی ہم اپنے دشمنوں سے خود لڑیں اور امریکہ بھی اپنے دشمنوں سے خود لڑے۔
کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ انتظار کیا جائے اور فیصلے کے عمل کو طول دیا جائے کیونکہ ٹرمپ کا اقتدار خطرے میں ہے وقت لینے سے یہ خطرہ ویسے ہی ٹل جائے ۔عسکری ماہرین کا خیال ہے کہ روس اور چین کی حمایت سے حالات بدل چکے ہیں ہمیں اب امریکی حملے کا خطرہ نہیں رہا معاملہ صرف دھمکیوں تک ہی محدود رہے گا اس سے آگے جانے کی توقع نہیں اس لئے پاکستان ابھی انتظار کرے جلدی نہ کرے ۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم دو افغان جنگیں بھگت چکے تو اس دفعہ اسے غدریا جنگ آزادی سے تشبیہ کیوں ؟ پہلی دو افغان جنگیں ہم نے امریکہ کے ایسے اتحادی کے طور پر لڑیں جس سے امریکی مکمل طور پر آشنا نہ تھے وہ ہمیں غلام اتحادی سمجھتے تھے جبکہ ہم آزاد اتحادی تھے امریکی چاہتے تھے کہ ہم آنکھیں بند کرکے ان کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے مگر ہم آنکھیں کھول کر اپنے مفادات کا بھی خیال رکھتے رہے ۔تیسری افغان جنگ میں غیر معمولی بات یہ ہو گی کہ امریکہ ہم پر کڑی نظر رکھے گا اور ہم ماضی کی طرح اپنے مفادات کو محفوظ نہ رکھ سکیں گے اور ہمیں اپنے ماضی کے سیکورٹی بیانیے کی قربانی دینا ہوگی جو آسان کام نہیں ۔
کسی زمانے میں تھامس ہابنر کے نظریے کو عروج حاصل تھا جس کے مطابق ہر ریاست کو اپنی خود مختاری اور نیشنل سیکورٹی کی خاطر جنگوں میں کودنے کو بہترین حکمت عملی سمجھا جاتا تھا کہا جاتا تھا کہ جنگ نے ریاست کو جنم دیا اور ریاست نے جنگ کو جنم دیا۔یورپ کی قومی ریاستوں کی اقتصادیات نے جنگوں سے اپنے آپ کو مضبوط بنایا تھا وقت بدلا تو جیمز لاک کے تصور نے دنیا میں فروغ پایا کہ بڑی جنگیں لڑیں گے تو اندرونی استحکام کھو دینگے طاقتور ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اندرونی معاشی استحکام کو نظرانداز کر دیں گویا ریاست کے لئے ضروری ہوا کہ اندرونی تحفظ اور معاشی استحکام کو یقینی بنائے۔اس تصور سے یہ واضح ہوا کہ جو ریاست معاشی طور پر مستحکم ہو وہی اچھا اسلحہ رکھ سکے گی یا خرید سکے گی اور وہی مضبوط ریاست ہو گی۔ کانٹ نے تو تھامس ہانبر کے نظریات کو بدلا کہ باہمی بھروسے اور تعاون پر زور دیا یوں ایک نئی پرامن دنیا کی بنیاد پڑی۔
ڈیڑھ صدی کے بعد ہم ایک بار پھر تاریخ کے نازک موڑپر ہیں ہمیں اپنی بدلتی ہوئی قسمت کا فیصلہ اجتماعی دانش کے ذریعے کرنا چاہئے پاک فوج کی قیادت عالمی منظر نامے کو بخوبی سمجھتی ہے اسی طرح میڈیا کی آزادی نے ہر شخص کو بین الاقوامی امور کا ماہر بنا دیا ہے اس لئے فیصلے اب اندھیرے میں نہیں روشنی میں کرنا ہونگے ۔جذباتی باتیں ، جنونی جلسے اور کفن پوش ریلیاں جذبات کی حد تک تو ٹھیک ہیں لیکن فیصلے عقل و دانش کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔مغلیہ حکومت عقل و دانش کو بروئے کار لاتی تو شاید ڈیڑھ سو سال بعد بھی برطانوی شاہی خاندان کی طرح علامتی حیثیت میں زندہ ہوتی ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں