آپ آف لائن ہیں
پیر 13؍محرم الحرام 1440ھ 24؍ ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بندر کے ہاتھ میں استرا دینا....خدا گنجے کو ناخن نہ دے....ضرب المثل کہاوتیں ہر زباں کے بیاں کی وہ زریں جنتری ہے، دریا کو کوزے میں بند کرنے کاہنر جس میں آراستہ ہے۔یہ لسان در لسان منتقل ہوتی ہر زمانے میں نمایاں چلی جاتی ہیں۔ ایسے مستعمل ان گنت جواہر پاروں سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ بزرگ کتنے دانا تھے جن کی یہ عطا ہیں۔ خانِ خاناں عمران خان صاحب کے اعتراف ناکامی پر مشتمل اس انٹرویو ،جس میں موصوف نے فرمایا ہے کہ ’ناتجربہ کاری کے باعث ایک سال تک معاملات کا پتہ ہی نہ چلا، شکر ہے وفاقی حکومت نہ ملی ورنہ وہاں بھی خیبر پختونخوا جیسا حال ہوتا‘۔اب آپ ناتجربہ کار کو حکومت دینا، بندر کے ہاتھ میں استرا دینا سمجھ لیں اور پھر استرا ملنے پر جو کچھ بندر کرسکتا ہے اس کا خیال دل و دماغ میں لائیں ..... ! آئیے اس انٹرویو کے مندرجات پڑھتے ہیں۔ ’’خیبر پختونخوا حکومت کی چار سالہ کارکردگی پر برطانوی نشریاتی ادارے کو انٹرویو میں عمران خان نے کہا کہ بلدیاتی نظام پر عمل میں کافی مشکلات پیش آرہی ہیں، خدا کا شکر ادا کرتا ہوں کہ 2013میں ہمیں مرکزی حکومت نہیں ملی ورنہ وہاں بھی خیبر پختونخوا والا حال ہوتا۔ پرویز خٹک کے علاوہ سب نئے لوگ ہیں جنہیں ایک سال تک تو پتہ ہی نہ چلا کہ کیا ہورہا ہے، خیبر پختونخوا حکومت سے جو سبق ہم نے

سیکھے وہ مرکز میں ہمارے کام آئیں گے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ پختونخوا میں سیکڑوں اسکول بند ہوگئے ہیں۔ اسپتالوں کی عمارتوں کی حالت بہتر بنانے سے متعلق انہوں نے کہا کہ اس کے لیے بہت بڑی رقم کی ضرورت ہے جو ان کے پاس نہیں ہے‘‘..... نااہلی کے بنیادی اعتراف کے علاوہ اس انٹرویو سے ان الزامات کی بھی تصدیق ہوتی ہے جو مسلم لیگ (ن) ،جاوید ہاشمی صاحب و دیگر اصحاب لگاتے رہے ہیں کہ دھرنوں کے پیچھے کوئی اور مقصد بروئے کار تھا ۔ ظاہر ہے جب آپ اعتراف کرتے ہیں کہ ناتجربہ کاری کے عالم میں مرکزی حکومت سے دور رہنا خداوند بزرگ و برتر کا کرم تھا، تو پھرچار حلقوں کے کھولنے کے مطالبے کے تناظر میں مرکز تک رسائی کیلئے طویل ترین دھرنے کیا معنی رکھتے تھے؟
ان سطور میں مگر ہماری بحث دیگر نکات پر مشتمل ہے، مثلاً یہ کہ کیا خیبر پختونخوا ایک ایسی لیبارٹری ہے جہاں اس طرح کے تجربات ہی ہوتے رہیں گے... یہ تجربات ہی کا شاخسانہ تو ہے کہ آج پختونخوا کے لوگ ترقی کی منزل سے کوسوں پیچھے ہیں۔ ایک تجربہ 80کی دہائی میں یہاں جنرل ضیا الحق و جنرل اختر عبدالرحمن نے بھی کیا تھا، یہ تجربہ کسی ایٹمی دھماکے سے کم نہ تھا۔ اسکے مضر اثرات قوم آج تک ہیروئن، کلاشنکوف اور سب سے بڑھ کر جہادی کلچر کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ 30لاکھ انسان اس تجربے کی نذر ہوگئے۔ تاریخ کاجبر ملاحظہ فرمائیں اب بھی سنگدل اس کے ثمرات گنواتے ہوئے جھومتے ہیں ۔ اگلے روز پنجاب کے ن لیگ نواز ایک کالم نگار نے اپنے قصیدے میںنام نہاد افغان جہاد کی تباہ کاریوں کو پرُمزہ قصے بتایا۔ خدا ایسے لوگوں پر رحم کرے جو 30لاکھ مسلمانوں کے قتل،لاکھوں کےمعذور، ہزاروں خواتین کے بیوہ ، بچوں کے یتیم اور بزرگوں کے بے آسرا ہونے کے واقعات کو مزے مزے کے قصے بتاتے ہوئے ذرا بھی خوف خدا دل میں نہیں لاتے۔ ایک علاقائی اخبار میں ایک نوجوان نے جس کے جواب میں موصوف سے سوال کیا کہ 30لاکھ مسلمانوں میں اگر آپ کا کوئی پیارا بھی( خدانخواستہ) مارا جاتا تو کیا پھر بھی آپ اسی طرح مزے مزے لے کر ان واقعات کو بیان کرتے؟
ایک تجربہ ’ لاوارث‘ پختونخوا میں ایم ایم اے نے بھی کیا تھا۔ 2002کی انتخابی مہم میں ہر طرف اسامہ بن لادن اور ملا عمر صاحب کے قد آدم تصویروں کی بہار تھی۔ یہ بعد کی کہانی ہے کہ پھر انہی مجاہدین کی وفات پر کسی نے کسی ایک مسجد میں فاتحہ خوانی تک نہ کی۔ ایم ایم اے کا نعرہ تھا، اب ملک میں قرآن و سنت کا قانون نافذ ہوا چاہتا ہے۔ پختونخوا کے لوگوں نے اس نعرے پر لبیک کہا۔ جب حکومت ملنے کے بعداس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت آیا تو مال غنیمت پر گھمسان کا ایسا رن پڑا کہ قاضی حسین احمد صاحب کو کہنا پڑا ’’جمعیت علمائے اسلام وہ ہڈی ہے جسے نہ نِگل سکتے ہیں اور نہ اُگل سکتے ہیں‘‘..... یہ تجربہ بھی ایٹمی حملے کی طرح ضرر رساں رہا۔ ایم ایم اے نے 17ویں ترمیم کے پلڑے میں اپنا وزن ڈال کر دیگر نجاستوں سمیت پرویز مشرف صاحب کے غیر آئینی اقدامات کو تحفظ فراہم کیا۔
عمران خان صاحب کے دو ٹوک اعتراف کا واضح مفہوم یہ نکلتا ہے کہ وہ حکومت چلانے کے اہل نہیں تھے اور اب صوبہ پختونخوا کو تجربہ گاہ بنانے سے وہ بہت کچھ سیکھ چکے ہیں۔ جیسا کہ آپ جانتے ہیں سیاست و حکومت عوام کی خدمت و حفاظت کے بندوبست کا نام ہے، جبکہ ووٹ ایک شہادت ہے، جو کسی منصب کیلئے ایسے امیدواروں کے حق میں دی جاتی ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں ۔ کہنا یہاں یہ ہے کہ کیا یہ عقل سوزی کا لمحہ نہیں، کہ پختونخوا کے عوام نے ان لوگوں کو ووٹ دئیے جو خود کہتے ہیں کہ وہ اس کے اہل نہیں تھے۔ عمران خان کےانٹرویو کا نفس مضمون ہی یہی ہے کہ شکر ہے کہ انہیں پنجاب سمیت دیگر صوبوں کے لوگوں نے ووٹ نہیں دئیے ور نہ ان صوبوں سمیت مرکز کا بھی وہی حشر نشر ہوتا جو پختونخوا کا ہوا..... سادہ مفہوم یہ لیا جاسکتا ہے کہ اناڑی لیڈروں کوپختونخوا کے لوگوں نے ووٹ دے کر اپنے پائوں پر خود ہی کلہاڑی مار دی ۔ تحریک انصاف والے بالخصوص تعلیم و صحت میں ترقی کے متعلق کتنا شور مچاتے تھے، اب عمران خان کہتے ہیں کہ اسپتالوں کی حالت زار بنانے کےلیے ان کے پاس رقم ہی نہیں ہے۔ کپتان صاحب! رقم گئی کہاں....؟ ظاہر ہے آپ کے دھرنوں ، جلسوں اور دیگر امور پر پانی کی طرح بہائی گئی۔ اب ڈینگی نے پختونخوا میں قتل عام شروع کر رکھا ہے لیکن آپ کو حسب معمول جلسوں سے ہی فرصت نہیں۔ دوسری طرف تعلیم کے میدان میں موجودہ حکومت انقلابی تبدیلیاں کیا لاتی، کہ (بقول عمران خان) اس ناتجربہ کار حکومت نے اے این پی کے تعلیمی منصوبوں کے فیض سے بھی طلبہ کو محروم کردیا۔ اس حکومت کی وجہ سےسماج دشمن عناصر کو اس قدر سہولت مل گئی ہے کہ وہ براہ راست منشیات تعلیمی اداروں میں پہنچا کر بچوں کا مستقبل تباہ کررہے ہیں۔ منگل کو سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے استعمال کا نوٹس لیتے ہوئے صوبائی حکومت سے رپورٹ طلب کرلی ہے۔ جسٹس دوست محمد خان نے ریمارکس دئیے کہ اتنی سیکورٹی کے باوجود منشیات تعلیمی اداروں میں کیسے فروخت کی جاتی ہیں؟
بنابریں عمران خان اپنی نااہلی و ناتجربہ کاری کا اعتراف نہ بھی کریں ، کابل کے بچہ سقہ کے طرز حکمرانی سے ہر کوئی آگاہ تھا ۔
بتان ِشہر کو یہ اعتراف ہو کہ نہ ہو
زبانِ عشق کی سب گفتگو سمجھتے ہیں
ہمیں بھی ایک اعتراف ہے، یہ اعتراف ایک جہاں کو ہے، کہ عمران خان صاحب کرکٹ کے قابل کپتان تھے، سیاست بہر صورت تاحدِ نظر وسیع میدان ہے۔ ظہیر الدین بابر زیرک و بہادر جنگجو تھے،وہ افغانوں کو خریدتے ،دیگر اقوام کو ساتھ ملاتے،کابل سے دہلی پہنچے اور افغان ابراہیم لودھی سے سلطنت چھین کر ہندوستان میں مغل ایمپائر کی بنیاد رکھ دی۔ لیکن کیا کیا جاتا، وہ آلِ تیمور کے بعض ذوق جیسے’ مے و معجون‘ بھی ہندوستان ساتھ لائےتھے اور انہی کے سبب 48برس کی عمر میں خوراکِ توراب بن گئے ۔ قیادت نشاط وہوس یا خبط و خواہشیں پالنے کا نام نہیں، ان پر قابو پانے کا استعارہ ہے۔ نقاد خوش ہیں کہ خان نے انہیں بہت سارا مواد دے دیا ہے، حضرت جون ایلیا کا کہنا مگر یہ ہے۔
میں جرم کا اعتراف کرکے
کچھ اور ہے جو چھپا گیا ہوں

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں