آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ12 ربیع الاوّل 1440ھ 21؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکی صدر ریگن اُس وقت برہم ہوئے جب ایک صحافی نے افغان گوریلوں کو افغان باغی کہا، غصے سے ہانپتے کانپتے امریکی صدر کا اصرار تھا کہ ان کی جنگ Holy War(جہاد) ہے اور یہ مقدس جنگجو ہیں (بحوالہ فلپس بونسکی، پولیٹکل آفیرز مئی 1984) امریکی صدر کی مذکورہ جوشیلی حمایت کے تناظر میں پاکستانی وزیر خارجہ جناب خواجہ محمدآصف کا یہ کہنا کیا غلط ہے کہ ’یہ لوگ (نام نہاد مجاہدین) امریکی لاڈلے اور وہائٹ ہائوس میں دعوتیں اڑایا کرتے تھے‘۔آئیے پاکستان کے صاف گو سیاستدان خواجہ آصف کی سنتے ہیں۔ نیویارک میں ایشیا سوسائٹی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نےکہا ’’ 80 کی دہائی میں امریکہ کا آلۂ کاربننا ایک ایسی غلطی تھی جس کا خمیازہ پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔ پاکستان کے مسائل امریکہ کی سوویت یونین کے خلاف سرد جنگ کے بعد پیدا ہوئے ۔ ہمیں استعمال کیا گیا اور پھر دھتکار دیا گیا۔ امریکہ کے سوویت یونین کے خلاف جنگ جیتنے کے بعد سے ہم جہنم میں چلے گئے اور آج تک اسی جہنم میں جل رہے ہیں‘‘
خواجہ صاحب کا نام نہاد افغان جہاد کے حوالے سے موقف نیا نہیں ہے، یہاں تک کہ وہ قومی اسمبلی کے فلور کے علاوہ متعدد دیگر فورمز پر بھی بے باک انداز سے اس کا اظہار کرچکے ہیں ۔ بحیثیت وزیر خارجہ البتہ یہ بیان دوسرے معنی رکھتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ

یہ بیان انکشاف لیے ہوئے ہے، قبل ازیں ریاست پاکستان کے دیگر متعدد ذمہ داران بھی افغان جہاد کو وقت کا ایک غلط فیصلہ قراد دے چکے ہیں۔8مئی 2017کو روزنامہ جنگ میں شائع ہونے والی خبر میں سابق وزیر خارجہ سردار آصف احمدعلی نے اعتراف کیا تھا ’’روس کیخلا ف جہاد غلط تھا، میں نے اس بات کا اظہار(90 کی دہائی میں)پارلیمنٹ میں بھی کیا تھا، اس جنگ کے دوران ایک ایسا وقت بھی آیا تھاجب اسرائیلی جرنیلوں نے پاکستان آکر معاونت کی‘‘۔
ایسا بھی نہیں ہے کہ قوم و ملت بلکہ خطے کو جیسا کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا، جہنم بنانے والے اس دیو قامت فیصلے کے سازو کار اس کے حقائق سے آگاہ نہ تھے، اور کسی مغالطے یا دھوکے میں اس دلدل میں دھنستے چلے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ شخصی حکمرانی ، مالی فوائد اور افغانستان سے دیرینہ آویزش سمیت متعدد وجوہ کی بنا پر وہ آنے والی نسلوں کی فکر مندی سے بے نیاز ہوگئے تھے۔ ’’بریگیڈیئر یوسف اس امر کا کھلے طورپر اعتراف کرتے ہیں۔‘‘ امریکی آفیشلز افغان جنگ کو ایک ایسا خدائی تحفہ سمجھتے تھے جس کے ذریعے وہ افغانستان میں کسی امریکی کا خون گرائے بغیر روسیوں کو قتل اور ان سے ویت نام کی شکست کا بدلہ لے سکتے تھے، جنرل اختر عبدالرحمن اس پر امریکہ سے متفق تھے۔‘‘ آپ جانتے ہیں کہ بریگیڈیر یوسف نے جنر ل اختر عبدالرحمٰن کی مدح میں  "The Silent Soldier"لکھی تھی جو جولائی 1991کو شائع ہوئی۔ ان کی دوسری کتاب "The Bear Traip"ایک سال بعد جون 1992میں منظر عام پر آئی۔ ان دونوں کتابوں میں انہوں نے بعض تلخ حقائق بھی بیان کئے ہیں۔ بریگیڈیر صاحب لکھتے ہیں ’’امریکی (گوریلا) جنگ کا تجربہ نہیں رکھتے تھے اور مجاہدین ناتجربہ کار اور ایک مجاہد دوسرے مجاہدکا مخالف تھا، یہ صرف جنرل اختر عبدالرحمٰن تھے جنہوں نے امریکہ و مجاہد ین کو کار آمد بنایا۔‘‘ ہم جیسے عام پاکستانی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ سب کیا دھرا ضیا الحق صاحب کا ہے لیکن بریگیڈیر صاحب کی کتابوں سے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ ضیا صاحب تو بس مجبورمحض تھے اصل منصوبہ ساز و کارساز تو جنرل اختر عبدالرحمن تھے۔
ظاہر ہے جو جنرل( اختر عبدالرحمن) ایک امریکی کا خون گرائے بغیر روس سے امریکہ کے لیے ویت نام کی شکست کا بدلہ لینے کیلئےتیار ہو، اس سے زیادہ امریکیوں کو کون عزیز ہوسکتا تھا۔ بریگیڈیر یوسف تو اپنی کتاب کے صفحہ 38پر یہاں تک کہتے ہیں ’’یہ صرف اور صرف جنرل اختر عبدالرحمن ہی تھے جنہوں نے افغان جنگ میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا، فوجی منصوبہ بندی صرف انہی کی ذمہ داری تھی اور پھر اس منصوبے پر بیرون ملک عمل درآمد بھی انہی کا کام تھا۔‘‘اپنے اور غیروں کی مکرو فریب پر مبنی افغانستان و اس خطے کی تباہی و بربادی کی المناک داستان بہت طویل ہے۔ مختصر یہ کہتے چلیں کہ جن مجاہدین کو صدر ریگن نے مقدس جنگجو قرار دیا اور انہی کے کہنے پر جنرل اختر عبدالرحمن نے جنہیں ’مجاہدین‘ بنا ڈالا، آئیے دیکھتے ہیں کہ خود جنرل صاحبان ایسے مجاہدین کا مذاق آپ کس طرح اُڑایا کرتے تھے۔ ذکر نام نہاد ’’مجاہد کبیر ‘‘ کا ہوجائے۔ ’’برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب اپنی کتاب Waiting for Allahمیں لکھتی ہیں‘‘ مجھے خود جنرل فضل الحق نے بتایا ،ہم نے امریکہ سے کہا، ہم نے آپ کو مچھلی پکڑنے کے لیے Worm( ایک کیڑا) دیا ہے جسے آپ بروئے کار لاسکتے ہیں لیکن اس کیڑے گلبدین حکمت یار پر بھروسہ نہیں کرسکتے، یہ آپ کے ساتھ چار پائی میں سو جائیگااور پھر مطلب برآوری کے بعد آپ کے گلے پر چھری پھیر دے گا‘‘۔ دیکھئے جنرل صاحب امریکی یاری میں کس قدر’ مخلص‘ تھے کہ اُنہیں سمجھاتے ہیں کہ آپ حکمت یار کے ذریعے شکار یعنی اپنا مطلب تو ضرور پورا کریں لیکن ان پر بھروسہ ہر گز نہ کریں۔ بریگیڈیر یوسف صاحب اسی کتاب کے صفحہ 161پر رقم طراز ہیں’جب حکمت یار کو امریکہ بھیجا گیا تو وہاں اُس نے کچھ شرائط رکھیں، جس پر جنرل ضیا نے گلبدین کو تنبیہ کی کہ وہ اپنی اوقات میں رہے، یہ پاکستان ہی ہے جس نے تمہیں اس مقام تک پہنچایا اور اگر انسان نہ بنے تو کہیں کے نہیں رہوگے‘۔
حقیقت کو ٹٹولا جائے تو رونگٹے کھڑے ہوجاتےہیں کہ اسلام کے اس قلعے میں اسرائیلی ایجنٹ (جن سے سفارتی تعلقات بھی نہیں ) دندناتے پھرتے تھے۔ امریکی مصنف Seignrour Harshاپنی کتاب Samson Optionمیں لکھتے ہیں ’’اسرائیل جاسوس Ariben Menasheتین سال تک اپنی ٹیم کے ساتھ پشاور میں رہے۔ اس دوران دیگر امور کے علاوہ وہ گلبدین حکمت یار کے مجاہدین کو تربیت دیتے تھے‘‘۔ آئیے بریگیڈیر یوسف کےاس اعتراف پر بحث سمیٹتے ہیں ’’میں سمجھتا ہوں کہ افغان جنگ کا فاتح صرف اور صرف امریکہ ہے اور شکست یقینی طورپرتباہ حال افغانوں کو ہوئی‘‘ آپ نے ملاحظہ فرمایا ،تاریخ کے جبر نےنام نہاد جہاد کےمعماروں کے ہاتھوں دودھ کا دودھ پانی کا پانی کردیاہے، لیکن جب ملک وملت کے سامنے درست تصویر کشی کا موقع تھا ، تو بعض بڑے بڑے جبہ ودستار اس خون آلود میلے میں اپنا پنا مال بیچ رہے تھے۔ایسے عالم میںصرف یہ مردِ قلندر باچاخان ہی تھے جو حق کا علم اُٹھائے پکار رہے تھے’’اے مسلمانو! یہ جہاد نہیں فسادہے،یہ امریکہ اور روس کی جنگ ہے، ہاتھیوں کی لڑائی میں شامت مینڈک ہی کی آتی ہے ‘‘وقت گزرچکا،خیر کے پلوں کو شرکا بحرِبے کراں بہا کر لے جا چکا ہے۔اس لئے وقت کا نوحہ یہ نہیں ہے کہ کس کس نے امریکہ کی جیت، افغانوں کی شکست اور پاکستانیوں کی تباہی کیلئے یہ سامان پیدا کیا۔ماتم اس پر ہےکہ اس جنگ نے اب تک پورے منطقےکو آتش فشاں بنارکھا ہے، ہیروئن ، کلاشنکوف اور انتہاپسندانہ کلچر سےپاکستانی معاشرہ ٹوٹ پھوٹ چکاہے۔اس کے باوجود آج بھی بعض عناصر متذکرہ امریکی جنگ کو جہاد ثابت کرنے اور ان دنوں افغان صدر کے چرنوں میں بیٹھے گلبدین کو’مجاہد کبیر‘ قرار دینے پر بضد ہیں۔باالفاظِ دیگر 30لاکھ مسلمانوں کے خون سے رنگین یہ دریا ان کیلئے لذت یابی کا سمندر ٹھہرا۔قلم و دین فروش یہ بہروپئے اپنا یہ دیرینہ کاروبار بے شک جاری رکھیں، تاریخ مگر منتظر ہے کہ ایسے تمام کرداروں کو تعفن آلود کپڑے میںلپیٹ کر محفوظ کرلے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں