آپ آف لائن ہیں
جمعہ 7؍ شوال المکرم 1439ھ 22؍ جون2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بنگلہ دیش میں ہر سال اکتوبر کے مہینے میں باریشال شہر سے ساٹھ کلو میٹر دور واقع لینڈ اسکیپ گلابی رنگ کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔ یہ نظارہ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ دیکھیے تو جھیل کے پانی پر کنول کے پھول کیسے رنگ بکھیر رہے ہیں۔

x
Advertisement

جھیل کنول
کنول کے پھولوں سے بھری ہوئی یہ جھیل اجیر پور سب ڈسٹرکٹ کے گاؤں ساتھلا میں واقع ہے۔ ساتھلا میں ایسی کئی جھیلیں ہیں جنہیں آج کل گلابی پھولوں نے اسی طرح ڈھک رکھا ہے۔

جھیل تک کیسے پہنچیں؟
ساتھلا گاؤں کی جھیلوں میں افراط میں کھلے کنول کے پھولوں کو دیکھنے کے لیے ڈھاکا سے باریشال شہر پہنچنا ہوتا ہے اور وہاں سے ساتھلا گاؤں تک کا راستہ آٹو رکشہ کے ذریعے طے کیا جاتا ہے۔

صبح صبح جانا ہو گا
پھولوں کے حسن کا دل بھر کے نظارہ کرنا ہے تو پھر صبح سویرے جانا ہو گا۔ جیسے جیسے دن ڈھلتا ہے پھول کم ہوتے جاتے ہیں کیونکہ تب تک مقامی لوگ انہیں توڑ کر لے جا چکے ہوتے ہیں۔

ناؤ کی سواری
جھیل میں چھوٹی چھوٹی کشتیاں جا بجا نظر آتی ہیں۔ مقامی لوگ سیاحوں کو ایک کنارے سے دوسرے کنارے تک جھیل کی سیر کراتے ہیں جو اُن کی کمائی کا ذریعہ بھی ہے۔

قدرتی حسن بھی آمدن بھی
یہ پودے نہ صرف مقامی کسانوں کو ایک دل لبھانے والی خوبصورتی سے محظوظ ہونے کا موقع دیتے ہیں بلکہ اُن کے لیے آمدنی کا ذریعہ بھی ہیں۔

پھول بیچیں بھی اور کھائیں بھی
بہت سے کسان یہاں کھلنے والے کنول کے پھولوں کو مقامی بازاروں میں بطور سبزی بیچنے کے لیے جمع کرتے ہیں۔ ان پھولوں کو پکایا بھی جاتا ہے۔

مچھلیاں بھی افراط میں
نہ صرف یہ پھول مقامی آبادی کو روزگار فراہم کرتے ہیں بلکہ اسی سیزن میں جھیل میں مچھلیاں بھی پائی جاتی ہیں۔ یہ مچھلیاں بھی نہ صرف بازار میں فروخت کی جاتی ہیں بلکہ گاؤں والوں کی خوراک کا ایک ذریعہ بھی بن جاتی ہیں۔

باقی موسموں میں کھیتی باڑی
کنول کھلنے کے موسم میں تو مقامی لوگوں کا گزارہ انہیں بیچ کر اور کھانے میں استعمال کر کے ہو جاتا ہے۔ دیگر موسموں میں یہاں کے لوگ کھیتی باڑی اور مویشی بانی کے ذریعے گزر بسر کرتے ہیں۔

ایک گلدستے کی قیمت پانچ ٹکے
ایک پھولوں کا گچھہ جس میں پندرہ سے بیس پھول ہوتے ہیں، تین سے پانچ ٹکوں میں فروخت ہوتا ہے۔ پھولوں کو توڑنے میں صرف بڑے لوگ ہی نہیں بلکہ گاؤں کے بچے بھی بہت ذوق وشوق سے حصہ لیتے ہیں۔ یہ کام اُن کے لیے کھیل بھی ہے اور پیسے کمانے کا ذریعہ بھی۔

سیاحوں کے لیے سہولیات نہیں
جرمن نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ساتھلا گاؤں کی کنول کے پھولوں سے مرصّع جھیلوں کو بنگلہ دیش بھر سے سیاح دیکھنے آتے ہیں۔ تاہم بنگلہ دیش کے محکمہ سیاحت نے ابھی تک ان سیاحوں کے ٹھہرنے کے لیے ہوٹل اور جھیل تک پہنچنے کے لیے ٹرانسپورٹ کا کوئی بندوبست نہیں کیا ہے۔(بشکریہ ڈوئچے ویلے )

 

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں