آپ آف لائن ہیں
منگل4؍شوال المکرم 1439ھ 19؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن
Farooq Sattar Amir Khan Submit Answers On Provocative Speeches

ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار اور سینئر ڈپٹی کنوینر عامر خان نے اشتعال انگیز تقریر کیس میں پولیس کے سوال نامے کا جواب داخل کرادیا۔

دونوں رہنماؤں نے 22 اگست کی تقریر کے بعد 17 اگست کی ہڑتال سے بھی لاتعلقی ظاہر کردی ۔

x
Advertisement

22 اگست کو بانی ایم کیو ایم کی اشتعال انگیز تقریر کے کیس میں پولیس نے 9 سوالات پر مشتمل سوال نامہ دیا تھا جس کا جواب فاروق ستار اور عامر خان نے عدالت میں جمع کرادیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے 17 اگست 2016ء کی ہڑتال سے لاتعلقی ظاہر کی۔

فاروق ستار نے جواب دیا کہ وہ بیرون ملک سے واپس آئے تو لندن رابطہ کمیٹی نے بھوک ہڑتال کی ہدایت کی۔

عامر خان کے مطابق وہ ہڑتال کے فیصلے میں شریک نہیں تھے۔

ہڑتالی کیمپ میں موجود رہنماؤں سے متعلق سوال پر فاروق ستار نے مکمل لاعلمی ظاہر کی جبکہ عامر خان نے کسی رہنما کا نام بتانے سے گریز کیا۔

تقریر کے بعد اشتعال انگیزی روکنے سے متعلق سوال پر فاروق ستار کا جواب ہے کہ وہ نفرت انگیزتقریرکے بعد بانی ایم کیو ایم سے لاتعلقی کیلئے پریس کلب آئے تھے،جہاں سے رینجرز اہلکار انہیں اٹھا کر لے گئے جس کے بعد انہوں نے 23 اگست کی پریس کانفرنس میں بانی سے علیحدگی کا اعلان کیا۔

عامرخان کے مطابق بانی کی تقریر ختم ہونے کے بعد توڑ پھوڑ کا کوئی پروگرام نہیں تھا، ہنگامہ آرائی کے دوران رینجرز حکام نے فون کرکے انہیں بلوالیا، جس کے بعدرات ایک بجے تک سوال ہوئے، جن میں بانی سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کی۔

22 اگست کے بعد بانی ایم کیو ایم سے ملاقاتوں کے سوال پر دونوں رہنماؤں نے کسی بھی ملاقات اور بات چیت سے انکار کیا، جلاؤ گھیراؤ اور ایک شخص کی ہلاکت پر تاثرات سے متعلق سوال پر فاروق ستار نے کہا کہ وہ بے اختیار ہاتھ ماتھے پر رکھ کر تقریر ختم ہونے کی دعا کرتے رہے۔

عامر خان نے 22 اگست کو افسوس ناک دن قرار دیتے ہوئے کہا کہ کوئی محب وطن یہ عمل برداشت نہیں کرسکتا ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں