آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آج کل ملکی اور بین الاقوامی طور پر خواجہ آصف کا نام بڑی شد و مد سے لیا جا رہا ہے۔وزیر خارجہ کے دورہ امریکہ کی تصاویر فخر سے شیئرکی جا رہی ہیں۔ ایشیا سوسائٹی میں کی جانے والی تقریر کے ٹکڑے سوشل میڈیا کی جان بنے ہوئے ہیں۔ یونائٹیڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس میں کئے جانے والے خطاب پر داد کے ڈونگرے برسائے جا رہے ہیں۔ ہر طرف دادوتحسین ہو رہی ہے۔ خواجہ صاحب کو بہادر ، جری کے لقب سے پکارا جا رہا ہے۔ دنیا بھر میں خواجہ صاحب کے ایک بیان سے ہاہا کار مچ رہی ہے۔ اپنے تئیںوزیر خارجہ ہیرو بنتے جا رہے ہیں۔ قوم کو انکے خطبات عالیہ کا انتظار رہنے لگا ہے۔ لیکن اگر میری مانیں تو یقین کریں، خواجہ صاحب کی ٹائمنگ ٹھیک نہیں ہے۔ یہ درست ہے خواجہ صاحب نواز شریف کے کلاس فیلو رہے ہیں، مانے ہوئے چارٹرڈ اکائونٹنٹ ہیں ، انکو اپنی قیادت کا بھر پور اعتماد حاصل ہے لیکن خواجہ صاحب کے سیاسی کیرئیر کو اٹھا کر دیکھ لیں ہمیشہ ہی خواجہ آصف کی ٹائمنگ خراب رہی ہے۔ بات آپکو اس طرح نہیں سمجھ آئے گی اس کو مثالوں سے واضح کرنا پڑے گا۔
بارہ اکتوبر 1999 کو جب جنرل مشرف نے ایمرجنسی نما مارشل لا نافذ کیا توبہت سے لوگوں نے نواز شریف سے وفاداریاں بدل لیں ۔ یہی ہمارے ہاں کا رواج ہے۔ سب کو پتہ ہے مارشل لا آیا ہے تو اب دس، بارہ سال تو رہے گا۔ اس نے

کونسا جمہوری حکومتوں کی طرح سال، دو سال بعد رخصت ہو جانا ہے۔تو اس وقت وفاداریاں تبدیل کرنے والوں میں ریوڑیاں بٹنے لگیں۔ وزارتیں ، عہدے تقسیم ہونے لگے۔ وطن عزیز کے خزانے کا مال مفت کوڑیوں کے مول بکنے لگا۔یہ موقع تھا خواجہ صاحب کے ہیرو بننے کا۔ لیکن اس موقع پر خواجہ صاحب آنکھوں پر پٹی پہنے ، ہاتھوں میں ہتھکڑیاں لگوائے، اٹک کے قلعے میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر تے ہوئے، جمہوریت کا راگ الاپ رہے تھے۔یہاں بھی خواجہ صاحب کی ٹائمنگ خراب رہی اور وہ چوہدری شجاعت اور پرویز الہٰی کی طرح قوم کے ہیرو بننے سے بال بال بچ گئے۔یہ تو کچھ بھی نہیں جب 2002 کے انتخابات سے اسمبلیاں تشکیل پذیر ہوئیں اس میں خواجہ صاحب اپوزیشن میں بیٹھ گئے۔ نہ صرف اپوزیشن میں بیٹھے بلکہ جمہوریت کے حق میں اور ڈکٹیٹر کے خلاف ایک ایسی دھواں دار تقریر بھی کر دی جو آج بھی سوشل میڈیا کی زینت بنی ہوئی ہے۔حالانکہ اس وقت مارشل لا کی طبعی عمر پوری ہونیوالی تھی۔ این آر او سر پر کھڑا تھا۔ قرضے معاف ہونیوالے تھے۔ مقدمے صاف ہونے والے تھے۔ ماضی بے داغ ہونے والے تھے۔ کھوٹے ، کھرے ہونیوالے تھے۔لیکن خواجہ صاحب نے اس موقع پر بھی دور اندیشی سے کام نہیں لیا اور ٹائمنگ کی خرابی کی وجہ سے ایک بار پھرہیرو بننے سے رہ گئے۔
اس پر مستزاد ایک دن موجودہ اسمبلی میں خواجہ صاحب نے پی ٹی آئی کی خاتون رکن کو ایک تضحیک آمیزنام سے پکار دیا ۔ یہ غلطی بھی شدید تھی۔ یہ وہ وقت ہے جب خواتین کے حقوق کا نعرہ فیشن ہے، جب موم بتیوں والی آرگنائزیشن کا حصہ ہونا بڑا ضروری ہے۔ جب خواتین کے احترام پر تبصرہ لازمی ہے۔ ایسے میں خواجہ صاحب کے سیالکوٹی خون نے جوش مارا اور ہیرو بننے کا ایک اور موقع گنوا دیا اور زمانے بھر کی خواتین کو اپنا دشمن بنا لیا۔سارا مسئلہ ہی ٹائمنگ کا ہے۔اور تو اور دھرنے کے بعد مر ، مر کر پی ٹی آئی والے اسمبلیوں میں داخل ہوئے۔ سب نے اسکو جمہوریت کی کامیابی قرار دیا۔ مفرور اور منحرف اراکین کا استقبال ہوا۔مائیک خواجہ صاحب کے ہاتھ میں آگیا۔ بس پھر کیا تھا جوش خطابت، کوئی شرم ہوتی ہے، کوئی حیا ہوتی ہے، والے لازوال جملے تک پہنچ گیا۔ اس جملے کا سیاق و سباق اپنی جگہ لیکن آج کی سیاست میں یہ ضرب المثل بن گیا ہے۔یہاں بھی ہمارے ممدوح کی ٹائمنگ خراب رہی اور وہ جمہوریت کی بحالی پر ،اراکین کی واپسی پر کوئی گل افشانی کرنے سے قاصر رہے۔ بات ساری ٹائمنگ کی ہے۔
اب جو کچھ امریکہ میں خواجہ آصف کہہ رہے ہیں اس سے بھی انکے قومی سطح پر ہیرو بننے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں ۔ امریکہ کو یہ کہنا کہاں کی دانشمندی ہے کہ ہمارے ساتھ برابری کا برتائو کرو تو ہم بات سنیں گے۔ اس بات کا اعتراف کہاں کی دانشمندی ہے ہماری بھی غلطیاں ہیں لیکن غلطیاں امریکہ سے بھی ہوئی ہیں۔ اس بات کو کہنا کیا ضروری تھا کہ ہمیں اپنے گھر کو صاف کرنے کی بھی ضرورت ہے لیکن صفائی کی ضرورت امریکہ کو بھی ہے۔ بھلا یہ کہنے کی کیا ضرورت ہے کہ جن کو تم آج دہشت گرد کہتے ہو وہ کبھی تمہارے ہی محبوب تھے۔ وائٹ ہائوس میں اٹھتے بیٹھتے تھے۔ آپ ہی کے حکم پر تخلیق پائے تھے۔ آپ ہی کے ایما پر معرض وجود میں آئے تھے۔خود سوچیں امریکہ میں بیٹھ کر اس بات کو کہنے کی کیا تک ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابی آج تک صرف پاکستان نے حاصل کی ہے۔ یہ باتیںعلی الاعلان کہہ کر خواجہ آصف نے ہیرو بننے کا رہا سہا چانس بھی گنوا دیا۔ ہمارے ہاں کی ریت رواج اور خارجہ پالیسی تو یہ رہی ہے کہ ہر مسئلے کا الزام وطن میں بھارت اور امریکہ پر تھوپ دو اور جب باہر جائو تو ان سے معافی مانگ لو۔ انکے تابع ہو جائو۔ ملکی اور بین الاقوامی ناظرین کے فرق کو ختم کر کے خواجہ آصف نے ڈرامے کا سارا لطف ہی ختم کر دیا ہے۔پھر یہ بات بھی کہ ان حقائق کو بیان کرنے میں ہم سے کچھ دیر ہو گئی ہے۔ اب ہمارے گھر کا کوڑا کرکٹ سب کو نظر آتا ہے۔ اب اپنی کوتاہیوں پر پردہ پوشی کی ہماری بساط ہی نہیں رہی۔ اب ہماری دوغلی پالیسی سے داغ دار ماضی سب کے سامنے ہے۔ اب بہت دیر ہو گئی ہے۔ یہ بات کہنے اور بہادری دکھانے کا موقع گزر چکا ہے۔ ہاں البتہ یہ موقع جنرل مشرف کو میسر تھا۔ خواجہ آصف والی یہ گفتگو ان کو کرنی چاہیے تھے۔شجاعت اور بے خوفی کا مظاہرہ انکی جانب سے ہونا چاہیے تھے۔ نائن الیون کے بعد جب امریکہ بہادر کا ایک فون آیا۔ واشگاف الفاظ میں دھمکی دی گئی کہ تم ہمارے ساتھ ہو یا انکے ساتھ ہو۔ تو ہمارے سپہ سالار ایک ہی دھمکی پر ڈھیر ہو گئے تھے۔ نہ امریکہ سے برابری کی بنیاد پر بات کی خواہش کی، نہ امریکیوں کو انکی غلطیاں یاد دلائیں ، نہ اپنے بہادروں کے لاشے یاد آئے، نہ قومی غیرت و حمیت کا کوئی تقاضا ہوا نہ امریکہ کی اپنی دوغلی پالیسی کے بارے میں کچھ کہنے کی جرات ہوئی، نہ افغانستان کو فتح کرنے کے مشترکہ منصوبے کا کوئی ذکر ہوا، نہ روس کے خلاف جنگ میں فتح کا تمغہ سینے پر سجایا ،نہ اپنی سپاہ کی لازوال قربانیوں کا ذکر ہوا ۔ بس چپ چاپ جنرل صاحب نے ڈانٹ سنی اور پکڑ پکڑ کر اپنے بندے امریکہ بہادر کے حوالے کرنے شروع کر دیئے۔ اپنی سرزمیں پر تاک تاک کر ڈرون مارنے پر امریکی افواج کو اکسانے لگے۔اس ایک واقعہ کے ہمارے سماج، سوچ، معیشت ، ثقافت پر کیا اثرات ہوں گے اس کو سوچنے کا کسی کو کوئی ہوش نہیں رہا۔ ایک ڈکٹیٹر کے حکم پرسب ہی حق خدمت جتانے لگے ، امریکہ بہادر کو وفاداری دکھانے لگے۔کسی کی جنگ میں اپنی زمین کو جلانے لگے۔
اب جو خواجہ آصف ملکوں ملکوں پھر کر درست بیانیے کی بات کر رہے ہیںاس میں بہت تاخیر ہو گئی ہے۔ اب کھیل سب پر عیاں ہو چکا ہے۔ اب ایک ہاتھ سے تالی بجانے کا دور گزر گیا ہے۔ اب ایک طرف قومی غیرت کا نعرہ اور دوسری طرف گھٹنے ٹیک دینے سے معاملہ بہت آگے تک پہنچ گیا ہے۔اب ہماری غلطیاں چیخ چیخ کر ہمارے قول و فعل میں تضاد کی چغلیاں کھا رہی ہیں۔ سچ بولنا ہماری خارجہ پالیسی نہیں۔ اس موقع پر گھر کا سار کوڑا کرکٹ قالین کے نیچے چھپا دینا ہی روایت ہے۔۔ خواجہ آصف جو برابری کے تعلقات کی بات کر رہے ہیں ، جو امریکہ کو امریکہ میں انکی غلطیاں یاد کرا رہے ہیں ۔ اس کا موقع ہمارے سابق بہادر سپہ سالار گنوا چکے ہیں۔ اب چاہے جتنے مرضی سچ بول لیں ، جتنی مرضی بہادری دکھا دیں اب خواجہ آصف ہیرو نہیں بن سکتے۔ ڈکٹیٹروں کی عطا کردہ ہماری قومی غلطیاں نہیں چھپا سکتے۔ شروع میں ہی کہا تھا سارا مسئلہ ٹائمنگ کا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں