• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سرسید احمد خان کی زندگی و جدوجہد پر لکھی گئی کتاب کی رونمائی

پشاور( وقائع نگار ) گندھارا ہندکو اکیڈمی کے زیر اہتمام برصغیر کے عظیم محسن ِ قوم ،دانشوراورادیب سرسید احمد خان کی زندگی اور جدوجہد پر لکھی گئی کتاب کی تقریب رونمائی گزشتہ روز گندھارا ہندکو اکیڈمی کے ڈاکٹر ظہور احمد اعوان کانفرنس روم میں منعقد ہوئی ۔ کتاب کا عنوان’’برصغیر کا سر سید ۔۔فکرِ سر سید کی دو صدیاں‘‘ رکھا گیا ہے۔تقریب کے نقیبِ مجلس معروف ہندکو لکھاری، شاعر اور محقق محمد ضیاء الدین تھے جبکہ صدارت گندھارا ہندکو بورڈ کی مجلس عاملہ کے ممبر کرنل(ر) سکندر ضیاء نے کی۔تقریب میں شعراء، ادباء اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ولادتِ سرسید کی دو صدیوں کی تکمیل پر 150صفحات پر مشتمل اس کتاب کے مصنف گندھارا ہندکو بورڈ کے وائس چیئرمین و معروف کالم نگارڈاکٹر صلاح الدین ہیں۔ اس کتاب کومعروف محقق اور معتبر شخصیت حکیم محمد سعیدشہید جو کہ ہمدرد فائونڈیشن کے بانی تھے کے نام سے منسوب کیاگیا ہے ۔کتاب 19حصوں پر مشتمل ہے ہر حصے میں قارئین کیلئے سرسید کی اعلیٰ بصیرت اور ان کی قابل ذکر خدمات کو نمایاں انداز میں پیش کیاگیا ہے ۔اس کتاب میں سرسید احمد خان کی زندگی کے مختلف پہلوئوں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے کہ انہوں نے کس طرح1857ءکی جنگ آزادی سے مایوس برصغیر کے مسلمانوں کی زندگی میں ایک نئی روح پھونکی۔گندھارا ہندکو بورڈ کے چیئرمین اعجاز احمد قریشی نے کتاب کے حوالے سے کہا کہ سر سید احمد خان برصغیر کے مسلمانوں کیلئے روشنی اور رہنمائی کا عملی نمونہ تھے۔انہوں نے مسلمانوں کے مصائب کا حل تعلیمی ترقی میں مضمر جانا اور پھر اس کیلئے سر گرم عمل ہو گئے۔ انہوں نے سرسید احمد خان کی خدمات کو آسان الفاظ میں بیان کر کے منظر عام پر لانے پرڈاکٹر صلاح الدین کی کاوشوں کوبے حد سراہا۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر صلاح الدین نے کہا کہ سر سید نے تعلیم کے میدان میں مسلمانوں کی بے پناہ خدمت کی ہے ۔ سرسید احمد خان کی زندگی تین حیثیتوں سے ہمارے سامنے آتی ہے وہ مصنف بھی تھے قومی مصلح بھی اور قومی رہنما بھی تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ کتاب سرسید احمد خان کی خدمات کو اجاگر کرنے کی ایک کوشش ہے۔کتاب میں قارئین کی سہولت کیلئے ہر باب کے آخر میں حوالہ دیا گیاہے ۔
تازہ ترین