آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ہم جیسے کم علم جو یہ نہیں جانتے کہ سوشلزم اپنے گھر میں یوں کیوں بکھر کر رہ گیا، اس کی وجہ اقتصادی بوجھ تھا،توسیع پسندی، ترقی پذیر ممالک کی بے تحاشا اقتصادی امداد یا پھر سرمایہ دارانہ دنیا کی سازشیں ۔مگر اتنا تو جانتے ہیں کہ یہ وہ انقلاب تھاجس نے 70سال تک ایک جہاں کو متاثر کئے رکھااور جس کا تذکرہ آج بھی عام ہے۔اُس کے قائد نے مساوات اورمزدوروںکی حکمرانی کا نعرہ لگایا توحکومت ملنے پر یہ کرکے بھی دکھایا۔اگلے روز مورخ بے بدل ڈاکٹر مبارک علی کےایک کانفرنس میںمقالے کا مفہوم جو راقم سمجھ سکا ،یہ ہے کہ ’’انقلاب روس کی تنقیص یا تنقیح سے زیادہ اسکے مطالعے پر اگر توجہ دی جائے تو مسائل کےادراک و حل کی بے شمار جہتیں سامنے آسکتی ہیں۔سو، بیسویں صدی کے اس تاریخ ساز انقلاب کے مطالعے سے یہ در بھی وا ہوتا ہے کہ راہبر کی صورت اُس کے قول و فعل میں یکسانیت سے تابند ہ ہوتی ہے،کھوکھلے دعوئوںاور دلکش نعروں سے نہیں.... آئیے آج سے 100سال قبل 17اکتوبر 1917کو زار شاہی کو شکست دیکر سوویت یونین (روس )کے حکمران بننے والے ایسے ہی روشن چہرے ولادیمیر لینن کی طرز حکمرانی کی چند جھلکیاں دیکھتے ہیں جو Stories About V.I.Ieninکے توسط سے اُن مزدوروں کی زبانی ہم تک پہنچیں جنہوں نےلینن کو قریب سے دیکھا۔یہ مطالعہ شاید ہماری رہنمائی کرے کہ ایک’ ملحد‘

ایک صدی بعد بھی کیوں یاد آتا ہے ...ایک انقلابی مزدور بورسیوف کہتے ہیں ’’یکم مئی 1920کو روسی کمیونسٹ پارٹی نے پورے ملک میں کام کا دن منایا، ملک کا کوئی کونہ ایسا نہ تھا جہاں لوگوں نے اس روز کام نہ کیا ہو، میں فوجی تربیت لینے والوں کے ساتھ کوڑا کرکٹ اور تعمیراتی ملبہ ہٹانے کے کام میں لگ گیا، دیکھا ولادیمیر ایلیچ (لینن) بھاری بورے اٹھانے لگے، میں نے کوشش کی کہ وہ ہلکے اور میں بھاری اٹھائوں، ہم میں اس پر تکرار ہوئی، لینن نے کہا کہ آپ ہلکے اٹھائیں گے کیونکہ آپ 50اورمیں 28برس کا ہوں ! وقفے کے دوران انہیں سگریٹ پیش کی گئی تو جواب تھا، میں سگریٹ نہیں پیتا‘‘ایک کارخانے کے مزدور ایوانوف کی سنئے’’ 1921میں حجام خانے میں شیو کیلئے بیٹھا تھا، چھ آدمی اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے، اچانک ’’قائد انقلاب‘‘ شیو کیلئے آگئے، ہم کھڑے ہو گئے، ہم نے پوچھا کیسا مزاج ہے ولادیمیر ایلیچ، کیسا مزاج ہے رفیقو! انہوں نے جواب دیا اور اپنی جیب سے رسالہ نکال کر پڑھنے لگے، تھوڑی دیر میں کرسی خالی ہو گئی، ہم نے لینن سے کہا کہ وہ باری کے بغیر کرسی پر بیٹھ جائیں، جواب تھا نہیں، آپ کا شکریہ، ہمیں قطار اور قاعدے کا لحاظ رکھنا چاہئے، ہم خود ہی تو قاعدے بناتے ہیں ! لینن کے نجی ڈرائیور گیل ایک بہادر و حوصلہ مند رہنما کی کیا حیران کن تصویر کشی کرتے ہیں’’ 1918کا سال بہت ہی دشوار گزار تھا، دنیا میں عظیم ترین انقلاب کے پہلے سال ہی بھیانک قحط پڑا تھا، سامراجی جنگ ابھی ابھی ختم اور خانہ جنگی شروع ہوئی تھی، مزدور اور کسان مختلف محاذوں پر برسر پیکار تھے، لینن کارخانوں، چوکوں اور فوجی چھائونیوں میں روزانہ عام جلسوں میں سرگرم تھے، 20اگست 1918کو اناج کی منڈی میں جلسے کے بعد وہ فیکٹری میں مزدوروں کے مختلف سوالات کے جواب دے رہے تھے کہ ایک عورت نے ان پر دو فائر کئے، میں فوراً عورت کی جانب لپکا وہ تیسری گولی نہ چلا سکی ، لیکن اس خیال سے کہ لینن کو اسپتال پہنچانا ہے، میں رک گیا، چند سیکنڈ خاموشی کے بعد ہر طرف آوازیں گونج اٹھیں ’’مار ڈالا لینن کو مار ڈالا‘‘ سارا مجمع حملہ آور کے پیچھےدوڑ پڑا ،ہم نے لینن کو اسپتال پہنچانا چاہا، انہوں نے کہا ’’گھر، گھر‘‘ ہم نے انہیں گاڑی میں ڈالا، کریملن سے آدھے راستے پر وہ نشست سے لگ گئے تھے، لیکن وہ ایک بار بھی نہ تو کراہے اور نہ ہی انہوں نے کوئی آواز نکالی، گھر پہنچنے پر ہم ساتھیوں نے کہا ’’ہم آپ کو اٹھا کر اندر پہنچا دیں گے، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، ہماری التجا کے باوجود انہوں نے استقلال کے ساتھ کہا ’’میں خود چلا جائوں گا‘‘ کوٹ اتار لو، اس طرح میرے لئے چلنا آسان ہو گا اور پھر وہ سیڑھیاں چڑھنے لگے...! علاج کے بعد وہ مزدوروں کے پاس پہنچ گئے، مزدوروں کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی، ان کا سب سے پہلا سوال تھا ’’آپ کی صحت کیسی ہے ولادیمیر ایلیچ‘‘ شکریہ بالکل ٹھیک ہے، لینن مسکراتے ہوئے جواب دیتے‘‘۔ ایک اور واقعہ.... لینن دو آدمیوں کے ساتھ گھاس پر جا رہے تھے دور سے ایک کسان بیندیرین نامی چلاتا ہوا کہہ رہا تھا گھاس سے نکل جائو نکل جائو، بہت مہنگی ہے !! قریب آنے پر وہ شرمسار ہوا اور کہا کامریڈ لینن میں دور سے پہچان نہ سکا،!!اتفاق سے لینن کو اپنے آتش دان کی مرمت کیلئے ہنر مند کی ضرورت پڑی، مذکورہ کسان اس میں ماہر تھا، فوجی اس کے پاس آئے اور کہا کہ لینن کے ہاں جانا ہے۔اس نے بیوی سے کہا’’ اچھا کاتیا، اب ہم ایک دوسرے سے کبھی نہ مل سکیں گے، غالباً میرا پرانا اجڈ پن لینن کو یاد آگیا ہے ‘‘ میرے پہنچنے پر جب لینن ریاستی فارم سے باہر نکل آئے تو کہا بڑے میاں آپ وہی ہیں نا، جس نے گپھا میں گھاس کے میدان سے مجھے نکال باہر کیا تھا۔ بیندہرین نے کہا ’’خطا ہو گئی‘‘ لینن نے کہا آپ بجا طور پر مجھ پر ناراض ہو گئے تھے، میرا گھاس کو روندنا ٹھیک نہیں تھا ۔اب میری آپ سے بڑی درخواست ہے، دیکھو میں کس حالت میں رہتا ہوں، ساری دیواریں دھوئیں سے کالی ہو گئی ہیں، تم چمنی ٹھیک کر سکتے ہو نا ! جی ہاں بیندیرین نے جواب دیا۔ واپسی پر اس نے گھر میں داخل ہوتے ہی فرط جذبات سے بے قابو کہنا شروع کر دیا۔’’ سنتی ہو، کاتیا! میں نے کامریڈ لینن کا آتش دان ٹھیک کردیا، مجھے مناسب اجرت بھی دی اور چائے بھی پلائی‘‘..کامریڈ کے عدل کی ایک مثال سامنے رکھتے ہیں ، انقلاب مخالف 20 افرادکو جب ہنگامی کمیشن نے گرفتار کیاتو ان کی شکایت پر وہ قید خانے گئے ، خوراک پر معمور وزیر ژینسنگی نے کہا ہمارے پاس اپنے مزدوروں کیلئے راشن نہیں ہے ان انقلاب دشمنوں کیلئے راشن کہاں سے آئے گا، لینن کا جواب تھا ’’سمجھتا ہوں، ہم نے گرفتار کیا ہے ان کو کھلانا بھی ہماری ذمہ داری ہے، ذرا اناج کے بھنڈار کو کھنگال کر تو دیکھو شاید بیس راشنوں کی گنجائش ہو جائے‘‘ ؟ راقم مزید مثالیں پیش کر کے اپنے پاکستانی حکمران طبقات کی آج کی مہکتی ’شام‘ کو بدمزہ نہیں کرنا چاہتا، لہٰذا صرف ایک اور واقعہ آپ کے حُسنِ نظر کی نذر ہے۔ شہر (اکر خانگیلسک )کی’’ نا تو رووا‘‘ کہتی ہیں ’’ایک دن لینن ہمارے کارخانے آئے، کسی نے مجھ سے زور سے کہا ‘‘ نا تو رووا، ان کا اوور کوٹ رکھو! گرمی تھی اس لئے لینن نے تقریر سے قبل اپنا اوور کوٹ ایک کرسی پر لٹکا دیا تھا، میں نے دیکھا کہ اس کے بیچ کا بٹن غائب ہے، میں نے اپنی جیکٹ سے ایک بٹن توڑ کر اوور کوٹ میں خوب مضبوطی سے سی دیا تاکہ نکلنے نہ پائے، تقریر کے بعد وہ کارخانے سے چلے گئے لیکن بٹن کو نہیں دیکھا حالانکہ یہ بٹن ذرا دوسروں سے مختلف تھا، مجھے اس پر فخر تھا لیکن میں نے اپنا راز کسی سے بھی نہیں کہا، بہت زمانہ گزر گیا، ایک دن لیتینئی اسٹریٹ پر جاتے ہوئے میں نے لینن کا ایک بڑا سا فوٹو ’’فونیکس‘‘ نامی فوٹو کی دکان کی کھڑکی میں دیکھا تو میرا وہی بٹن اوور کوٹ میں لگا تھا..... اس جاڑے کے موسم میں جب لینن کا انتقال ہو گیا، تو میں اس دکان پر گئی اور یہ یادگار فوٹو حاصل کر لیا، اب وہ میرے گھر پر آئینے کے پاس فریم میں لگا ہے، روزانہ میں اس تصویر کو دیکھتی ہوں اور رو پڑتی ہوں، میرا بٹن اب بھی وہیں لگا ہے....

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں