آپ آف لائن ہیں
بدھ8؍ محرم الحرام1440ھ 19؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

 گزشتہ دنوں آئی ایس پی آر اور فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز نے ملکی معیشت اور سیکورٹی پر کراچی میں ایک سیمینار منعقد کیا۔ یہ پہلا موقع تھا جس میں پاکستان کی بزنس کمیونٹی اور اعلیٰ عسکری قیادت نے اس طرح کے سیمینار میں شرکت کی اور ملکی معیشت کو درپیش چیلنجز اور اُن کے حل کیلئے مشاورت کی۔ سیمینار میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور، کور کمانڈر کراچی لیفٹیننٹ جنرل شاہد بیگ مرزا، ڈی جی رینجرز میجر جنرل محمد سعید، ڈی جی فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن (FWO) لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل، جی او سی ملیر میجر جنرل زاہد محمود، ایڈمنسٹریٹر ڈی ایچ اے بریگیڈیئر شاہد حسن علی اور آئی ایس پی آر کے اعلیٰ حکام کے علاوہ فیڈریشن کے صدر زبیر طفیل، ایس ایم منیر، افتخار علی ملک، سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے دفاع کے چیئرمین سینیٹر مشاہد حسین، سابق گورنر اسٹیٹ بینک ڈاکٹر عشرت حسین، سابق وزیر خزانہ سلمان شاہ، ممتاز معیشت دان ڈاکٹر اشفاق حسین، ڈاکٹر فرخ سلیم اور عین الحسن نے بطور اسپیکر شرکت کی۔ مجھے اور میرے بھائی اشتیاق بیگ کو اس اہم میٹنگ میں خصوصی طور پر مدعو کیا گیا تھا۔ سیمینار میں پریس اور الیکٹرونک میڈیا کے مالکان اور معروف اینکرز بھی

شریک ہوئے لیکن کسی وفاقی اور صوبائی وزرا ء یا اعلیٰ حکومتی عہدیدار کو مدعو نہیں کیا گیا تھا۔
فوج کی اعلیٰ قیادت کی شرکت کی وجہ سے نہایت سخت سیکورٹی کے انتظامات کئے گئے تھے۔ پورے دن جاری رہنے والے سیمینار میں تمام اسپیکرز نے اپنی پریذنٹیشن میں حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ ملکی معیشت اور سیکورٹی لازم و ملزوم ہیں۔ مضبوط معیشت ملکی دفاع اور سیکورٹی کیلئے ضروری ہے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے اپنی تقریر میں قائداعظم کی اکتوبر 1947ء میں امریکی رسالے ’’لائف میگزین‘‘ کی صحافی مرگل کو دیئے گئے انٹرویو جس میں قائداعظم نے کہا تھا کہ پاکستان خطے کی جیو پولیٹیکس میں ایک کلیدی کردار ادا کرے گا، آج 70 سال بعد پاک چین اقتصادی راہداری کی شکل میں سچ ثابت ہورہا ہے جس سے خطے کے ممالک پاکستان کے راستے ایک تہائی لاگت اور وقت میں تجارت کرسکیں گے۔ سینیٹر مشاہد حسین نے بتایا کہ چین نے 1979میں اصلاحات کیں اور آج دنیا کی دوسری بڑی معیشت بن گیا ہے۔ اُن کے بقول نیشنل سیکورٹی صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ یہ مضبوط معیشت، موثر خارجہ پالیسی اور خواندگی سے حاصل ہوتی ہے اور اس طرح ملکی معیشت کا امن و امان اور سیکورٹی سے گہرا ربط ہے۔ علامہ اقبال نے 1932 میں کہا تھا کہ افغانستان میں امن اور فساد خطے میں امن اور فساد پیدا کرے گا جو آج سچ ثابت ہورہا ہے۔ ڈاکٹر عشرت حسین نے جنوری 1948 میں مارگریٹ وائٹ کے امریکی رسالے ’’لائف میگزین ‘‘کے آرٹیکل کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان مالی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے 6 مہینے میں ختم ہوجائے گا مگر آج70 سال بعد بھی پاکستان دنیا کا ایک اہم ملک ہے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن تھا لیکن 1979میں سوویت یونین کی سرد جنگ میں حصہ لینے سے پاکستان کی معاشی تنزلی شروع ہوئی۔ انہوں نے ملکی اداروں میں کرپشن اور گورننس پر تشویش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر اشفاق حسین نے سی پیک کے مواقع اور چیلنجوں پر لوگوں کے خدشات کی وضاحت کرتے ہوئے بتایا کہ چین کاون بیلٹ ون روڈ گلوبلائزیشن کیلئے 60ممالک میں نیٹ ورک اور بہتر روابط پیدا کرے گا۔ گوادر پورٹ کی 2020تک کارگو ہینڈلنگ 5 لاکھ ٹن سے بڑھ کر 300 سے 400 ملین ٹن تک پہنچ جائے گی۔ انہوںنے ملکی تجارتی خسارہ اور چین کے ساتھ لبرل آزاد تجارتی معاہدہ (FTA)پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ حکومت کی موجودہ ٹیکس پالیسی ملک میں صنعتکاری کے عمل میں بڑی رکاوٹ ہے۔ پاکستان میں 47 قسم کے مختلف ٹیکس وصول کئے جاتے ہیں اور ہمارے کارپوریٹ اور سیلز ٹیکس ریٹ خطے میں سب سے زیادہ ہیں۔ انہوں نے بجلی اور گیس کے مہنگے نرخوں کی وجہ سے پیداواری لاگت میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا۔ ڈاکٹر عین الحسن نے بتایا کہ عظیم لیڈرز جو قوم کی قسمت بدلتے ہیں، ذہین، دور اندیش، فیصلوں میں خود مختار اور ایماندار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر سلمان شاہ نے جنوبی ایشیا کو مستقبل میں دنیا کی گروتھ کا گلوبل سینٹر کہا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے سیمینار کے اغراض و مقاصد بیان کئے جبکہ ڈی جی WFO لیفٹیننٹ جنرل محمد افضل نے اپنے ادارے کی کارکردگی اور اپنے سی پیک منصوبوں پر پریذنٹیشن دی۔اس کے علاوہ چاروں صوبوں کے بزنس لیڈرز نے بزنس کمیونٹی کے مسائل پیش کئے۔ سوال جواب کے سیشن میں، میں نے شرکاکو بتایا کہ ملک قرضوں کے ناقابل برداشت بوجھ تلے دبا ہوا ہے، ورلڈ بینک کے مطابق حکومت کو کرنٹ اکائونٹ خسارہ اور قرضوں کی ادائیگی کیلئے 2017-18میں 17 ارب ڈالر کی ضرورت ہے، حکومتی قرضے، قرضوں کی حد کے قانون جی ڈی پی کے 60 فیصد سے تجاوز کرگئے ہیں، حکومت قومی اثاثے گروی رکھ کر ڈالر اور سکوک بانڈز کا اجرا کررہی ہے، پیداواری لاگت بڑھنے سے ملکی ایکسپورٹس کم ہوکر 20 ارب ڈالر اور امپورٹس بڑھ کر 52 ارب ڈالر تک پہنچ گئی ہیں جس سے 32 ارب ڈالر کا تجارتی خسارے کا سامنا ہے، اگر 600 ارب روپے کے گردشی قرضوں اور ایکسپورٹرز کے 200 ارب روپے کے ریفنڈز شامل کئے جائیں تو مالیاتی خسارہ جی ڈی پی کا 5.5 سے 6فیصد تک پہنچ جائے گا جو ہدف سے بہت زیادہ ہے۔ ٹیکسٹائل صنعت بحران کا شکار ہے جبکہ بینکوں کے ٹیکسٹائل سیکٹر کو 25 فیصد قرضے نادہندہ ہوگئے ہیں۔
ممتاز معیشت دان اور سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کے مطابق پاکستان کا آئی ایم ایف سے نئے قرضے لینا ناگزیر ہوچکا ہے۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر نیب کیسز کی وجہ سےاس بار پاکستانی وفد وزیر خزانہ کے بغیر ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس میں واشنگٹن گیا۔ آخر میں چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنی تقریر میں بتایا کہ میں روز اخبار میں پہلا صفحہ پڑھنے کے بعد بزنس اینڈ اکانومی صفحے کا مطالعہ کرتا ہوں کیونکہ معیشت کا تعلق زندگی کے ہر شعبے سے ہے، معیشت لوگوں کے معیار زندگی اور قوم کی دولت ہوتی ہے جس سے ادارے مستحکم ہوتے ہیں اور عوام کے اعتبار میں اضافہ ہوتا ہے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ملکی معیشت ملے جلے اشاریئے پیش کر رہی ہے، گروتھ بڑھی ہے لیکن قرضوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ انفراسٹرکچر اور توانائی میں نمایاں طور پر بہتری آئی ہے لیکن جاری کرنٹ اکائونٹ بیلنس ہمارے حق میں نہیں۔ جی ڈی پی میں ٹیکس کی شرح کم ہے جس کو بڑھانے کی ضرورت ہے ۔ہمیں ٹیکس کی بنیاد میں وسعت، مالیاتی ڈسپلن اور اقتصادی پالیسیوں میں تسلسل یقینی بنانا ہوگا۔
سیمینار کے اختتام پر میرے اور میرے بھائی کے علاوہ چند خصوصی افراد کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ چائے پر ملاقات کیلئے خصوصی پاسز جاری کئے گئے۔ میں نے آرمی چیف سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیمینار میں آپ کی شرکت سے پاکستان بھر کی بزنس کمیونٹی کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔ جنرل باجوہ نے بتایا کہ کئی یورپی ممالک بھی سی پیک میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے ملک میں امن و امان قائم کردیا ہے، اب یہ بزنس کمیونٹی کا کام ہے کہ وہ ملکی معیشت کو صحیح راہ پر گامزن کرے جس پر میں نے اُن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے یقین دلایا کہ بزنس کمیونٹی کو افواج پاکستان پر فخر ہے اور وہ آپ کو کبھی مایوس نہیں کرے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں