آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر 12؍جماد ی الثانی 1440ھ 18؍فروری 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

قوموں کی تاریخ میں کچھ منصوبے ایسے ہوتے ہیں جو ملک کی تقدیر بدل دیتے ہیں۔ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ بھی اِسی طرح کا ایک منصوبہ ہے جو تکمیل کے بعد پاکستان کی تقدیر بدل دے گا۔ شاید اِسی لئے یہ منصوبہ روز اول سے پاکستان کے دشمنوں کی آنکھوں میں کھٹک رہا ہے جن کی پوری کوشش ہے کہ کسی طرح یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچے۔ دشمن ملک بھارت سی پیک منصوبے کا سب سے بڑا مخالف ہے جو شروع دن سے ہی منصوبے کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کررہا ہے لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ اب امریکہ بھی بھارت کی زبان بولنے لگا ہے۔ گزشتہ دنوں امریکہ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’امریکہ سی پیک منصوبے کی مخالفت کرتا ہے کیونکہ یہ منصوبہ متنازع علاقے سے گزر رہا ہے۔‘‘امریکی وزیر دفاع جم میٹس نے بھی بھارتی موقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ ’’پاک چین اقتصادی راہداری متنازع علاقے سے گزر رہی ہے جو نئے تنازع کو جنم دے سکتی ہے۔‘‘ ان بیانات نے ہر پاکستانی کو حیرت زدہ اور تشویش میں مبتلا کردیا ہے اور یہ بات عیاں ہوگئی ہے کہ مخالفین کو سی پیک منصوبہ ایک آنکھ نہیں بھارہا اور اُنہیں پاکستان کی ترقی منظور نہیں تاہم پاکستان اور چین نے امریکی اور بھارتی بیانات یکسر مسترد کردیئے ہیں۔
سی پیک کے حوالے سے چینی حکومت کی جانب سے جو شخص اس منصوبے

میں کلیدی کردار ادا کررہا ہے، وہ پاکستان میں متعین چین کے سفیر سن ویڈونگ ہیں۔ وہ شروع دن سے ہی سی پیک منصوبے سے منسلک رہے ہیں اور اُنہیں سی پیک پر دسترس بھی حاصل ہے۔ مجھ سمیت ہر پاکستان ان کی شخصیت سے واقف ہے۔ میں اکثر اُنہیں ٹی وی چینلز پر وزیراعظم کے ساتھ توانائی کے مختلف منصوبوں کا افتتاح کرتے اور حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کرتے دیکھتا رہا ہوں۔ چینی سفیر سن ویڈونگ پاکستان میں اپنی 4 سالہ مدت پوری کرنے کے بعد اب چین واپس جارہے ہیں۔ جانے سے قبل انہوں نے صدر پاکستان، وزیراعظم اور آرمی چیف جیسی اہم شخصیات سے الوداعی ملاقاتیں کیں۔ اس موقع پر صدر مملکت ممنون حسین نے اُن کی خدمات کے صلے میں حکومت پاکستان کی جانب سے ملک کے بڑے اعزاز ’’ہلال پاکستان‘‘ سے نوازا۔
چینی سفیر سن ویڈونگ الوداعی ملاقاتوں کے سلسلے میں گزشتہ دنوں فیڈریشن ہائوس کراچی تشریف لائے جہاں انہوں نے فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے عہدیداروں سے ملاقات کی۔ اس طرح مجھے بھی چینی سفیر سے ملنے اور اُن کے ساتھ کچھ وقت گزارنے کا موقع ملا۔ چینی سفیر کے ہمراہ کراچی میں متعین چین کے قونصل جنرل مایوو اور سفارتخانے کے دوسرے عہدیداران بھی موجود تھے۔ دوران ملاقات چینی سفیر نے سی پیک منصوبے اور اس کے پاکستان کی معیشت پر مثبت اثرات کے بارے میں بتایا۔ ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں اور امریکہ اور بھارت کی مخالفت کے باوجود بہت جلد یہ منصوبہ تکمیل کے مراحل پورے کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ چین اپنے دوستوں کو کبھی نہیں بھولتا، پاکستان نے ہمیشہ چین کا ساتھ دیا ہے، ایسے وقت میں جب چین پر عالمی پابندیاں عائد تھیں، چین کا پاکستان کے ذریعے ہی بیرونی دنیا سے رابطہ قائم تھا۔ چینی اہلکار پی آئی اے سے پاکستان آتے اور پاکستان کے راستے ہی بیرون ملک سفر کرتے تھے۔ چینی سفیر کے بقول پاکستان نے چین اور امریکہ کے مابین تعلقات بحال کرانے میں بھی کلیدی کردار ادا کیا تھا۔
دوران ملاقات میں نے چینی سفیر سے کچھ سوالات کئے جو کافی عرصے سے میرے دماغ میں جنم لے رہے تھے۔ چینی سفیر سے میرا پہلا سوال یہ تھا کہ سی پیک منصوبہ کس کا تصور تھا کیونکہ پاکستان میں ہر حکومت اور ادارہ سی پیک منصوبے کا سہرا اپنے سر لینے کا دعویٰ کرتا ہے۔ چینی سفیر نے مسکراتے ہوئے کہا کہ 2013ء میں جب چین کے وزیراعظم کے کیانگ پاکستان کے دورے پر آئے تو انہوں نے اُس وقت کے صدر آصف زرداری کو سی پیک منصوبے کے فوائد و ثمرات سے آگاہ کیا، اسی طرح 2014ء میں وزیراعظم نواز شریف کے دورہ چین کے موقع پر چینی وزیراعظم کے کیانگ سے ملاقات کے بعد سی پیک منصوبے پر باقاعدہ پیشرفت ہوئی اور نومبر 2014ء میں سی پیک منصوبے کا باقاعدہ اعلان کیا گیا۔ اُن کے بقول 56 ارب ڈالر کے سی پیک منصوبے میں 34 ارب ڈالر انرجی پروجیکٹس اور 12 ارب ڈالر انفراسٹرکچر اور گوادر کی تعمیر و ترقی کیلئے مختص کئے گئے ہیں، موجودہ حکومت کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ نواز شریف کی ذاتی دلچسپی اور توجہ کے باعث یہ منصوبے تیزی سے تکمیل کی جانب گامزن ہیں۔ اس موقع پر میں نے چینی سفیر سے دریافت کیا کہ نواز شریف اب وزیراعظم نہیں رہے تو کیا اُن کے جانے سے منصوبے میں کوئی رکاوٹ تو پیش نہیں آئے گی؟ چینی سفیر نے کہا کہ سی پیک منصوبے پر صرف حکومت ہی نہیں بلکہ پاکستان کا ہر ادارہ مکمل طور پر متفق ہے اور حکومت کی تبدیلی سے سی پیک منصوبے کی تکمیل میں کوئی خلل واقع نہیں ہوگا۔ میں نے چینی سفیر سے سوال کیا کہ چین کی اتنی تیزی سے ترقی کا راز کیا ہے؟ چینی سفیر نے بتایا کہ چین کی ترقی کے دو راز ہیں، سیاسی استحکام اور محاذ آرائی سے اجتناب کی پالیسی۔ چینی سفیر نے چین کی ترقی کا راز بتاتے ہوئے کہا کہ آج جب امریکہ نے مختلف ممالک کے ساتھ نیٹو اور سیٹو جیسے ملٹری الائنس کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے، چین نے مختلف ممالک کے ساتھ تجارتی پارٹنر شپ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے جس سے چین اور پارٹنر ممالک مستفید ہوکر معاشی طور پر مضبوط ہورہے ہیں، اس کی مثال سی پیک منصوبہ ہے جو پاکستان اور چین کیلئے بے پناہ ثمرات رکھتا ہے جبکہ چین کے کچھ دیگر پارٹنر ممالک میں بھی منصوبے جاری ہیں۔ چینی سفیر نے چین کی ترقی کا ایک اہم راز بتاتے ہوئے کہا کہ چین کرپشن کے حوالے سے زیرو ٹالرنس کی پالیسی پر کاربند ہے، چین میں کرپٹ لوگوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جاتا ہے، چاہے وہ شخصیت کتنی اہم کیوں نہ ہو۔ واضح ہو کہ چین میں کرپشن کے خلاف شروع کی گئی مہم کے دوران گزشتہ 3 سالوں میں چین کی طاقتور جماعت کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ بائی این پی اور درجنوں سیاستدانوں و اعلیٰ حکومتی شخصیات سمیت لاکھوں افراد کو کرپشن ثابت ہونے پر سزائے موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔
سفارتکاروں سے ملاقات کرنا میرا روز کا معمول ہے مگر دھیمے لہجے میں گفتگو کرنے والے چینی سفیر سن ویڈونگ سے ملاقات کے دوران مجھے اُن کی سیاسی اور معاشی معاملات پر دسترس نے بے حد متاثر کیا۔ دوران ملاقات یہ سن کر خوشی ہوئی کہ کچھ دہائی قبل چینی سفیر کے والد محترم بھی کراچی میں قائم چینی قونصلیٹ میں متعین رہ چکے ہیں اور اس طرح چینی سفیر سن ویڈونگ کا بچپن کراچی میں ہی گزرا جو پاکستان سے اُن کی انسیت کا سبب بنا۔ سی پیک پر ایک خاص وقت میں امریکہ کی کھلی مخالفت معنی خیز ہے جس سے پاکستان اور امریکہ کے مابین محاذ آرائی کے امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا۔ بے یقینی کی صورتحال کے باعث آج پاکستان کی معیشت زوال پذیری کا شکار ہے اور لگتا ہے کہ ایسی صورتحال میں آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرضے کا حصول ناگزیر ہوگا لیکن چونکہ ان عالمی مالیاتی اداروں پر امریکہ کا کنٹرول ہے، خدشہ ہے کہ کہیں یہ مالیاتی ادارے پاکستان کے قرضے سی پیک منصوبے پر کڑی شرائط سے مشروط نہ کردیں، اگر ایسا ہوا تو امید ہے کہ چین، پاکستان کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ چینی سفیر سے ملاقات کے بعد میں نے جب مصافحہ کرکے اُنہیں رخصت کیا تو یہ سوچنے لگا کہ یقیناََ پاکستان بھی چین کی ترقی کے رازوں سے فائدہ اٹھاکر چین کی طرح معاشی طور پر مضبوط اور ترقی یافتہ ملک بن سکتا ہے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں