آپ آف لائن ہیں
بدھ15؍ محرم الحرام1440ھ 26؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

انیس سو پچاس کی دہائی کے شروع یا وسط میں ٹنڈو جام کے شہر کے میمن محلے سے تین بھائی اور آپس میں چچا زاد بھائی جو حیدرآباد شہر میں نقل مکانی کر آئے تھے ان میں سب سے پہلے محمد یعقوب تھے۔ محمد یعقوب، ایک پرائمری استاد لیکن ادبی ذوق رکھنے والے جنہوں نے کئی سال بعد ایرانی غزل کے عظیم شاعر حافظ شیرازی کو سندھی میں ترجمہ بھی کیا تھا۔
حیدرآباد جو سندھ کا دل اور تمام سندھ کی سیاسی، ادبی اور ثقافتی سرگرمیوں کا یک اعصابی مرکز کہلاتا تھا جو کہ اس سے چند سال قبل تقسیم کے بعد ہندوئوں کی ہندوستان نقل وطنی کے سبب سندھ کے غیر معمولی متوسط طبقے سے یکسر خا لی ہوچکا تھا۔ پس کسے خبر تھی کہ سندھ میں ہندو شہریوں کے غیر معمولی متوسط طبقے کی نقل مکانی سے پیدا ہونیوالے خلا کو جو سندھی مسلمان شہری خانوادے پر کریں گے ان خانوادوں میں سے ایک حیدرآباد شہر کی عالم میں مشہور نہر پھلیلی کے اس پار آباد ایک چھوٹی بستی ٹنڈو ٹھورو میں آکر بسنے والے محمد یعقوب کے بیٹے اور بیٹیاں بھی ہونگی۔ اسی خاندان کے ایک چشم و چراغ سراج الحق میمن تھے جو سندھی ادب و زبان کے بہت ہی اعلیٰ پائے کے ماہر لسانیات ادیب، صحافی، ناول نگار، اقتصادیات و محصولات کے قوانین کے معروف وکیل اور بیٹی معروف محققہ و ادیب ڈاکٹر فہمیدہ حسین ہونگی۔ نہ فقط یہ دونوں

بہن بھائی سراج الحق اور فہمیدہ میمن جو بعد میں فہمیدہ حسین کہلائی انکے علاوہ ٹنڈو جام کے میمن محلے کے محمد یعقوب اور اسکے بعدانکے باقی چچا زاد اور قریبی عزیزوں کے خانوادوں میں سے کئی نوجوان لڑکے اور لڑکیاں سندھ کی بیوروکریسی سے لیکر عدلیہ، اور طب میں نام پیدا کرنے کے علاوہ سند ھ میں چلنے والی ادبی تحاریک و سماجی شعور میں اپنا کردار ادا کیا۔ یہاںتک کہ انہی خانوادوں میں سے اک نوجوان سندھ میں ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں بچوں کی تنظیم اور بچوں کا مقبول لیڈر بن کر ابھرا تھا جسکا نام غفران عاقلانی تھا جو آجکل سول سروس بیوروکریٹ یا کہیں سفارتکار متعین ہے۔ لیکن میں جس غفران عاقلانی کی بات کر رہا ہوں وہ اپنے بچپن میں سندھ کے بچوں کا ایک طرح سے ذوالفقار علی بھٹو بن کر ابھرا تھا۔ پھر انیس سو تہتر کے سیلاب ہوں یا کوئی اور قدرتی آفات غفران عاقلانی بچوں کی ٹیموں کے ساتھ وہیں موجود ہوتا تھا۔ اسی لیے تو سندھ میں بچوں کی تنظیم ’’گلن جیہڑا بارڑا‘‘ (پھولوں جیسے بچے) یا ’’گجب‘‘ اگرچہ مکمل غیر سیاسی اور سماجی نوعیت کی تنظیم تھی لیکن جب ضیا الحق نے مارشل لا لگایا تو سندھ میں بچوں کی اس تنظیم پر بھی ایک طرح سے پابندی لگائی، اسکے دفاتر بھی سر بمہر کیے گئے۔
تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ حیدرآباد میں ٹنڈو جام کے دو چند یہ سندھی میمن خاندان سندھی مسلمانوں کے وہ خاندان تھے جنکا دیہاتی پس منظر نہیں بلکہ شہری تھا جو تقسیم کے چند سالوں بعد سندھ سے جانیوالے غیر معمولی متوسط طبقے کی جگہ لیکر خود کو منوانے کی دوڑ میں شامل ہوگئے۔ ان خانوادوں کی واحد املاک انکی تعلیم سے لگن تھی۔ اور مرد اور عورت کو یکساں مواقع کی فراہمی۔
محمد یعقوب کے دوسرے بیٹوں میں انعام الحق اور عبدالحق بھی شامل تھے۔ انعام الحق اور ڈرامہ نگار عبدالحق کاروبار کی طرف آئے۔ حیدرآباد شہر کے گاڑی کھاتے میں انعام میڈیکل اسٹور کئی برسوں سے انہی کا تھا۔ شرجیل میمن اسی انعام الحق بالمعروف انعام میمن کا بیٹا ہے۔
لیکن کس نے سوچا تھا سندھ کے حیدرآباد میں ٹنڈو ٹھوڑو کے یہ خانوادے صرف مرزا قلیچ بیگ اور سراج الحق کو ہی جنم نہیں دے سکتے بلکہ ان خاندانوں میں ذوالفقار مرزا اور شرجیل میمن بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے سندھی میں کہتے ہیں اچھوں کے پیچھے کلنک کے داغ۔ (چنگن پویاں ٹکا)
جب 2008میں پی پی پی زرداری حکومت برسر اقتدار آئی تو سندھ میں اس وقت کے وزیر داخلہ و ریونیو ذوالفقار مرزا اور وزیر جنگلات شرجیل میمن تھے اسی زمانے میں الزام لگا کہ سردار خان چانڈیو کے ذریعے سیاسی مخالفین کی زرعی زمینوں اور رئیل اسٹیٹ پر دھڑا دھڑمبینہ قبضے کروانا شروع کیے۔ یہ میمن خاندان کے لوگ جن کی سندھ میں ہر کس و ناکس سے نیاز مندی کا راستہ ہوا کرتا تھا اور سب لوگ انہیں اچھا کہتے ہیں انکے اس چشم و چراغ کا دبدبہ دیکھ کر سب کو حیرت سے زیادہ رنج ہوا۔
لیکن ان کو حیرت ہر گز نہ ہوئی جو اس شرجیل میمن کو جانتے ہیں جو کراچی میں رئیل اسٹیٹ کابزنس مین بن گیا تھا اور ماروی کے نام سے رئیل اسٹیٹ بزنس کرتا تھا۔ یہ سندھ کے کئی کرپٹ بیوروکریٹس کیلئے پراپرٹی کی خرید و فروخت کرتا تھا۔ سیاستدانوں کو تو سب کرپٹ کہتے ہیں لیکن سندھ میں بیوروکریٹس کا وہ گروپ جن میں آئی جی سطح تک کے لوگ ملوث تھے کو بے نامی کے طور پر رئیل اسٹیٹ میں سرمایہ کاری کرواکر ان کی رقومات دگنی کیا دس گنی ہو رہی تھیں یعنی ماروی جیسا عظیم نام بھی ان کیلئے منافع بخش بن گیا۔ سیکھاٹ کے وڈیروں اور اپنے محلے کے ایس ایس پی جو کہ بینظیر بھٹو کا گارڈ اور پی ایس ایف میں تھا(اور شرجیل بھی پی ایس ایف میں تھا) سے لے کر اب ذوالفقار مرزا اور مخدوم امین فہیم اور آصف علی زرداری تک سے جاکر تعلقات استوار کر لیے تھے۔ یہی وجہ ہے تھرپارکر کے ضمنی انتخابات میں اسے پی پی پی کا ٹکٹ دیا گیا اور اسی طرح اسے پہلے جنگلات اور پھر اطلاعات کا وزیر بنایا گیا۔
لیکن اس سے بھی بڑھ کر یہ اس زمین کا مالک کہلایا جو ٹنڈو جام اور ڈیتھا کے درمیان ایک وسیع رقبے پر مشتمل ہے جو اصل میں بینظیر کے دوسرے دور حکومت کے دنوں سے آصف علی زرداری کی ہی ملکیت تھی جسے شرجیل میمن نے خریدا اور اس پر اپنے بیٹے کے نام پر محل نما راول فارم ہائوس بنوایا۔ اب الٹ کہانیاں یہ چل پڑی ہیں کہ جب بلاول بھٹو زرداری راول فارم ہائوس آیا تو اس نے اپنے ابا سے فرمائش کی کہ یہ راول فارم اسے دلوایا جائے۔ انکار کرنے پر اب اسے پھنسایا گیا ہے۔
لیکن شرجیل میمن کے ایک دوست کا کہنا تھا کہ وہ سیاست اور پارٹی جس میں سندھ جیسے جاگیردارانہ اور نیم قبائلی سماج میں سید اور بلوچ قبائل ہی اپنی طاقت منواتے ہوں وہاں شرجیل جیسے آدمی کا طاقتور اورغیر معمولی ہونا طاقت وروں کیلئے ہضم نہ ہونیوالی بات ہے۔
ٹنڈوجام میں برسوں رہنے والے دوست سے میں نے پوچھا کہ وہ شرجیل میمن کو کتنا جانتا ہے؟ تو اس نے کہا ’’ میں شرجیل میمن کو بہت زیادہ تو نہیں جانتا لیکن اتنا جانتا ہوں کہ اسے بکائولوگوں کو خریدنے کا فن خوب آتا ہے۔ اسی طرح بعض مقامی صحافیوں کو بھی خرید لیا ہوا ہے کہ وہ اس کے ’’کارناموں‘‘ پر لکھا نہیں کرتے۔
میں سوچ رہا ہوں کہ یہ اطلاعاتی وزارتیں ایک غیر جمہوری ادوار کی ہی نشانیاں ہیں جن کے پاس سرکاری اشتہارات ایک ایسا ’’لیور ‘‘ہوتا ہے جن سے پاکستان میں حکومتیں میڈیا کو اور میڈیا ان کے ملنے اور نہ ملنے پر حکومتوں کو مسلسل بلیک میلنگ اور دبائو میں رکھتے ہیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں