آپ آف لائن ہیں
جمعہ 10؍محرم الحرام 1440ھ 21؍ستمبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان کے وزیر خارجہ خواجہ آصف نے واشنگٹن میں جو بیانات دئیے انہی کو ایک جوشیلے انداز میں پاکستان کی سینیٹ میں دہرا دیا۔ پس پردہ مذاکرات کی میز پر طرفین نے جو کہا ہوگا اس کا تو کسی کو علم نہیں لیکن جو کچھ سرعام کہا گیا ہے اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دونوں فریق اپنے اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوں کہ ’’تم روٹھے ہم چھوٹے‘‘۔ لیکن اگر تھوڑے غور سے واقعات اور بیانات کو دیکھا جائے تو ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان کی پوری کوشش ہے کہ وہ امریکی مطالبات کو پورا کرے۔ پاکستانی میڈیا میں یہ رپورٹ ہو چکا ہے کہ پاکستان نے کراچی میں طالبان سے کہا ہے کہ وہ پاکستان سے اپنے آپریشن بند کردیں۔ تاثر ہے کہ پاکستان کے فوجی سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کابل حکومت کو کچھ یقین دہانیاں کروا چکے ہونگے ۔ سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان امریکہ کو اس حد تک مطمئن کر سکے گا کہ جس سے اس کی رکی ہوئی امداد بحال ہو جائے؟
خواجہ آصف کی شعلہ بیانی کو دیکھیں تو ایسا لگتا ہے کہ پاکستان اپنے پرانے بیانیے سے ایک قدم پیچھے ہٹنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ پاکستان کا بیانیہ ہے کہ اس نے امریکہ کے ساتھ افغان جنگ میں اتحاد کرکے بہت نقصان اٹھایا ہے اور اسے امریکہ سے ٹکے کا فائدہ نہیں ہوا۔ پاکستان کا یہ بھی موقف ہے کہ

اس نے افغان یا کسی دوسری قسم کے جہادیوں کو پناہ گاہیں فراہم نہیں کیں اور اس کی زمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔ بظاہر خواجہ آصف کا بیانیہ پاکستان کی اندرونی سیاست کا پرتو ہے۔ مسلم لیگ (ن) جس مشکل مرحلے سے گزر رہی ہے اس میں وہ امریکہ مخالف مقبول بیانیہ کے علاوہ کوئی دوسری حکمت عملی اپنا نہیں سکتی۔ مسلم لیگ (ن) اسٹیبلشمنٹ سے صلح جوئی کے لئے بھی پرانے امریکہ مخالف بیانیے کو اپنائے ہوئے ہے۔ لہٰذا خواجہ آصف کا موقف کسی حد تک پاکستان کی اندرونی سیاست کے سیاق و سباق میں دیکھا جانا چاہئے اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کی حکمت عملی کو مختلف اشاریوں سے پرکھا جانا چاہئے۔
پاکستان نے امریکی دباؤ کم کرنے کے لئے امریکی نژاد خاتون، اس کے کینیڈین خاوند اور بچوں کو رہائی دلوائی۔ اس کے ردعمل میں صدر ٹرمپ نے بھی عندیہ دیا کہ پاکستان امریکی مطالبات کو سنجیدگی سے لے رہا ہے۔ لیکن سی آئی اے کے سربراہ نے یہ کہہ کر کہ رہا ہونے والے خاندان کو پچھلے پانچ سال سے پاکستان میں ہی قید رکھا گیا تھا اس امر کی تائید کردی کہ حقانی نیٹ ورک کو پاکستان میں مبینہ پناہ گاہیں فراہم کی گئی ہیں۔ رہا ہونے والی خاتون نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ وہ پچھلے ایک سال سے اسی علاقے میں تھے جہاں سے ان کو رہا کیا گیا۔ پاکستان کی طرف سے ان دعوئوں کی تردید نہیں کی گئی جس کا مطلب ہے کہ پاکستان نے امریکہ کے نقطہ نظر کو تسلیم کر لیا ہے اور اس سلسلے میںکوئی پیش رفت ہونے جا رہی ہے۔ ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں حقانی نیٹ ورک پر پاکستان کی طرف سے دباؤ بڑھایا جائے۔
خواجہ آصف کا بار بار دہرایا جانے والا بیانیہ کئی پہلوئوں سے درست ہے۔ پاکستان ترقی کی دوڑ میں چین اور ہندوستان سے اس لئے پیچھے رہ گیا ہے کہ اس نے جہادی پروجیکٹوں میں اپنے آپ کو الجھائے رکھا ہے۔ اگرچہ خواجہ آصف اور اسٹیبلشمنٹ اس کی تماتر ذمہ داری ا مریکیوں پر ڈالتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ضیاء الحق کی اسلامائزیشن کی پالیسی کا اس میں بڑا ہاتھ تھا۔ امریکہ کے ساتھ افغان جہاد میں شامل ہونے سے پہلے بھی ضیاء الحق ایسی مذہبی پالیسیاں بنا رہے تھے جن کے نتیجے میں مذہبی منافرت، فرقہ واریت اور دہشتگردی کا ابھار لازم تھا۔ مسلح تنظیمیں فرقہ واریت کی آگ کو بھڑکا کر قتل عام کر رہی تھیں۔ پاکستان کے کشمیری گروپوں کے ساتھ تعلقات بھی جہادی بیانیہ کو تقویت دے رہے تھے۔ غرضیکہ ہماری امریکہ کے افغان جہاد میں شمولیت کے علاوہ بھی بعض ایسی پالیسیاں تھیں جن سے دہشت گردی کا کلچر پھیلا۔ اگرچہ روسی فوجوں کے انخلاکے بعد امریکہ کے افغانستان سے لا تعلقی کے فیصلے کا کوئی جواز نہیں ہے لیکن ہمیں امریکہ کو مطعون کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی داخلہ پالیسیوں پر بھی غور کرنا چاہئے۔
دوسری طرف امریکہ کو بھی اپنی پاکدامنی چھوڑ کر پاکستان میں جہادی کلچر کے پھیلاؤ میں اپنی ذمہ داری قبول کرنا چاہئے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ افغان جنگ کے زمانے کے امریکی سفارت کار اور دانشور اب منظر سے ہٹ چکے ہیں۔ اب امریکی سفارت کاروں اور پالیسی سازوں کی نئی نسل آچکی ہے۔ اس نسل کو افغان جنگ میں پاکستان کے کردار سے کوئی خاص آگاہی نہیں ہے چنانچہ پاکستان کے بیانیے کو سننے والے واشنگٹن سے ناپید ہو چکے ہیں۔ امریکی سفارت کاروں کی نئی نسل کے لئے پاکستان افغان طالبان کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے والا ملک ہے۔ سفارت کاروں کی یہ نئی نسل ہندوستان کے بیانیے کی ساتھ گہری ہمدردی رکھتی ہے اور خطے میں ہندوستان کی پالیسیوں کی حمایت کرتی ہے۔ یہ نسل اس لئے بھی ہندوستان کے ساتھ قربت محسوس کرتی ہے کہ وہ روس کی بجائے چین کو اپنا بڑا مد مقابل سمجھتی ہے جس کے لئے ہندوستان کے ساتھ اسٹرٹیجک شراکت داری لازمی سمجھی جا رہی ہے۔
واشنگٹن میں پاکستانی نقطہ نظر کو سمجھنے والے نایاب ہیں اور ہندوستان کی حکمت عملی کو درست سمجھنے والوں کی بہتات ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ جماعت الدعوۃ اور جیش محمد کو ویسے ہی خطرناک سمجھتا ہے جیسے حقانی نیٹ ورک۔ اگرہم اپنے موجودہ بیانیے پر ڈٹے رہے تو مذکورہ تنظیموں کے خلاف عملی اقدام لینا بہت مشکل ہے۔ اس صورت میں امریکہ نہ صرف پاکستان کی امداد بحال نہیں کرے گا بلکہ اس پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کردے گا۔ اگر پاکستان امریکہ کو نظرانداز بھی کردے تو پھر بھی مسئلہ حل نہیں ہوتا کیونکہ چین نے بھی مذکورہ تنظیموں کے خاتمے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اس لئے غالب امکان ہے کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ آنے والے دنوں میں ان تنظیموں کے خلاف کوئی حکمت عملی تیار کرے گی۔ ابھی یہ دیکھنا باقی ہے کہ کیا پاکستان کی نئی پالیسی امریکہ کو مطمئن کر سکے گی یا نہیں۔اگر پاکستان چین اور روس کو مطمئن کرنے میں کامیاب ہو گیا تو وہ امریکی پابندیوں کا بہتر مقابلہ کر سکتا ہے وگرنہ آنے والے دنوں میں پاکستان کی مشکلات میں بہت اضافہ ہوجائے گا۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں