آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
جمعرات6؍ ربیع الاوّل 1440ھ 15؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پچھلے کالم میں‘ میں نے بات یہاں ختم کی کہ جی ایچ کیو میں جنرلوں سے ملاقات کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو نے جو 1988 ء کے انتخابات میں ملک بھر میں قومی اسمبلی کی سب سے زیادہ سیٹیں حاصل کرنے والی پارٹی کی قائد کی حیثیت سے آگے آئی تھیں اور ان کی طرف سے حکومت بنانے کے لئے ان کو پیش کی گئی شرائط پر اسلام آباد میں اپنی پارٹی کے سینئر رہنمائوں سے اجلاس میں اس فیصلے کے بعد کہ محترمہ یہ شرائط تسلیم کرسکتی ہیں بشرط یہ کہ ان کی شرط بھی منظور کی جائے کہ جنرل ضیاکے دور میں ملک بھر سے اور خاص طور پر پنجاب سے گرفتار پی پی رہنمائوں و کارکنوں کو بھی بلاشرط رہا کیا جائے‘ بعد کی اطلاعات کے مطابق محترمہ کی یہ شرط منظور کرلی گئی تھی اور ملک بھر میں گرفتار پی پی کارکنوں جن کو فوجی عدالتوں سے لمبی مدت کے لئے سزائیں دی گئی تھیں کو رہا کرد یا گیا پھر محترمہ بے نظیر بھٹو نے وزیر اعظم کا حلف اٹھا کر حکومت بنالی یہ بھی اطلاعات ملیں کہ خاص طور پر پنجاب سے لمبی مدت کے لئے جیلوں میں رہنے والے اور شاہی قلعے کے ٹارچر سیل میں بند پی پی رہنمائوں اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد نے رہائی کے بعد ملک میں رہنے کی بجائے دوسرے ملکوں میں سیاسی پناہ لینے کی کوششیں کیں جن کو بعض ملکوں میں سیاسی پناہ ملی‘ وہ ان ملکوں میں منتقل ہوگئے‘ اس مرحلے پر میں ایک

اور اہم بات جس کا تعلق بھی اس ایشو سے ہے کو پاکستان کے شہریوں کے علم میں لانا چاہتا ہوں۔ ہوا یہ کہ کوئی آٹھ دس سال پہلے میرا جرمنی جانا ہوا جہاں میں ایشیائی ملکوں کے صحافیوں کے گروپ کے سربراہ کی حیثیت سے جرمن حکومت کا تقریباً ایک ماہ مہمان رہا اس کے بعد فرانس کے شہر پیرس جانا ہوا جہاں میں ایک ایسے صاحب کا مہمان بنا جن کا تعلق پنجاب سے تھا ،وہ پی پی کے ایک سینئر کارکن تھے اور انہوں نے کئی بار پی پی کی طرف سے کئے گئے مظاہروں میں شرکت کی تھی اور خاص طور پر ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کی سزا سنانے کے بعد پنجاب میں جو مظاہرے ہوئے ان میں بھی انہوں نے حصہ لیا تھا جس کی وجہ سے انہیں بھی گرفتار کرنے کے بعد فوجی عدالت کی طرف سے بامشقت لمبی سزا سنائی گئی‘ لہٰذا جیل سے رہائی کے بعد انہوں نے بھی فرانس میں سیاسی پناہ لی اور اس وقت پیرس میں رہائش پذیر تھے‘ یہ دوست دوسرے دن مجھے پیرس شہر گھمانے کے لئے لے گیا‘ شہر کے مختلف حصے دکھاتے ہوئے ایک مرحلے پر وہ مجھے ایک دکان میں لے آئے جہاں اخبارات فروخت ہورہے تھے‘ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں صرف پاکستانی اخبارات فروخت ہورہے تھے‘ اس وقت جو لوگ اخبارات خریدنے کے لئے وہاں جمع ہوگئے تھے ان کی اکثریت بھی پاکستان کے صوبہ پنجاب سے تھی اور ان میں اکثریت پی پی کے ان کارکنوں کی تھی جنہوں نے پی پی کے احتجاج میں حصہ لیا تھا اور بعد میں گرفتار ہوکر جیلوں میں بند ہوگئے تھے مگر محترمہ بے نظیر بھٹو کے اس فیصلے کے نتیجے میں رہا ہونے کے بعد انہوں نے بھی فرانس میں سیاسی پناہ لی اور اب یہاں وقت گزار رہے تھے‘ میرے میزبان نے اس دکان مالک سے میری ملاقات کرائی‘ وہ پی پی کے ایک سینئر رہنما تھے، فرانس میں سیاسی پناہ حاصل کرنے کے بعد اب پیرس میں اخبار فروخت کرنے کی یہ دکان چلا رہے تھے جب دکان کے مالک نے مجھ سے ہاتھ ملایا تو محسوس ہوا کہ وہ مجھے پہچانتے تھے‘ انہوں نے میری خبریں اور رائٹ اپ پڑھے ہوئے تھے‘ انہوں نے مجھ سے ان خبروں اور رائٹ اپس کا خاص طور پر ذکر کیا اور انتہائی خوش اسلوبی سے مجھ سے بات چیت کی دوسرے دن میرے میزبان نے مجھے بتایا کہ اس دکاندار کے مالک نے آپ کو اور مجھے آج رات اپنے گھر پر مدعو کیا ہے دوسرے دن رات کو میں اپنے میزبان کے ساتھ اس دوست کے گھر گیا‘ بات چیت کے دوران ایک مرحلے پر دونوں جذباتی ہوکرمجھے یہ قصہ سنانے لگے کہ جب محترمہ بے نظیر بھٹو کے وزیر اعظم بننے کے بعد ہم رہا ہوئے اور چونکہ ہم نے فیصلہ کیا ہوا تھا کہ جب تک پاکستان میں آمریت ہے یہاں نہیں رہنا لہٰذا ہماری کوششوں کے نتیجے میں جب ہمیں فرانس میں سیاسی پناہ ملی اور ہم نے پیرس جانے کا فیصلہ کرلیا تو ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ کوشش کرتے ہیں کہ ملک چھوڑنے سے پہلے محترمہ بے نظیر بھٹو سے ملاقات کریں لہٰذا محترمہ سے ہماری ملاقات کا وقت مقرر ہوا‘ انہوں نے کہا کہ جب ہم محترمہ سے ملاقات کے لئے ان کے آفس میں داخل ہوئے تو وہ اپنی کرسی پر بیٹھنے کی بجائے صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں جب ہم ان کے نزدیک گئے تو انہوں نے اشارہ کیا کہ سامنے صوفے پر بیٹھ جائیں مگر ہم صوفے پر بیٹھنے کی بجائے محترمہ کے نزدیک گئے اور ان کے قریب قالین پر بیٹھ کر ہم دونوں نے اپنے ہاتھ محترمہ کے پائوں پر رکھ دیئے یہ دیکھ کر محترمہ پریشان ہوگئیں اور کہنے لگیں یہ آپ کیا کررہے ہیں‘ اب ہم دونوں ان کے سامنے ہاتھ جوڑ کر ان سے عرض کرنے لگے کہ محترمہ خدارا یہ ملک چھوڑ دیں آپ کی زندگی خطرے میں ہے‘ یہ سن کر محترمہ مزید پریشان ہوگئیں اور کہنے لگیں یہ آپ کیا بات کررہے ہیں‘ اس پر ہم نے ان سے التجا کے انداز میں کہا کہ محترمہ ہم دونوں ایک خاص عرصے کے لئے شاہی قلعے کے ٹارچر سیل میں رہے ہیں جہاں ہم پر ٹارچر کیا جاتا تھا‘ دونوں نے مشترکہ طور پر بات کرتے ہوئے بتایا کہ جب ٹارچر سیل میں وقفہ ہوتا تھا تو ٹارچر کرنے والے ’’صاحبان‘‘ آپس میں جو بات کرتے تھے اس کا اکثر نتیجہ یہ ہوتا تھا کہ اب ان کا ٹارگٹ آپ ہیں اور کہتے تھے کہ وقت آنے پر ان کا بھی صفایا کردیا جائے گا لہٰذا ہم آپ سے استدعا کرتے ہیں کہ یہ وزارت عظمیٰ بھی چھوڑ دیں اور ملک چھوڑ کر باہر چلی جائیں‘ بھٹو صاحب کو پہلے ہی ہم سے چھینا جاچکا ہے اور اب آپ کی زندگی خطرے میں ہے‘ ہم کسی طور پر بھی آپ کو کھونا نہیں چاہتے‘ جب ملک سے آمریت ختم ہوگی تو آپ ملک واپس آکر بھرپور سیاست کریں مگر ان دونوں نے بتایا کہ محترمہ نے ان کی بات نہیں مانی اور کہنے لگیں کہ بھٹو صاحب نے مجھے مشن دیا ہے‘ کیا میں اسے ترک کردوں؟ انہوں نے کہا کہ مجھے عوام کے دکھ درد دور کرنے ہیں ‘ بہرحال انہوں نے بتایا کہ ایک مرحلے پر محترمہ نے تسلیم کیا کہ ان کی زندگی خطرے میں ہے میری اطلاعات بھی یہی ہیں مگر کیا میں اپنی زندگی کو لاحق خطرات کی وجہ سے بھٹو صاحب کا مشن ترک کردوں اور عوام کے دکھ درد دور کرنے کی کوشش نہ کروں؟۔ پیرس کے اس گھر میں جب ان دونوں نے اپنی بات مکمل کی تو دونوں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ (جاری ہے)

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں