آپ آف لائن ہیں
جمعرات6؍شوال المکرم 1439ھ21؍جون 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آئندہ عام انتخابات کے پرامن اور باوقار ماحول میں انعقاد کے لیے ملک میں ایک سیاسی ضابطہ اخلاق کی تشکیل اور نفاذ کی ضرورت اور اہمیت بہت واضح ہے۔ سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشیوں کی جو دھواں دھار مہم جوئیاں مدت سے جاری ہیں، پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر بھی بد تہذیبی کے مظاہر کچھ کم نہیں جبکہ سوشل میڈیا نے تو فی الحقیقت طوفان بدتمیزی برپا کررکھا ہے،قابل احترام ریاستی ادارے بھی جس بے احتیاطی کے ساتھ ہدف تنقید بنائے جا رہے ہیں، اس فضا میں سیاسی جماعتوں کی جانب سے انتخابی مہم کا چلایا جانا یقیناًملک کے طول و عرض میں شدید کشیدگی اور انتشار کا باعث بنے گا۔الیکشن کمیشن کے جاری کردہ قواعد و ضوابط حالات کو قابو میں رکھنے کے حوالے سے ایک حد تک کردار ضرور ادا کرسکتے ہیں لیکن اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ سیاسی جماعتیں اور ان کے قائدین خود طے کریں کہ انہیں انتخابی مہم کو اخلاقی حدود اور تہذیب و شائستگی کے دائرے میں رکھنا ہے اور اس مقصد کے لیے باہمی مشاورت سے اپنے طور پر ایک ضابطہ اخلاق تشکیل دیں اور پھر سب دیانت داری کے ساتھ اس کی پابندی کریں۔اس ضمن میں گزشتہ روز ملک کی حکمراں جماعت مسلم لیگ (ن ) کی جانب سے بظاہر ایک اچھا آغاز کرتے ہوئے اتفاق رائے سے طے کیا گیا ہے کہ انتخابی مہم

x
Advertisement

میں ریاستی اداروں کے ساتھ مزاحمت کی روش نہیں اپنائی جائے گی جبکہ اب تک حکمراں جماعت اس معاملے میں اختلاف کا شکار دکھائی دے رہی تھی اور پاناما کیس کے فیصلے کے نتیجے میں متعدد عدالتی مقدمات سے دوچار پارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف اور ان کے ہم خیال اداروں سے جنگ کے موڈ میں نہ صرف نظر آرہے تھے بلکہ یہ محاذ آرائی عملاً جاری بھی تھی۔مسلم لیگ (ن ) کی اعلیٰ قیادت نے یہ فیصلہ اتوار کو لاہور میں قومی اسمبلی کے اسپیکر ایاز صادق کی جانب سے دیے گئے ایک غیر رسمی عشائیے کے موقع پر کیا۔ یہ اجلاس در حقیقت پارٹی قیادت کے حالیہ دنوں میں ہونے والے متعدد اجلاسوں کے سلسلے کی ایک کڑی تھا جو خاص طور پر آئندہ عام انتخابات کے تناظر میں پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی کو حتمی شکل دینے کے لیے طلب کیے جاتے رہے۔ اجلاس کے بعد سابق وزیر اطلاعات پرویز رشید نے میڈیا کو بتایا کہ ’’پارٹی نے اصولی طور پر طے کیا ہے کہ کسی بھی ریاستی ادارے کے ساتھ مزاحمانہ طرز عمل اختیار نہیں کیا جائے گا اور ہماری توجہ کا اصل محور 2018ء کے انتخابات کی تیاری ہوگی۔‘‘ بیشتر سنجیدہ سیاسی تجزیہ کار مسلم لیگ (ن) کو پہلے ہی یہ مشورہ دیتے چلے آرہے ہیں کہ اس کی قیادت کے خلاف عدالتوں میں جو مقدمات زیر سماعت ہیں ان سے اداروں کے خلاف محاذ آرائی کے ذریعے گلوخلاصی کی کوشش قیادت اور پارٹی دونوں کے لیے مزید مسائل اور مشکلات کا سبب بنے گی لہٰذا عدالتوں میں دفاع قانونی طریق کار کے مطابق ہی کیا جانا چاہیے اور انتخابی مہم وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومتوں کی کارکردگی کی بنیاد پر چلائی جانی چاہیے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دوسری بڑی سیاسی جماعتیں بھی جن میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف نمایاں ہیں اور جنہیں دوصوبوں میں تعمیر و ترقی کے عمل کو فروغ دینے اور عوام کو زندگی کی آسانیاں فراہم کرنے کے لیے پانچ سال کی مدت گزشتہ انتخابات میں رائے دہندگان کے فیصلے کے تحت حاصل ہوئی تھی، وہ بھی اپنی انتخابی مہم اپنی کارکردگی اور قابل عمل منصوبوں پر مشتمل انتخابی منشور کی بنیاد پر چلائیں جبکہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایک دوسرے پر تنقید بھی حقائق کے مطابق اور اخلاقی حدود کے اندر کی جائے ،اس مقصد کے لیے انتخابی اخراجات اور فنڈز کے حوالے سے قواعد سمیت سیاسی جماعتیں اپنا ضابطہ اخلاق خود وضع کریں اور سب اس کی پابندی کریں۔پرامن اور صحت مند ماحول میں الیکشن کے انعقاد اور انتخابی عمل کو انتشار و افتراق کے بجائے عوام کی تربیت اور قومی تعمیر کا ذریعہ بنانے کے لیے یہ اقدام لازمی ہے اور وفاقی حکومت کو اس سلسلے میں سیاسی قیادتوں سے جلد رابطے کرنے چاہئیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں