آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ16؍ ذیقعد 1440 ھ 20؍جولائی 2019ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان تحریک انصاف کے رکن پنجاب اسمبلی ڈاکٹرمرادراس نے ایک تحریک التوا پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مرغی کا گوشت فروخت کرنے والے دکانداروں کو لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ خواب بن گیا ہے جگہ جگہ مرغی کے گوشت کے اسٹال لگ گئے انتظامیہ کی نااہلی کے باعث جگہ جگہ بیمار اور لاغر چکن فروخت ہو رہا ہے اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ملک بھر میں چکن کی قیمتوں میں قدرے استحکام ہے جس سےاس کی کھپت بہت بڑھ گئی ہے جس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بہت سے موقع پرست افراد نے نہ صرف اس کاروبار کا رخ کیا ہے بلکہ بعض مقامات پر بیمار اور لاغر مرغی فروخت کرنے کی بھی اطلاعات ہیں اسی طرح گذشتہ دنوں اسلام آباد کے بعض بڑے ہوٹلوں میں مردہ مرغی استعمال کرنے کی بھی رپورٹ سامنے آئی جس میں یہ بھی بتایا گیا کہ ان ہوٹلوں کے بااثر مالکان کارروائی سے بچ جاتے ہیں بیمار یا مردہ مرغی فروخت کرنے کا یہ کاروبار انتہائی گھنائونا ہے اس پر کارروائی ہونی چاہئے بڑے شہروں میں طالب علموں کے لئے بہت جگہوں پر پرائیویٹ ہوسٹلوں، جی ٹی روڈ سمیت ملک بھر میں بڑی شاہراہوں پر قائم اکثر ہوٹلوں پر نہ صرف مردہ اور بیمار مرغی کا گوشت پکایا جاتا ہے اسی طرح بیمار اور مردہ جانوروں کا مٹن اور بیف بھی استعمال ہو رہا ہے یہ لوگ روپے کے لالچ میں آ کر عوام کی

صحت سے کھیل رہے ہیں ملک میں اس قسم کے گھنائونے کام کے خلاف قانون تو موجود ہے لیکن اثر و رسوخ کی بنا پر ملزم قانون کی گرفت سے بچ جاتے ہیں یا اگر پکڑے بھی جائیں تو راشی پولیس اہلکار انہیں رشوت لیکر چھوڑ دیتے ہیں دور دراز علاقوں میں ویسے بھی چھاپہ مار ٹیمیں بہت کم جاتی ہیں ملک کے طول و عرض میں ٹھوس بنیادوں پر بیمار اور مردہ جانوروں کی فروخت کے خلاف مہم چلائی جانی چاہئے ۔ ضروری ہے کہ عوام کی صحت سے کھیلنے والوں سے کسی قسم کی رعایت نہ برتی جائے، راشی اہلکاروں کے گرد گھیرا تنگ کیا جائے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں