آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
منگل11؍ربیع الاوّل 1440ھ20؍نومبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں نئی حلقہ بندیوں کے حساس معاملے کو اتفاق رائے سے حل کرنے کے بعد بروقت انتخابات کی راہ میں حائل رکاوٹ بھی دور ہوگئی ہے۔ یہ ایک خوش آئند امر ہے کہ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ نے بھی وسیع ترقومی مفاد کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے آئندہ عام انتخابات مقررہ وقت پر کرانے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ بعض سیاسی جماعتوں میں اختلافات کی وجہ سے یہ لگ رہاتھا کہ کہیں 2018کے انتخابات سیاسی محاذ آرائی کی نذرنہ ہوجائیں۔اس اجلاس میں پیپلزپارٹی کا یہ مطالبہ بھی تسلیم کرلیا گیاہے کہ کراچی میں مردم شماری کے ایک فیصدبلاکس تیسرے فریق سے بھی چیک کروائے جائیں گے۔تاہم الیکشن کمیشن نے بھی مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں واضح طورپر بتایا کہ1998کی مردم شماری کے مطابق الیکشن کرانا مشکل ہوگا لہٰذاحکومت حلقہ بندیوں کےلئے فوری طورپر قومی اسمبلی سے ترمیم منظورکرائے۔نئی حلقہ بندیوں پر ڈیڈ لاک اسی وجہ سے پیداہواتھا کہ حکومت نے مردم شماری سے پہلے سیاسی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیاتھا۔اگر سندھ سمیت تمام صوبوں کی تجاویز پر عملدرآمد کیاجاتا توآج یہ مسائل پیدانہ ہوتے۔دیر آید درست آید کے مصداق اگرمسلم لیگ(ن)کی حکومت کو اپنی غلطی کابالآخر احساس ہوہی گیا

ہے تو یہ ایک اچھی بات ہے۔اب بلاتاخیر نئی حلقہ بندیوں کی ترمیم پارلیمنٹ سے منظور کروالینا چاہئے تاکہ آئندہ الیکشن کا انعقاد بروقت ممکن ہوسکے۔
وطن عزیز اس وقت مشکل ترین سیاسی دور سے گزر رہا ہے۔ سابق وزیراعظم نوازشریف نااہل ہوچکے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے وارنٹ گرفتاری جاری ہوچکے ہیں۔ شریف فیملی کے خلاف اب حدیبیہ ریفرنس کے حوالے سے نیب کی اپیل پر سپریم کورٹ میں کیس لگ چکا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈاراور پنجاب حکومت کے کچھ اہم افراد کا مستقبل بھی خطرے میں دکھائی دے رہا ہے۔ دوسری طرف سپریم کورٹ نے عمران خان اور جہانگیر ترین کے خلاف آف شور کمپنیوں کا کیس مکمل کرلیا ہے۔ اب اُس کا فیصلہ آنا باقی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ مسلم لیگ(ن) کی قیادت کی طرح عمران خان اور جہانگیر ترین کو بھی سزا ملتی ہے یا نہیں؟ اس کا اندازہ عدالت عظمیٰ کے فیصلہ کے بعد ہوگا کہ پاکستانی سیاست آئندہ کیا رخ اختیار کرے گی؟ ان حالات میں متحدہ مجلس عمل کی بحالی کو ملک کے سنجیدہ قومی و سیاسی حلقوں میں اچھی نظروں سے دیکھا جارہا ہے۔ ماضی میں متحدہ مجلس عمل2002کے الیکشن سے قبل وجود میں آئی تھی۔ 2002کے الیکشن سے قبل چند لبرل دانشور حضرات متحدہ مجلس عمل کے قیام کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے بلکہ ان کاخیال تھا کہ پاکستان میں دینی جماعتوں کا اتحاد کبھی کامیاب نہیں ہوسکے گا مگر2002کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں کامیابیوں نے سب کوحیران کردیا بلکہ پنجاب اور کراچی میں بھی مجلس عمل کچھ نشستیں جیتنے میں کامیاب ہوگئی تھی۔2008کے الیکشن میں جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے بائیکاٹ کی وجہ سے ملکی منظرنامہ تبدیل ہوگیا اور2013میں مجلس عمل کا اتحاد فعال نہ ہونے کی وجہ سے دینی جماعتوںکونقصان پہنچا۔اب ایک بار پھر2018کے الیکشن سے قبل دینی جماعتوں کے اتحادکی بحالی سے پورے ملک کے دینی وسیاسی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔مجلس عمل کی بحالی کا تمام ترکریڈٹ جماعت اسلامی کے امیر سینیٹر سراج الحق اور مولانا فضل الرحمان کو جاتا ہے۔متحدہ مجلس عمل میں ملک کی چھ بڑی دینی جماعتیں شامل ہیں2002میں بھی اس اتحاد کے پاکستانی معاشرے پر اچھے اثرات مرتب ہوئے تھے۔ چونکہ اس وقت پاکستان چاروں طرف سے اندرونی وبیرونی خطرات میں گھراہوا ہے، ان حالات میں دینی جماعتوں کے اتحاد کابننا ایک نیک شگون ہے۔واقفان حال کاکہنا ہے کہ موجودہ ملکی منظر نامے میں مجلس عمل کے قیام سے خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں سیاسی صورتحال تبدیل ہوجائے گی بلکہ پنجاب اور سندھ بالخصوص کراچی میں بھی دینی اتحادکو سیٹ ٹوسیٹ ایڈجسٹمنٹ کے نتیجہ میں کامیابی حاصل ہوسکتی ہے۔لگتایہ ہے کہ دینی جماعتوں کا اتحاد بننے سے خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ سیاسی نقصان تحریک انصاف اور اے این پی کو ہوگا۔مجلس عمل میں شامل 2بڑی جماعتیں جماعت اسلامی اور جمعیت علمائے اسلام(ف)کے اکٹھے ہونے سے خیبرپختونخوا میں2002والی پوزیشن واپس آجائے گی۔یہ بھی کہاجارہاہے کہ مسلم لیگ(ن)،پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے محدود ہونے سے آئندہ انتخابات 2018 میں بڑی جماعتوں کو منقسم مینڈیٹ ملے گا ۔جو بھی آئندہ حکومت بنے گی وہ زیادہ مضبوط اور طاقتور نہیں ہوگی۔ بہرحال2018کے الیکشن کا جوبھی منظرنامہ ہوگاوہ ملکی سلامتی اور قومی مفاد کے لئے بہتر ہوگا۔ پاکستان نے سی پیک کی تکمیل کو ایک چیلنج کے طورپر لیا ہے۔ افغانستان میں امریکہ اور بھارت بیٹھ کر پاکستان کے گرد گھیراتنگ کررہے ہیں۔سی پیک کے خلاف سازشیں ہورہی ہیں۔پاک چین اقتصادی راہداری کامنصوبہ خطے کی ترقی وخوشحالی کاضامن ہے مگر ہندوستان اس کوکسی بھی صورت کامیاب ہوتے دیکھنا نہیں چاہتا۔اب تو خیر جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات نے بھی واضح طورپر کہہ دیا ہے کہ اکنامک کاریڈور کے خلاف مختلف سطحوں پر بھارتی سازشیں جارہی ہیں اور ہندوستانی خفیہ ایجنسی’’را‘‘نے اکنامک کاریڈور کو ناکام بنانے کے لئے 55ارب ڈالر کی رقم رکھی ہے۔ان کامزیدکہنا تھاکہ بھارتی جارحیت اور اُس کے منفی عزائم سے خطے میں ایٹمی جنگ کا خطرہ بھی ہے۔سی پیک میں پاکستان اور چین کے ساتھ روس،ایران اور ترکی بھی خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔اومان اور یورپ کے کئی ممالک بھی اس منصوبے میں شامل ہونا چاہتے ہیں۔اسی لئے پاکستان کی عسکری قیادت اکنامک کاریڈور کو جلد بنانا چاہتی ہے۔اس کے برعکس امریکہ اور بھارت اس صورتحال سے سخت خائف ہیں۔وہ پاکستان میں سیاسی عدم استحکام پیداکرکے اقتصادی راہداری کوناکام بنانا چاہتے ہیں۔ہماری سیاسی وعسکری قیادت کو پاکستان کی سا لمیت اور آئین وجمہوریت کے تحفظ کے لئے سرجوڑ کر بیٹھنا چاہئے۔خدانخواستہ کہیں ہمارابیرونی دشمن ہمیں کسی بڑے نقصان سے دوچار نہ کردے۔پاکستان میں اس وقت پارلیمانی نظام حکومت رائج ہے۔بلاشبہ اس نظام میں کئی خرابیاں ہیں جن کی اصلاح ہوسکتی ہے۔انتخابی اصلاحات کانیابل بھی منظور ہوچکا ہے۔ اب حکومت اور اپوزیشن کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ انتخابی نظام کے نقائص دورکرنے میں اپناکردار ادا کرے۔ اگر2018کے الیکشن میں بھی انتخابی اصلاحات پر عمل نہ کیاگیا تو منصفانہ اور غیر جانبدار الیکشن ممکن نہیں ہوسکتے۔یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان میں انتخابات روپے پیسے کاکھیل بن چکا ہے۔انتخابات کاعمل غریب اور متوسط طبقے سے دور ہوگیا ہے۔موجودہ سسٹم کے تحت صرف سرمایہ دار اور جاگیردار ہی انتخابی میدان میں آسکتاہے۔جب تک عوام کو انتخابی عمل میں پوری طرح شریک نہیں کیاجائے گا تب تک حقیقی جمہوریت کی طرف ہم نہیں بڑھ سکیں گے۔موجودہ پارلیمانی سسٹم کی جگہ اگر پاکستان کی سیاسی جماعتیں متناسب نمائندگی کا نظام رائج کرلیں تو کئی سیاسی خرابیوں سے چھٹکارا حاصل ہوجائے گا۔اس وقت ترکی،یورپ اور دنیا کے کئی ملکوں میں متناسب نمائندگی کانظام کامیابی سے چل رہا ہے۔ پاکستان کے مسائل کا حل ملکی سیاسی استحکام میں ہے۔ متناسب نمائندگی کے نظام سے ملک سیاسی حوالے سے مستحکم ہوگا اور ریاستی ادارے بھی مزید مضبوط ہوں گے۔ اگرچہ متناسب نمائندگی کا نظام ہمارے ہاں فوری رائج نہیں ہوسکے گا البتہ سیاسی جماعتوں کو اس سلسلے میں پیش رفت کرنی چاہئے۔جب عوام سیاسی جماعتوں کو ان کے نظریئے اور انتخابی منشور کو پیش نظر رکھ کرووٹ دیں گے تو ملک میں بہتر قیادت میسر آسکے گی۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں