آپ آف لائن ہیں
منگل7؍ محرم الحرام 1440 ھ18؍ستمبر 2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

امریکہ میں پاکستانی سفیر اعزاز احمد چوہدری نے گزشتہ ہفتے واشنگٹن میں جارج ٹائون یونیورسٹی میں ’’جنوبی ایشیا میں سیکورٹی اور استحکام‘‘ کے موضوع پر خطاب کرتے ہوئے پاکستانی موقف کچھ یوں بیان کیا۔ (1) جنوبی ایشیا میں سیکورٹی کا کوئی (مربوط) نظام نہیں ہے۔ (2) بدلتی ہوئی عالمی سیاسی صورت حال کے باعث عالمی طاقتوں کی آپس کی رقابتوں کا جنوبی ایشیا کے استحکام اور سیکورٹی پر برا اثر پڑ رہا ہے۔ (3) پاکستان۔ بھارت کشیدگی موجود اور ڈائیلاگ رکا ہوا ہے۔ (4) کشمیر پر پاکستان کا موقف بدستور وہی ہے جو 70؍سال سے چلا آرہا ہے۔ (5) سی پیک نہ صرف پاکستان کے لئے بلکہ جنوبی ایشیا میں خوشحالی کا باعث ہوگا۔ پاکستان نے دہشت گردی کے خاتمہ کے لئے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔سفیر اعزاز احمد چوہدری کا خطاب موثر مدلل اور حقائق پر مبنی تھا اور موضوع کے تمام تقاضے پورے کررہا تھا لیکن ملک کی داخلی صورت حال اور آنے والے دنوں میں پاک۔ امریکہ تعلقات کو درپیش ممکنہ چیلنجز کے بارے میں خاموش تھا کہ امریکی وزیر دفاع جنرل (ر) میٹس کا دورہ پاکستان کیا سمت اور چیلنجز لئے ہوئے ہے۔ اب آئیے اگلے چند دنوں میں آنے والے چند حقائق کا جائزہ بھی لے لیں۔
میری رائے میں موجودہ حکومت نہ صرف عدم استحکام کا شکارہے بلکہ ایک کمزور ترین حکومت ہے جسے عمران خان

کی سیاست، عدالتی سماعتوں کے ساتھ ساتھ لااینڈ آرڈر اور اپنی رٹ قائم کرنے میں بعض گروہوں کے ایجی ٹیشن سمیت مشکلات کا سامنا ہے تو دوسری طرف دسمبر کے پہلے ہفتے میں عالمی طاقت اور 70؍سال سے پاکستان کے اتحادی امریکہ کے وزیر دفاع جنرل (ر) جیمز میٹس بڑے دو ٹوک ایجنڈے کے ساتھ پاکستان آرہے ہیں۔ وہ جنوبی ایشیا کے لئے اگست میں یک طرفہ اعلان کردہ نئی امریکی حکمت عملی کے بارے میں پاکستان سے دوٹوک انداز میں معلوم کرنے آرہے ہیں کہ پاکستان کو بھارت۔ امریکہ الائنس اور جیو پولٹیکل اسٹرٹیجی پر مبنی وہ فارمولا منظور ہے یا نہیں جس میں بھارت کو جنوبی ایشیا میں قائدانہ رول حاصل ہوگا۔ امریکی جنرل (ر) امریکی سینیٹ کے سامنے واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ وہ پاکستان سے ایک بار پھر معلوم کرنے کے لئے جارہے ہیں کہ اس بارے میں اس کا کیا فیصلہ ہے؟۔ یعنی وہ پاکستان آخری بار اس کی چوائس معلوم کرنے آرہے ہیں اور اگر اس میں ناکامی ہوئی تو پھر صدر ٹرمپ جو مناسب سمجھیں گے وہ اقدام کریں گے۔ مختصر یہ کہ امریکی وزیر دفاع دوطرفہ ڈائیلاگ کے لئے کم اور یک طرفہ طور پر ’’ہاں یا ’’نہ‘‘ معلوم کرنے کے لئے رسم پوری کرنے آرہے ہیں۔ انہوں نے امریکی ریاست کلوراڈو میں امریکی افواج کی چھائونیوں اور تنصیبات کے معائنے کے لئے جاتے وقت افغانستان کے بارے میں جو گفتگو کی ہے وہ بھی کئی اشارے لئے ہوئے ہے۔ جنوبی ایشیا کے لئے بھارت۔ امریکہ اتحاد پر عمل کے لئے امریکہ سے زیادہ جلدی بھارت کو ہے لہٰذا پاکستان پر اس وقت امریکہ اور بھارت دونوں طرف سے شدید دبائو کا سامنا ہے۔ پاکستان کے لئے اتحادی امریکہ سے 70؍سالہ گہرے تعلقات کے فریم سے نکلنے کا ٹرانزیشن اتنا آسان بھی نہیں۔ کیا موجودہ کمزور پاکستانی حکومت اس تمام دبائو کا سامنا کرنے کو تیارہے؟
یہ الگ بات ہے کہ افغانستان اور عراق میں جنگ چھیڑنے کی غلطی کی طرح امریکہ کو ایشیا میں بھارت کو اپنا پراکسی یا اتحادی بنانے اور پاکستان کے ساتھ مخالفانہ سلوک پر پچھتانا پڑے لیکن فی الحال بھارت امریکہ کی موجودہ مہربان پالیسی کا بھرپور اور فوری فائدہ اٹھاکر جنوبی ایشیا اور سینٹرل ایشیا میں اپنی برتری اور دسترس چاہتا ہے اور پاکستان سے تاریخی انتقام بھی لینا چاہتا ہے۔ لہٰذا امریکی وزیر دفاع دسمبر میں اپنے دورہ پاکستان میں وہی بولی بول کر اسلام آباد میں اپنے مطالبات دہرائیں گے جن پر بھارت اور امریکہ میں اتفاق رائے ہے۔ دہشت گردوں کی پاکستان میں ’’محفوظ پناہ گاہیں‘‘ ختم کرنے کا مطالبہ ’’ڈو مور‘‘ اور بھارت سے تعاون (بالادستی) کے مطالبات ہوں گے۔ ادھر بھارت نے 1970ء کی طرح غیرممالک میں پاکستان کے خلاف مخالفانہ مہم شروع کردی ہے۔ لندن کی بسوں پر پاکستان مخالف پوسٹر تو ایک عوامی مہم ہے بھارت کی سفارتی مہم اس سے زیادہ تیز ہے۔ مشرف دور میں بلوچستان میں بھارتی مداخلت پر خاموشی بلکہ سیکریسی کا پردہ ڈالا گیا اور گزشتہ سال بھی امریکی محکمہ خارجہ اور اقوام متحدہ کو پاکستان میں بھارتی مداخلت کے ثبوتوں پر مبنی ایسے ’’ڈوزئیے‘‘حوالے کئے گئے جن کا دنیا اور پاکستانیوں کو تو علم نہ ہوسکا لیکن بھارتی سفارت کاروں کو ان کا مکمل اور فوری علم ہوگیا کہ وہ دستاویزات کیا ہیں۔ ہم ان دستاویزات کی شکل آج تک ’’خفیہ‘‘ ہونے کے ناطے نہیں دیکھ سکے۔ بہرحال امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس دسمبر کے آغاز میں اپنے ہی بیان کے مطابق سخت گیر موقف کے ساتھ پاکستان آرہے ہیں۔ جنرل میٹس اپنے فوجی کیرئیر کے دوران پاکستان، افغانستان کے علاقوں، جنگی حکمت عملی اور اس دور کے جنرلوں سے بخوبی واقفیت رکھتے ہیں گویا زمین، جغرافیہ، انٹیلی جنس اور دیگر امور کا علم اور تجربہ ہے۔ ایٹمی پاکستان پر بھی وہ امریکی نظر رکھتے ہیں۔ پاکستانی فیصلہ سازوں کو اس مرکزی حقیقت پر توجہ مرکوز رکھنے کی لازمی ضرورت ہے اس حوالے سے ایک تازہ واقعہ سنئے۔ امریکی ائیر فورس کے جنرل جان ہیٹسن امریکی اسٹرٹیجک کمانڈ (اسٹرائٹ کام) (STRATCOM) یعنی نیو کلیئر کمانڈ کے سربراہ ہیں انہوں نے کینیڈا کے شہر ہیلی فیکس میں 18؍نومبر کو ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے واضح الفاظ میں کہا کہ اگر صدر ٹرمپ نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے لئے کوئی حکم دیا جو میری نظر میں ’’غیرقانونی‘‘ ہوا تو وہ اس کی تعمیل میں مزاحمت کرے گا اور کوئی دوسرا حل بھی تلاش کرنے کی کوشش کروں گا۔ امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والے امریکی جنرل کے اس بیان پر صدر ٹرمپ کیسا ردعمل ظاہر کرتے ہیں ابھی واضح نہیں ہے لیکن عراق سمیت جن ملکوں میں امریکہ سے تصادم کی صورت میں جن فوجیوں نے اپنی کمان کے احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے امریکہ کے خلاف ہتھیار اٹھانے سے انکارکیا ہے انہیں انسانیت دوست اور امن کے خیرخواہ ہونے کے اعتراف کے ساتھ خوب نوازا گیا ہے۔ ایک عراقی جنرل کا ایسا ہی راز گزشتہ دنوں جے ایف کینیڈی ائیرپورٹ پر غیرمتوقع طورپر کھل گیا۔ امریکہ کے ایٹمی ہتھیاروں کی نگرانی کے ذمہ دار اور ان کے بارے میں صدر ٹرمپ کو مشورہ دینے کی منصبی ذمہ داری ادا کرنے والے جنرل جان ہٹیسن نے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں صدر کے حکم کے باوجود ایٹمی کمانڈ پر عمل نہ کرنے کی تفصیلی وجوہات بھی بیان کی ہیں۔ مسلح تصادم کے ضوابط کا حوالہ بھی دیا اور حکم نہ ماننے پر منصب سے فراغت کے علاوہ ساری عمر کے لئے جیل میں سزا بھگتنا بھی اس پر واضح ہے لیکن وہ پھر بھی اصرار کررہے ہیں کہ اگر صدر ٹرمپ نے ایسا کوئی حکم دیا تو وہ اس کی مزاحمت کریں گے اگر ان کو محسوس ہوا کہ یہ حکم ’’غیرقانونی‘‘ ہے تو وہ ماننے سے انکار بھی کردیں گے۔ امریکہ کی فوجی تاریخ میں کسی کمانڈر کی جانب سے کمانڈر انچیف کی اس طرح اعلانیہ حکم عدولی کی مثال تو نظر نہیں آتی البتہ متعدد فوجی کورٹ مارشل اور دیگر عدالتی فیصلے کمانڈر انچیف کے ’’غیرمعقول‘‘ احکامات کو نہ ماننے کی اجازت دیتے ہیں۔ ویت نام کے خلاف امریکی جنگ کے دوران امریکی فوجی ولیم کیلی کے ’’مائی لا‘‘ کے قتل عام کے بارے میں جب یہ سوال اٹھا کہ وہ تو صرف احکامات کی تعمیل کررہا تھا تو ملٹری اپیل کورٹ نے فوجی کی سزا برقرار رکھتے ہوئے اس موقف کو مسترد کردیا اور کہا کہ مذکورہ فوجی کو غیرمسلح ویت نامی شہریوں کو قتل کرنے کے حکم کا جواز اور غیرقانونی ہونے کا شعور ہونا چاہئے،حکم غیرقانونی تھا تعمیل کرنا جرم تھا لہٰذا کمانڈر انچیف کے حکم کی تعمیل سے انکار امریکی فوج میں تو قابل قبول نظر نہیں آتا لیکن مخالف افواج میں حکم عدولی کے رجحانات کو انسانی ہمدردی اور اصولوں کے جواز کے ساتھ فروغ دینے کی کوششیں ضرور جاری رکھی جاتی ہیں۔ مولانا عبدالکلام آزاد کا مضمون ’’جنگ کا اثر اخلاق پر‘‘ اس بارے میں بہت کچھ سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ فی الحال تو دسمبر کے پہلے ہفتہ میں امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس جن سخت گیر اعلانات اور پاکستان کے لئے مذاکرات نہیں بلکہ صرف ’’ہاں‘‘ یا ’’نہ‘‘ کی ایک چوائس لے کر اسلام آباد آرہے ہیں۔ پاکستان کی کمزور سویلین حکومت کو فوجی قیادت کے مشورے اور تعاون سے امریکہ کو جواب دینے کی ضرورت ہے۔ اس پاکستانی جواب کے اثرات و نتائج تاریخی نوعیت کے ہوں گے اور جواب کا متن تیارکرنے والے اس کے لئے پاکستان کی نئی نسل اور مستقبل کے مورخ کے سامنے بھی جوابدہ ہوں گے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں