آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
پیر10؍ربیع الاوّل 1440ھ 19؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

شاعر نے کیا خوب کہا تھاکہ مرض بڑھتا گیا جوںجوں دوا کی،اس وقت یہ میاں نواز شریف اور مسلم لیگ(ن) کے ساتھ ہو رہا ہے۔ میاں صاحب کی بدقسمتی یہ ہے کہ وہ آج تک یہ نہیں سمجھ سکے کہ انہیں 3 مرتبہ کیوں نکالا گیا تھا۔ پھر چوتھی مرتبہ بھی ان کے ساتھ وہی معاملہ ہوامگر اب کے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نکالاگیا۔پھر بھی انہوں نے نہ اس سے سبق سیکھا نہ اپنے اردگرد رہنے والے خوشامدیوںاور غلط مشورہ دینے والوں کا محاسبہ کرنے کاسوچا،بلکہ الٹا مسائل اور بڑھا دئیے گئے،کتنے محاذوں پر لڑ رہے ہیں۔ عقل حیران ہے پہلے عدلیہ سے بھڑے پھر فوج کے خلاف بھڑاس خود بھی نکالی اور وزراسے بھی اسمبلی میں دھواں دھار تقریریں کر وا کر ڈیسک اور تالیاں بجوائیں۔عمران خان سے تو روز اول سے بیزار تھے ۔دھرنے سے جان چھوٹی اگر پشاور کے بچوں کا سانحہ نہ ہوتا،اور قسمت نے یاوری کی کہ جاتے جاتے رہ گئے ۔محاذ آرائی سے بچتے ہی یکایک اپنے وزرا اور خوشامدی ٹولے کو پہلے بلاول بھٹو زرداری سے بھڑوادیا اور پھر رہی سہی کسرخود سابق صدر آصف علی زرداری کو للکارکر پوری کردی ۔ جس سے ان کی سیاسی ساکھ بھی متاثر ہوگئی اکثر یت کے بل بوتے پر تو نااہلی کا داغ نہ مٹاسکے مگر پارٹی کی صدارت کا قانون پاس کرواکر عدلیہ سے ماضی کی طرح دو دو ہاتھ کرنے کی پھر ٹھان لی اور یہ بھول گئے ابھی نیب

اور حدیبیہ ملز کے معاملے عدلیہ کے دائرہ کارمیں ہیں ۔جو خطرناک حدوں کو چھورہے ہیں روز موصوف عدلیہ پر وار کرکے خود کومظلوم ثابت کرنے پر تلے تھے ۔اپنی صاحبزادی مریم صفدر کو بھی عدلیہ کے خلاف لگادیا۔وقفہ وقفہ سے آنے والے حضرت طاہر القادری سے بھی محاذآرائی ختم نہیں کی تھی کہ ختم نبوت کےمعاملے پر عجلت میں قومی اسمبلی سے قانون پاس کرواکر اپنے لئے مشکلات کا پہاڑ کھڑا کرلیا ۔جب حزب مخالف اور عوام کا دبائو پڑا تووزیر قانون زاہد حامد کا دفاع کرتے ہوئے قانون میں ترمیم کروادی جب کسی کو بھی سزا نہیں ملی تو تحر یک لبیک یا رسول اللہ والے جو روز اول سے شہید ممتاز قادری کو تختہ دار پر چڑھانے کی وجہ سے غصہ سے بھر ے بیٹھے تھے اُٹھ کھڑے ہوئے اور عمران خان کے دھرنے سے بھی زیادہ موثر دھرنا اسلام آباد اور راولپنڈی کی ناکہ بندی کرکے دیا۔ حتٰی کہ عدلیہ کی مداخلت کے بعد انتظامیہ نے گزشتہ روز آپریشن شروع کردیا ہے۔حکومت کو خوف تھا کہ سانحہ ماڈل ٹائون والا واقعہ دوبارہ رونما نہ ہوجائے مگر ہٹ دھرمی کی انتہا دیکھئے پورا ملک اس دانستہ غلطی پر سراپا احتجاج ہے مگر زاہد حامد کو ہٹانے کے بجائے یہی مشیر مشورہ دے رہے ہیں میاں صاحب ڈٹے رہو ، مٹھی بھر افراد کے کہنے پر کسی کو نکالا تو کل کلاں پھردھرنے ہی کے ذریعے لوگ نکلواتے رہیں گے اور حکومت ان دھرنوں کی یرغمال بنی رہے گی ۔میاں صاحب کی پوری کابینہ میں سب سے ٹھنڈے اور معاملے کی نزاکت کو سمجھنے والے سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے مشوروں کو پس پشت ڈال کر حکومت حزب اختلاف کو بھی ناراض کرچکی ہے ۔ اس خوشامدی ٹولے کی وجہ سے آج حکومت میاں صاحب کے ہٹنے کے بعد بھی نہیں پنپ سکی بلکہ گھیرا اور تنگ ہوتا جارہا ہے اور سیاست کی بازی الٹنے میں ان مشیروں نے کوئی کسر نہیں چھوڑی، لگتا ہے کہ شاید الیکشن کی ضرورت ہی نہ پڑے، حالات بگڑنے میں ایک ہی غلطی کافی ہوتی ہے۔ اگر پرویز مشرف اپنے وزیراعظم شوکت عزیز کے کہنے پر چیف جسٹس پر ہاتھ نہ ڈالتے تو آج آرام سے حکومت کررہے ہوتے اسی طرح اگر میاں صاحب فوج سے سے تنازع کھڑانہ کرتے تو حالات اتنے خراب نہ ہوتے اب سوچئے ہر طرف محاذ ہی محاذ ہونگے تو کون سکون سے حکومت کرسکے گا ؟بے چارے عوام تو خود بے خود ہوکر اپنے مسائل بھول بیٹھے ہیں اور ملک کو اس گردش میں دیکھ کر اللہ سے مدد مانگ رہے ہیں ۔آخر کب اس پاکستان میں سُکھ اور چین ملے گا ہر طرف افراتفری مچی ہوئی ہے رہزنوںسے پالا پڑا ہوا ہے اور مستقبل بھی تاریک ہوتا جارہاہے۔ 70سال سے عوام خوشیوں کو ترس گئے ہیں آج تک نہ جمہوری حکومتوں نے اور نہ ہی فوجی حکومتو ں نے پاکستان کے غریب عوام کے لئے کچھ کیا جو صرف اور صرف اپنے اپنے اقتداروں کو بچانے پا پھر کرپشن میں ہی لگے رہے اور قوم کو وعدوں پر ٹرخاتے رہے اور قوم ہر دفعہ ان کے جھوٹے وعدوں پر اعتبار کرکے پھر ووٹ ان کی جھولیوں میں ڈال کر امیدیں لگائے بیٹھ جاتی ہے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ یہ سارے سیاست دان کم و بیش اندر سے ایک ہی ہیں ۔کاش قوم کو ایک رہبر مل جائے جو ان کے دُکھ درد کا ساتھی ہو اور ملک کے حالات ٹھیک ہوسکیں۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں