آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
ہفتہ 8 ؍ربیع الاوّل 1440ھ 17؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک سیاسی جماعت کی حیثیت سے اپنے 50 سال مکمل کر لئےہیں اور یہ آج بھی پاکستان کی سب سے بڑی اور مقبول سیاسی جماعت ہے ، جو پاکستان کے چاروں صوبوں ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں موجود ہے ۔ پیپلز پارٹی جیسی روشن خیال اور ترقی پسند سیاسی جماعت کا ان حالات میں نصف صدی تک اپنی مقبولیت کے ساتھ موجود رہنا تاریخ کا ایک غیر معمولی واقعہ ہے ۔ اس عرصے میں دنیا کے کئی ممالک میں ترقی پسندانہ سوچ کی حامل کئی سیاسی جماعتیں ختم ہو چکی ہیں اور تاریخ میںگم ہو گئی ہیں ۔ ان 50 سالوں میں پیپلز پارٹی کبھی بھی ’’ غیر متعلق ‘‘ نہیں ہوئی ۔ اس کا سبب جاننا تاریخ کے طالب علموں کے لئے ضروری ہے ۔
30 نومبر 1967 ء کو ممتاز ترقی پسند رہنما ڈاکٹر مبشر حسن کی لاہور کی قیام گاہ پر منعقدہ کنونشن میں پاکستان پیپلز پارٹی کا قیام عمل میں آیا ۔ اس کنونشن میں زیادہ تر ان ترقی پسند رہنماؤں نے شرکت کی ، جو ملک کی ساری ان پارٹیوں میں سے تھے ۔ قیام پاکستان کےبعد اس نئے ملک میں ترقی پسندانہ سیاست شجر ممنوعہ قرار دے دی گئی تھی اور کسی ترقی پسند سیاسی جماعت کو نہ پنپنے دیا گیا ۔ پوری دنیا میں اشتراکی تحریک زوروں پر تھی ۔ قومی آزادی کی تحریکیں بھی شدت کے ساتھ موجود تھیں انقلابات برپا ہو رہے تھے ۔ نو آبادیاتی سلطنتیں

منہدم ہو رہی تھیں اور قومیں آزادی حاصل کر رہی تھیں ۔ روس اور چین میں رونما ہونے والے انقلابات کے اثرات تیزی سے پھیل رہے تھے ۔ سامراجی اور سرمایہ دار بلاک کے لئے پاکستان اپنے محل و قوع کے اعتبار سے بہت اہمیت اختیا رکر گیا تھا ۔ اسے اشتراکی طوفان کو روکنے کے لئے سرمایہ دار ملکوںنےمنصوبہ بندی کر لی تھی ۔ پاکستان کو سیٹو اور سینٹو جیسے عالمی فوجی اتحادوں کا رکن بنایا گیا اور اسے اس خطے میں سرمایہ دارانہ بلاک کے مفادات کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی گئی ۔ اس کیلئےیہ ضروری تھا کہ پاکستان میں کوئی ترقی پسند سیاسی جماعت پنپ نہ سکے ۔ ترقی پسندانہ سوچ رکھنے والی سیاسی قوتوں کے لئے اس قدر خطرناک حالات دنیا کے کسی اور ملک میں شاید نہیں ہوں گے ، جس قدر پاکستان میں تھے ۔
اس پس منظر میں ڈاکٹر مبشر حسن کی رہائش گاہ پر منعقد ہونے والے کنونشن کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے ۔ پاکستان کی ہیئت مقتدرہ نے اس کنونشن کو روکنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ لاہور کے کسی ہال یا ہوٹل میں کنونشن کی اجازت نہیں دی گئی ۔ کنونشن کے دوران ڈاکٹر مبشر حسن کی قیام گاہ کو نئی پارٹی کے کارکنوں نے گھیر رکھا تھا تاکہ یہاں ریاستی ایکشن نہ ہو ۔ کنونشن میں شریک ہونے والوں کو بھی روکا گیا ۔ اس کنونشن میں جے اے رحیم اور شیخ رشید جیسے بزرگ ترقی پسند رہنما اور حنیف رامے ، معراج محمد خان جیسے نوجوان رہنما ملک کے مستقبل کے بارے میں حکمت عملی طے کر رہے تھے ۔ انہوں نے ہی پارٹی کی اساسی دستاویز مرتب کی ۔ جس میں پاکستان کی آزادانہ / غیر جانبدارانہ پالیسی ، پارلیمانی جمہوریت ، اشتراکی معاشی اصلاحات ، روشن خیال اور ترقی پسند سماج ، سرمایہ دارانہ اور جاگیردارانہ استحصال سے نجات کے لئے رہنما اصول متعین کئے گئے ۔ کنونشن میں ذوالفقار علی بھٹو کو پارٹی کا بانی چیئرمین منتخب کیا ۔ یکم دسمبر 1967 ء کی شام جب یہ کنونشن ختم ہوا تو پاکستان کی سیاسی تاریخ کا دھارا اپنا رخ تبدیل کر چکا تھا ۔ مولانا کوثر نیازی نے ذوالفقار علی بھٹو پر اپنی کتاب ’’ دیدہ ور کی داستان ‘‘ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ ’’ کوئی دور اپنے ابراہم کی تلاش میں نہیں ہوتا بلکہ بت شکنی سے بہت پہلے وہ لمحہ اسے جنم دے لیا کرتا ہے ۔ ‘ ‘ ایک عہد بھٹو کو جنم دے چکا تھا ۔ اگرچہ پاکستان میں قد آور ترقی پسند رہنماؤں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی لیکن پاکستان کے لوگ ’’ ماریں گے ، مر جائیں گے ، بھٹو کو لائیں گے ‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے ۔ بعض ترقی پسند رہنما خصوصاً بنگالی رہنماؤں پاکستان عوامی مسلم لیگ ( عوامی لیگ ) میں شامل ہو چکے تھے ۔ مغربی پاکستان کے زیادہ تر ترقی پسند رہنما نیشنل عوامی پارٹی ( نیپ ) میں سیاست کر رہے تھے لیکن بھٹو اپنی پارٹی بنانے سے پہلے پاکستان کی ترقی پسندانہ سیاست کا محور اور عوام کی امنگوں کے ترجمان بن چکے تھے ۔ ان سے زیادہ سیاست کا ادراک کسی اور کو نہیں تھا اور عوام سے رومانویت کا رشتہ بھی ان سے زیادہ کسی اور رہنما کا نہیں تھا ۔ پیپلز پارٹی کے قیام سے پہلے ایوب خان کے خلاف تحریک میں ہم نے این ایس ایف کے پلیٹ فارم سے بھرپور حصہ لیا ۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ملک بھر کے ترقی پسند طلباء کے کئی اجتماعات سے کراچی میں خطاب کر رہے تھے اور میں نے بھٹو کو بہت قریب سے دیکھا اور محسوس کیا ۔ پیپلز پارٹی اپنے قیام کے بعد ایوب خان کے خلاف تحریک میں اگلے محاذوں پر آ گئی ۔ مجھے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں پیپلز پارٹی کے ابتدائی کارکنوں میں شامل تھا اور پھر محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں طویل عرصے تک پیپلز پارٹی سندھ کا سیکرٹری جنرل بھی رہا ۔
میں نے ذوالفقار علی بھٹو کے سیاسی وژن سے ایک راز حاصل کیا ہے ۔ وہ راز یہ ہے کہ ’’ شخصیات اور نظریات تاریخ کے دروازے سے باہر رہتے ہیں ، تاریخ میں بدلتے دھاروں میں رہنے کے لئے عوام سے لازوال محبت ضروری ہے ۔ ‘ ‘ یہی پیپلز پارٹی کی بقاکا راز ہے ۔ سیاست جامد نہیں ہوتی ۔ سیاست ہوا میں بھی نہیں ہوتی ۔ درست سیاسی فیصلوں کے لئے تاریخ کا ادراک ،پوری دنیا کے حالات سے باخبر ہونا اور مستقبل کے امکانات کا شعور ضروری ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے پیپلز پارٹی کو کسی ایک عہد یا نظریے میں جکڑنے نہیں دیا ۔ وہ دیکھ رہے تھے کہ سوشلزم کا بھی ایک عہد ہے ، جو نئے عہد میں نئے تقاضوں سے دوچار ہو گا ۔بھٹو جانتے تھے کہ یہ عہد جلد ختم ہو گا ۔ انہوں نے مستقبل پر نظر رکھتے ہوئے علاقائی اور اسلامی بلاکس اور غیر وابستہ ملکوں کے اتحاد کے لئے کوششیں کیں بھٹو کی شہادت کے 8 سال بعد سرد جنگ کا عہد ختم ہو گیا اور دنیا پر امریکی واحد سپر پاور کی بالادستی والا نیو ورلڈ آرڈر رائج ہو گیا ۔ یہ تاریخ انسانی کا سب سے زیادہ خطرناک عہد تھا ۔ ریاستوں نے ترقی پسند اور مقبول عوامی قوتوں کو کچلنے کے لئے غیر ریاستی عناصر ( دہشت گردی ) کو پروان چڑھایا ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو نے اس مشکل ترین عہد میں نہ صرف پارٹی کو زندہ اور متحرک رکھا بلکہ ضیا الحق کی آمریت کے خلاف اس خطے کی تاریخ کی سب سے بڑی مزاحمتی تحریک ( ایم آر ڈی ) کی قیادت کی ، جب دنیا میں مزاحمتی تحریکیں دم توڑ چکی تھیں ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد نیو ورلڈ آرڈر اپنے منطقی انجام کی طرف بڑھتے ہوئے زیادہ متشدد ہو گیا ۔ دنیا میں نئی صف بندیاں شروع ہو چکی تھیں ۔ یہ مزید مشکل اور پیچیدہ دور تھا ، جس میں پاکستان کی ترقی پسند سیاسی قوتیں عالمی طاقتوں کے قہر کا سب سے بڑا ہدف تھیں ۔ اس نئے عہد میں آصف علی زرداری نے پارٹی کو نہ صرف سنبھالا بلکہ اس میں نئی روح پھونک دی۔
دنیا میں تیزی سے رونما ہونے والی تبدیلیوں میں روسی کمیونسٹ پارٹی جیسی مضبوط سیاسی جماعت اپنا وجود کھو بیٹھی ۔ چین کی کمیونسٹ پارٹی دنیا کی ان چند سیاسی جماعتوں میں سے ایک ہے ، جو نہ صرف باقی ہے بلکہ اب پوری دنیا کی قیادت کی ذمہ داری اپنے سر لے رہی ہے ۔ چینی کمیونسٹ پارٹی ہر وقت بدلتے ہوئے حالات کا تجزیہ کرتی ہے اور اس حوالے سے پارٹی دستاویز مرتب کرتی ہے ۔ پیپلز پارٹی میں پارٹی دستاویز بنانے کا اگرچہ چینی کمیونسٹ پارٹی جیسا منظم ادارہ نہیں ہے لیکن پیپلز پارٹی نے آصف زرداری کی قیادت میں پارٹی کو کبھی بھی غیر متعلق نہیں ہونے دیا ۔ پیپلز پارٹی کی موجودہ قیادت خاص طور پر آصف علی زرداری اور بلاول بھٹو زرداری کی پالیسیوں کا تفصیلی تجزیہ نہیں ہو سکتا لیکن ان کا موجودہ حالات میں سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی تعاون کی پیشکش کو مسترد کرنا میرے خیال میں درست فیصلہ ہے کیونکہ بدلتے ہوئے علاقائی اور عالمی حالات میں میاں نواز شریف اپنی سیاسی بقاء کے لئےجو کچھ کرنے جا رہے ہیں ، وہ پاکستان کو مشکلات میں ڈال سکتا ہے ۔کوئی لیڈر اور سیاسی پارٹیاں کا معروضی حالات میں عوام اور قوم کی بہتری کا راستہ نکالنا ہی اسکے رول کو طے کرتا ہے۔ آصف زرداری نے ثابت کیا ہے کہ وہ pragmatic, visionary اور معروضی حالات میں راستہ نکالنا جانتے ہیں۔ بہرحال دلائل کچھ بھی ہو ۔ وقت نے ثابت کر دیا ہے کہ بھٹو ایک شخصیت نہیں بلکہ ایک فلسفہ تھے اور پیپلز پارٹی ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ عوام کی ایک تحریک ہے ۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں