آپ آف لائن ہیں
جنگ ای پیپر
بدھ5؍ ربیع الاوّل 1440ھ 14؍نومبر2018ء
Namaz Timing
  • بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیئرمین و ایگزیکٹوایڈیٹر: میر جاوید رحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

5 نومبر کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور پنجاب کےبڑے شہرراولپنڈی کو ملانےوالی مرکزی شاہراہ بند کردی گئی، جڑواں شہروں کے لاکھوں مکین بےبس ہوکر رل گئے جبکہ ملک اور بیرون ملک مقیم پاکستانی خوف وپریشانی میں مبتلا ہوگئے،بہرطورشاید مقصد بڑا تھا لہذا اس کےحصول میں کچھ دن لگے اورمہربان کو بھی آنے میں کچھ تاخیر ہوئی،لیکن دیرآید درست آید کےمصداق ایک اور عذاب تمام ہوا۔!تاہم یہ پہلا دھرنا تھا نہ ہی بےبس عوام پہلی بار خواری کےبدترین عذاب سے گزرےبلکہ اب توعوام منتظر رہتے ہیں کہ اگلا دھرنا کہاں اورکب ہوگا؟ہاں تعجب کی بات ہےکہ دھرنےکے انجام کی عوام کو پہلےہی مخبری ہوجاتی ہےکہ کسی وزیر،مشیر کی قربانی ہوگی اور معاملہ خوش اسلوبی سےختم ہوجائے گا ، دھرنےوالےبھی خوش اور حکومت بھی یعنی’’کمزور نہ ہوں گے تو کیا نام نہ ہوگا‘‘ …!
پرانےادوار میں دئیے جانے والے دھرنوں کونظراندازکربھی دیاجائے تو ایک دہائی کی آمریت کےبعد دوسرے جمہوری دور میں دھرنے معمول بن چکےہیں،یہ دھرنے کون ،کیوں اور کیسےکراتاہے اس کاتواعلیٰ عدلیہ بھی ابھی تک پتہ نہیں لگاسکی تاہم ان دھرنوں کا طریقہ واردات ،رنگ ڈھنگ، اسکرپٹ اورٹائمنگ ایک سی رہی، فرق محض اتنا ہےکہ ہرنئےدھرنے پراس کے فنکار ، کرداراورساہوکار بدل دئیےجاتےہیں۔حیرت اور

پریشانی کی بات یہ بھی ہےکہ ہرمرتبہ منتخب حکومت کو اپنا اقتدار بچانے کی فکرہوتی ہے اوراب تک اس میں کامیاب بھی ہوتی آئی ہے لیکن دن رات گھروں میں زبردستی بے گناہ وبلاجواز قید وبند کا عذاب اور رزق کی تلاش میں نکلنے والے عوام کی سخت مشکلات اورذلت اٹھانے کا احساس نہیں کیا جاتا ۔ایسی بےحسی کیوں ہےاس کاکوئی جواب نہ بھی دے توکم ازکم یہ امر روز روشن کی طرح عیاں ہےکہ ان دھرنوں سے عوام کے ساتھ ناانصافی بلاامتیاز اوربلا تفریق کی جاتی ہے شاید یہ اصول وضع کردیاگیاہےکہ دور آمریت ہو یا جمہوریت ،جمہور کا حشر ایک سا ہی ہوگا۔
دھرنا سیاست میں دوسروں کو آئینہ دکھانے والےالیکٹرانک میڈیا کے بعض چینلزکا کرداربھی بہت ’پیشہ ورانہ ‘ اور’شاندار‘ رہاہے،ٹکڑوں پر بٹےمیڈیا کےکچھ چینلز نےعوام تک حقائق اور سچ پہنچانے کا کام اس خوبی سے انجام دیاکہ عقل ودانش محوتماشہ ہےکہ اتناسچ امپورٹ کہاں سےکیاجاتاہےکئی مرتبہ تو ان کی زبان کی صفائی پر ان کےماسٹر بھی حیران اور ان کی پرفارمنس پر داد دینے پرمجبور ہوجاتےہیں۔اسی لئے اسٹیج سے نافرمان میڈیا گروپ کے بائیکاٹ کا اعلان کردیاجاتاہے۔میرے منہ میں خاک ، اگلے دھرنے اسٹرٹیجی کی کامیابی کےلئےبعض پیشہ ور اینکرز کایہی کردار رہاتوعوام کے دل میں میڈیا کا مقام اور محبت وہی رہ جائےگی جو ہمارے ملک میں ایک وردی والے سول ادارے(پولیس سے معذرت)کےاہلکاروں کوحاصل ہےجنہیں دیکھتے ہی عوام پناہ مانگتےہیں۔میڈیاکی من گھڑت اسٹوریز اور جھوٹے افسانوں کےاثرات اور انکی روک تھام کا دل تھام لینے والااحساس مجھے امریکہ میں اس وقت شدت سےہوا جب نیویارک میں "فورتھ پلر"نے اس اہم ترین موضوع پرپہلی عالمی کانفرنس کا انعقاد کیا۔ پی ایف یوجےکےسربراہ افضل بٹ اورنیشنل پریس کلب کےصدرشکیل انجم،سینئراینکرجاویداقبال ،ایچ آراو پی کےمشیرظہیرمہر،سیدعلمدارشاہ سمیت کئی صحافتی تنظیموں کےنمائندوں اورسینئرصحافیوں نے معاملے کی سنگینی کو بھانپتےہوئے روک تھام کی اہم تجاویز پیش کردیں۔تنظیم کےسربراہ فاروق مرزانےعمل درآمد کےاقدامات کے بارے میںآئندہ کانفرنس پاکستان میں کرانے کا اعلان توکیاہےتاہم اتنےبڑےٹاسک پران کے قول وفعل کی سچائی اور ارادوں کو حقیقت کا روپ دینے کا انتظار ہے۔دوسروں کی طرف دیکھنےکی بجائے آزادمیڈ یاپرازحد لازم ہےکہ وہ خود اپنےاندر بھی ذمہ داری کااحساس اور شعور پیدا کرے،قلم اورکیمرے کی حرمت اورناموس کی حفاظت کا اہتمام ہرصورت یقینی بنائے،یہی طریق باعزت بقا کا ضامن بن سکتاہے۔
بلاشبہ مہذب معاشروں میں اپنےحقوق کیلئے باہر نکلنا اورجدوجہد کرنا ہرشہری کا بنیادی اور جمہوری حق ہےلیکن کسی دوسرے کےایجنڈے پر باہر نکلنا، راستے بند کرنا،اپنےبہن بھائیوں بچوں اور بوڑھوں کو شدید زحمت وتکلیف میں مبتلا کرنا،اپنےگھرکوآگ لگانا ،وطن عزیزکی عالمی سطح پر بدنامی کا باعث بننا،کس حق اور جدوجہد کی عکاسی کرتاہے،بظاہر22 روزہ کامیاب دھرنے اور اس دورمیں "آرگنائز" کردہ دھرنوں کا ایک مشترک اوراہم ترین پہلو شاید یہ بھی ہےکہ اس دھرنے کو بھی طاقت وروںنےمداخلت کرکےاپنی گارنٹی پرخود ختم کرایا۔لیکن خود غرض اور "نااہل" حکومت نےابھی تک خود اورمعصوم عوام کو مشق ستم بننے سےروکنے کےلئے خود کوبدلا ،بہتربنایا نہ کچھ سیکھا اور نہ ہی اپنے کئے پرکبھی پچھتائی،چار سال سےجاری اس سوپ کی تازہ قسط میں نئے "خادم " نے بھی پرانےتجربہ کار"کھلاڑی " کی طرح اپنے بےباک خطابات سے نہ صرف خود کو ایکسپوز کیا بلکہ اس مقام تک پہنچانے والوں کا بھی شدومد سے بار بار تذکرہ کیا۔عدالت کی بےبسی کےبعد منتخب عوامی حکومت گھٹنوں کےبل گری تو وفاداری کےثبوت پرمہرثبت کرنے کےلئے معاہدے میں ان سے اظہار تشکر کی لائن بھی ڈلوای دی تاکہ سند رہے اور آئندہ بوقت ضرورت کام آوے۔خوفناک امر تویہ بھی ہےکہ اس مرتبہ تودھرنے والےووٹوں کےحلال اورحرام کی تمیز بھی بتاکرگئےہیں ۔۔دوسری طرف گزشتہ چار برسوں میں پہلی مرتبہ جوبات لوگ چھپ چھپاکر کرتے تھے وہی بات ایک اعلیٰ عدلیہ کےسینئرجج نےریماکس کی صورت میں ریکارڈ کا حصہ بنادی ہے۔اس سینئرجج کے ریمارکس کیا عندیہ دے رہے ہیں اور کس خدشے کی نشاندہی کررہے ہیں خدارا اس پر سوچیں کہیں یہ نہسمجھاجائےکہ حکومت کونکالنےیا دبائو برقرار رکھنے کیلئے دھرنے کئے جاتےہیں،قومی خزانے سےبھاری اخراجات کئے جاتےہیں ،مقاصد پورے ہوجائیں تو معاہدے کرکے فساد مچانےوالوں کو باعزت گھر بھجواد یا جاتاہےیہ سلسلہ بند نہ ہواتوکہیں ایسا نہ کہ اگلا دھرنا "آپ" کےخلاف بیٹھ جائے۔
موجودہ حکمرانوں کی ایک خوبی یہ بھی ہےکہ اقتدار بچانے کےلئےاپنےوزیراعظم سمیت اہم وزراء کی قربانی توبےچوں چرا دیتے ہیں لیکن سچ بولنے اور حقیقت بیاں کرنے کی ہمت نہیں کرتے،ایک ذریعےنےانکشاف کیاہےکہ یہ بھی کسی بڑی سیاسی چال کا حصہ ہےاور چھپےحقائق کووقت آنے پر عوام کےسامنےثبوتوں کے ساتھ رکھا جائے،یہ درست بھی مان لیاجائےتو خدشہ یہ ہےکہ اس مناسب وقت کےانتظار میں کہیں بہت دیر نہ ہوجائے۔عوام کو گونگا ،بہرہ سمجھ کراشاروں کی زبان میں انکشافات کی بجائے ہمت کرنے کا وقت آن پہنچاہے کہ ورنہ آپ کی 100 پیاز کےساتھ جوتے کھانے کی مشق بھی جاری رہےگی اور عوام کی مصیبتوں اورپریشانیوں میں اضافہ ہوتا رہےگا۔ ریاست کےتینوں اہم ادارے اور میڈیا حقیقی فورتھ پلر کی حیثیت سےعوام کی جمہوریت اور جمہوری اقدار پر اعتماد کی بحالی کی کوششیں تیز کریں ،ورنہ ملک میں اقتدار اور اختیار کےحصول کی جاری کشمکش کہیں ملک کو کسی بڑے بحران یا سانحہ کا شکارنہ کردے۔

Chatاپنی رائے سے آگاہ کریں